آزاد عدلیہ کے ساتھ جوابدہ عدلیہ بھی ضروری ہے

[post-views]
[post-views]

آزاد عدلیہ ہر آئینی جمہوریت کی بنیادی ضرورت ہے۔ عدالتوں کو سیاسی دباؤ، انتظامی مداخلت اور ذاتی اثر و رسوخ سے مکمل آزادی حاصل ہونی چاہیے تاکہ وہ آئین کی حفاظت کر سکیں اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنا سکیں۔ لیکن آزادی کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ عدلیہ کسی بھی قسم کی جوابدہی سے بالاتر ہو جائے۔ جمہوری ریاست میں ہر ادارہ عوام کی خدمت کے لیے قائم ہوتا ہے، اس لیے عدلیہ بھی اس اصول سے مستثنیٰ نہیں ہو سکتی۔

پارلیمنٹ اپنی قانونی حیثیت عوام کے ووٹ سے حاصل کرتی ہے۔ عوام اپنے منتخب نمائندوں کو قانون سازی کا اختیار دیتے ہیں، اس لیے پارلیمنٹ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ عدلیہ کے انتظامی امور، مالی نظم، ادارہ جاتی کارکردگی اور احتساب کے لیے ایسے قوانین بنائے جو عدالتی آزادی کو متاثر کیے بغیر نظام کو بہتر بنائیں۔ مقصد فیصلوں پر اثرانداز ہونا نہیں بلکہ عدالتی ادارے کو زیادہ مؤثر، شفاف اور ذمہ دار بنانا ہے۔

پاکستان کا عدالتی نظام سنگین مسائل کا شکار ہے۔ لاکھوں مقدمات برسوں بلکہ کئی دہائیوں تک زیرِ التوا رہتے ہیں۔ مسلسل التوا، غیر ضروری تاخیر اور مقدمات کا انبار عوام کے اعتماد کو کمزور کر چکا ہے۔ انصاف میں تاخیر صرف انتظامی خامی نہیں بلکہ شہریوں کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ کوئی بھی معاشرہ ایسا نظام زیادہ عرصہ برداشت نہیں کر سکتا جہاں انصاف نسلوں تک مؤخر ہوتا رہے۔

اسی طرح ججوں کو دی جانے والی مراعات، سہولتیں اور آئینی تحفظات بھی وقتاً فوقتاً جائزے کے مستحق ہیں۔ یہ مراعات اس لیے دی جاتی ہیں کہ عدلیہ اعلیٰ ترین دیانت، قابلیت اور کارکردگی کا مظاہرہ کرے۔ اس کے ساتھ ایک شفاف اور معروضی کارکردگی جانچنے کا نظام بھی ہونا چاہیے، جس میں مقدمات کے بروقت فیصلے، عدالتی نظم، پیشہ ورانہ معیار اور اخلاقی ذمہ داری کو پیمانہ بنایا جائے۔ اس جائزے کا تعلق فیصلوں کے مواد سے نہیں بلکہ عدالتی خدمت کے معیار سے ہونا چاہیے۔

عدلیہ کی اصل طاقت عوام کا اعتماد ہے۔ یہ اعتماد صرف آزادی سے نہیں بلکہ شفافیت، کارکردگی اور جوابدہی سے پیدا ہوتا ہے۔ ایک ایسی عدلیہ جو آزاد بھی ہو اور جوابدہ بھی، وہی آئین، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کی حقیقی محافظ بن سکتی ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]