ادارتی تجزیہ
پاکستان کی معلوماتی ٹیکنالوجی (آئی ٹی) برآمدات کے اعداد و شمار یقیناً ایک مثبت تصویر پیش کرتے ہیں۔ مالی سال 2021 میں کمپیوٹر سروسز کی برآمدات 1.67 ارب ڈالر تھیں، جو مالی سال 2025 تک بڑھ کر 3.24 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ اسی طرح مجموعی معلوماتی و مواصلاتی ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) برآمدات 3.81 ارب ڈالر تک جا پہنچیں۔ ادائیگیوں کے توازن کے مسائل اور کمزور سرمایہ کاری سے دوچار معیشت کے لیے یہ پیش رفت قابلِ تحسین ہے۔
تاہم پاکستان بزنس کونسل اور سینٹر فار ڈویلپمنٹ پالیسی ریسرچ کی رپورٹ “پاکستان کے آئی ٹی اثر و رسوخ میں توسیع” اس کامیابی کے پس منظر میں ایک اہم حقیقت بھی سامنے لاتی ہے۔ اگرچہ شعبہ حجم کے اعتبار سے بڑھ رہا ہے، لیکن اس کی حقیقی قدر اور مضبوطی اب بھی محدود ہے۔ زیادہ تر برآمدات فری لانسنگ، افرادی قوت کی فراہمی اور کاروباری عمل کی بیرونی خدمات جیسے شعبوں پر مشتمل ہیں۔ یہ وہ شعبے ہیں جو مصنوعی ذہانت، خودکار نظاموں اور عالمی سطح پر قیمتوں میں کمی کے رجحان سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2021 سے 2025 کے دوران فری لانس لین دین کی اوسط مالیت میں کمی آئی ہے، حالانکہ مجموعی سرگرمی میں اضافہ ہوا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کام کرنے والوں کی تعداد تو بڑھ رہی ہے، لیکن ہر کام سے حاصل ہونے والی آمدنی کم ہو رہی ہے۔
افرادی قوت کا مسئلہ بھی اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔ پاکستان ہر سال بڑی تعداد میں آئی ٹی گریجویٹس پیدا کرتا ہے، لیکن ان میں سے صرف ایک محدود تعداد ہی فوری طور پر ملازمت کے قابل ہوتی ہے۔ مسئلہ صرف فنی مہارتوں کا نہیں بلکہ مؤثر ابلاغ، وقت پر کام کی تکمیل، پیشہ ورانہ ذمہ داری اور گاہکوں کے ساتھ تعلقات کو بہتر انداز میں سنبھالنے کی صلاحیت کا بھی ہے۔ یہی خصوصیات کسی کمپنی کو محض خدمات فراہم کرنے والے ادارے سے ایک قابلِ اعتماد شراکت دار بناتی ہیں، اور پاکستان ابھی تک بڑے پیمانے پر اس مقام تک نہیں پہنچ سکا۔
ساختی اعتبار سے بھی یہ شعبہ کافی منتشر ہے۔ رسمی آئی ٹی صنعت میں زیادہ تر ادارے بہت چھوٹے پیمانے پر کام کر رہے ہیں۔ پاکستان کی چند ہی کمپنیاں ایسی ہیں جو عالمی سطح پر نمایاں شناخت حاصل کر سکی ہیں۔ بھارت کے آدھار یا یو پی آئی جیسے بڑے قومی منصوبوں کی مثالیں موجود نہ ہونے کے باعث پاکستانی کمپنیوں کو عالمی اعتماد حاصل کرنے کے لیے زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
دوسری جانب ضابطہ جاتی رکاوٹیں بھی ترقی کی رفتار کو سست کرتی ہیں۔ ٹیکس پالیسی میں غیر یقینی صورتحال، بینکاری نظام کی مشکلات، زرمبادلہ سے متعلق پابندیاں اور ادائیگیوں میں تاخیر جیسے مسائل ہنر مند افراد اور ان کی آمدنی کو ملک سے باہر منتقل ہونے پر مجبور کرتے ہیں۔ یہ مسائل حل کیے جا سکتے ہیں، لیکن اس کے لیے مستقل اور مضبوط سیاسی عزم درکار ہے، جو اب تک تسلسل کے ساتھ نظر نہیں آیا۔
پاکستان کے پاس اب وقت محدود ہوتا جا رہا ہے۔ اصل انتخاب صرف آئی ٹی برآمدات میں اضافے یا جمود کے درمیان نہیں، بلکہ ایک مضبوط، پائیدار اور مسابقتی شعبہ تعمیر کرنے اور مستقبل میں مصنوعی ذہانت و خودکار نظاموں کی نئی لہر کے سامنے کمزور پڑ جانے کے درمیان ہے۔








