آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی، امریکا اور ایران کی کشیدگی سے بحری خطرات میں اضافہ

[post-views]
[post-views]

لندن: امریکا کی جانب سے ایران پر نئے فضائی حملوں اور اس کے جواب میں تہران کی خلیجی خطے میں جوابی کارروائیوں کے بعد آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت تقریباً معطل ہو گئی ہے، جس سے عالمی توانائی کی رسد اور بین الاقوامی بحری تجارت کے حوالے سے خدشات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

جہاز رانی کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق جمعرات کی ابتدائی ساعتوں میں صرف دو تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے۔ ان میں ایک خام تیل بردار دیوہیکل جہاز تھا، جس نے ایران کے خارگ جزیرے سے تیل لادا تھا اور جو امریکی پابندیوں کی زد میں ہے۔

دوسرا جہاز مارشل جزائر کے پرچم تلے چلنے والا ایک کیمیائی مصنوعات بردار بحری جہاز تھا، جس نے بھی آبنائے ہرمز عبور کی۔ جہازوں کی نگرانی کرنے والے ذرائع کے مطابق اس جہاز نے اس سے قبل متحدہ عرب امارات کے شہر شارجہ کے قریب سامان لادا تھا۔

بحری صنعت سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے خطرات کے باعث متعدد جہاز اپنے خودکار شناختی نظام بند کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

توانائی کے امور کے ماہرین کے مطابق تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت میں یہ غیر معمولی کمی اس بات کا اظہار ہے کہ جہاز رانی کی صنعت موجودہ حالات کو انتہائی خطرناک تصور کر رہی ہے، خواہ واشنگٹن اور تہران کی جانب سے سرکاری بیانات کچھ بھی ہوں۔

امریکا اور ایران کے درمیان تین ہفتے قبل ہونے والی جنگ بندی بھی تازہ کشیدگی کے بعد شدید دباؤ کا شکار ہو گئی ہے۔ ایرانی مسلح افواج نے جمعرات کو خلیجی خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا اور اسے ایران کے جنوبی اور مشرقی علاقوں پر امریکی فضائی حملوں کا جواب قرار دیا۔

موجودہ بحران کا آغاز اس ہفتے آبنائے ہرمز میں تین تجارتی جہازوں پر حملوں سے ہوا، جن کا الزام امریکا نے ایران پر عائد کیا، تاہم تہران نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کسی بھی قسم کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

ایران کی انقلابی محافظ فورس کی بحری شاخ نے الزام عائد کیا کہ امریکا آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی کے عمل میں مداخلت کر رہا ہے۔ ایرانی حکام نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے مزید عسکری مداخلت کی تو اس کا بھرپور اور سخت جواب دیا جائے گا۔

فروری میں جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا میں سمندری راستے سے منتقل ہونے والے تقریباً پانچویں حصے کے برابر خام تیل کی ترسیل آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی تھی۔ اگرچہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران بحری آمدورفت میں کچھ بہتری آئی تھی اور روزانہ اوسطاً چالیس جہاز اس راستے سے گزر رہے تھے، تاہم یہ تعداد جنگ سے پہلے روزانہ گزرنے والے ایک سو پچیس سے ایک سو چالیس جہازوں کے مقابلے میں اب بھی خاصی کم ہے۔

حالیہ حملوں کے بعد بحری بیمہ فراہم کرنے والی متعدد کمپنیوں نے جہاز رانی کے اداروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ فی الحال آبنائے ہرمز سے سفر محدود رکھیں، جبکہ کئی ادارے جنگی خطرات سے متعلق اپنی بیمہ پالیسیوں پر نظرثانی بھی کر رہے ہیں۔

بین الاقوامی جہاز رانی کے اداروں کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں کی بحالی کا عمل تازہ کشیدگی کے باعث مزید غیر یقینی صورت اختیار کر گیا ہے۔

اس ہفتے حملے کا نشانہ بننے والے جہازوں میں قطر کا مائع قدرتی گیس بردار بحری جہاز بھی شامل ہے، جو مارشل جزائر کے پرچم تلے رجسٹرڈ ہے۔ یہ جہاز عمان کے ساحل کے قریب اب بھی امدادی کارروائیوں کا منتظر ہے، جہاں ایک میزائل نما شے لگنے سے اس کے انجن والے حصے میں آگ بھڑک اٹھی تھی۔

بحری صنعت سے وابستہ ذرائع کے مطابق فی الحال دھماکے کا خطرہ محدود ہے اور جہاز میں موجود مائع قدرتی گیس محفوظ ہے۔ مارشل جزائر کے جہازوں کے رجسٹری ادارے نے بھی تصدیق کی ہے کہ اس واقعے میں کسی جانی نقصان یا ماحولیاتی آلودگی کی اطلاع نہیں ملی۔

بحری بیمہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ واقعات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث قیمتی تجارتی جہازوں کو شدید مالی اور عملی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

ری پبلک پالیسی تھنک ٹینک کی شہرۂ آفاق کتاب دی بیوروکریٹک کو سمیت دیگر مقبول ترین کتابیں وینگارڈ، لبرٹی، ریڈنگز، کتاب سرائے، سنگِ میل، سعید بک بینک اسلام آباد، نیشنل بک فاؤنڈیشن اور پاکستان بھر کے دیگر معروف کتب فروشوں کے پاس دستیاب ہیں۔ گھر بیٹھے کتابیں منگوانے کے لیے رابطہ کریں: 03009552542۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]