“جب مشرقی ایشیا کے رہنما اپنے معاشروں کو جدید بنانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ اپنے معاشروں کی تاریخی جدیدکاری کے تجربات سے رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں، لیکن جب جنوبی ایشیا کے رہنما جدیدکاری کی کوشش کرتے ہیں تو ان کے پاس ایسا کوئی تاریخی تجربہ موجود نہیں ہوتا۔”
جنوبی ایشیا میں جدیدکاری اور میرٹ پر مبنی نظام کا آغاز بنیادی طور پر نوآبادیاتی دور سے ہوا۔ مشرقی ایشیا کے برعکس، جہاں صدیوں کے دوران ریاستی نظم و نسق اور میرٹ کی مضبوط روایات پروان چڑھیں، جنوبی ایشیا میں آج بھی قبائلی، خاندانی اور سرپرستی پر مبنی وفاداریاں غالب ہیں۔ یہاں فرد کی وفاداری ریاست کے مقابلے میں اپنے خاندان، برادری یا مقامی گروہ کے ساتھ زیادہ مضبوط ہوتی ہے۔ اسی لیے بہت سے لوگ سرکاری ملازمت ریاستی خدمت کے لیے نہیں بلکہ مقامی مفادات اور ذاتی تعلقات کے تحفظ کے لیے اختیار کرتے ہیں۔
جنوبی ایشیا میں اقتدار، سرپرستی اور مراعات کے حصول کا رجحان غالب ہے۔ لوگ سرکاری ملازمت اس لیے چاہتے ہیں کہ موجودہ ترغیبی نظام محنت، کارکردگی اور قابلیت کے بجائے اختیار اور مراعات کو زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ یہ ذہنیت صرف سرکاری اداروں تک محدود نہیں بلکہ صنعت کار بھی آزاد مسابقت کے بجائے ریاستی تحفظ کے حصار میں کاروبار کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ وہ مقابلے سے گھبراتے ہیں کیونکہ مقابلہ جدت اور کارکردگی کا تقاضا کرتا ہے۔
ہماری ثقافت موروثیت اور صوابدیدی فیصلوں پر قائم ہے۔ بہت سی کمپنیوں میں ایک نہایت قابل ملازم بھی سربراہ نہیں بن سکتا کیونکہ ادارے کی قیادت خاندان کے وارث کو منتقل ہونا طے ہوتی ہے، نہ کہ اہل ترین فرد کو۔ ارتھ شاستر میں کہا گیا ہے کہ حکمران کو عہدے افراد کی صلاحیت کے مطابق دینے چاہییں، لیکن عملی طور پر یہ فیصلہ بھی حکمران کی صوابدید پر منحصر تھا کہ کون اہل ہے اور کون نہیں۔
اس کے برعکس، چین میں ایک مختلف روایت نے جنم لیا۔ ایک عظیم فکری انقلاب کے نتیجے میں وہاں یہ تصور مضبوط ہوا کہ میرٹ کا معیار تعلیمی قابلیت، علمی برتری اور عملی تجربہ ہونا چاہیے، نہ کہ صرف حکمران کی ذاتی رائے۔ اسی سوچ نے ایک پیشہ ور اور مضبوط انتظامی ڈھانچے کی بنیاد رکھی، جو صدیوں تک ریاست کی قوت کا سرچشمہ بنا رہا۔
اگر پاکستان کو حقیقی معنوں میں جدید ریاست بننا ہے تو اسے اپنی سول سروس کے معیار کو بلند کرنا ہوگا۔ اکیسویں صدی کے پیچیدہ مسائل ایسے سرکاری نظام کا تقاضا کرتے ہیں جو پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور تخصص پر قائم ہو۔ ایک پیشہ ور سول سروس ہی عوام کو مؤثر خدمات فراہم کر سکتی ہے اور ریاستی اداروں کو مضبوط بنا سکتی ہے۔
البتہ جدیدکاری کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان جاپان، جرمنی یا چین بن جائے۔ ہر قوم اپنی تاریخ، ثقافت اور سماجی حالات کے مطابق ترقی کرتی ہے۔ پاکستان کا مقصد کسی اور کی نقل کرنا نہیں بلکہ اپنی ریاستی صلاحیت، میرٹ، پیشہ ورانہ مہارت اور قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنا کر اپنے ہی بہتر اور زیادہ مؤثر روپ میں ڈھلنا ہونا چاہیے۔









