کچھ عرصہ پہلے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والا عالمی توانائی بحران بتدریج ختم ہو رہا ہے۔ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال ہونے لگی، تیل بردار جہاز دوبارہ سفر کرنے لگے اور خام تیل کی عالمی قیمتیں جنگی دور کی بلند سطح سے کم ہو کر نسبتاً مستحکم ہو گئیں۔ عالمی منڈی میں خدشہ قلتِ رسد کا نہیں بلکہ ممکنہ اضافی رسد کا پیدا ہونے لگا تھا۔
لیکن یہ اطمینان زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکا۔ تجارتی جہازوں پر نئے حملوں اور امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی نے عالمی منڈی کو یاد دلایا کہ اگرچہ آبنائے ہرمز بند نہیں، لیکن اب بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں۔ اسی غیر یقینی صورتحال نے برینٹ خام تیل کی قیمت کو دوبارہ اسی ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچا دیا اور توانائی کی منڈی میں جغرافیائی سیاسی خدشات ایک بار پھر غالب آ گئے۔
اصل مسئلہ اب صرف تیل کی دستیابی نہیں بلکہ اس کی محفوظ اور بلا تعطل ترسیل ہے۔ بحری کمپنیوں کو زیادہ انشورنس اخراجات، سکیورٹی انتظامات اور سفری خطرات کا سامنا ہے۔ اگرچہ خلیجی ممالک سے خام تیل کی برآمدات میں بہتری آئی ہے، لیکن ریفائنریوں کی مکمل بحالی اور پیٹرول، ڈیزل، ہوائی ایندھن اور دیگر تیار شدہ مصنوعات کی فراہمی ابھی معمول پر نہیں آئی۔
پاکستان جیسے درآمدی معیشت رکھنے والے ممالک کے لیے یہ صورتحال خاص اہمیت رکھتی ہے۔ ملکی ایندھن کی قیمتیں صرف خام تیل پر منحصر نہیں ہوتیں بلکہ عالمی سطح پر تیار شدہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے بھی متاثر ہوتی ہیں۔ اس لیے خام تیل سستا ہونے کے باوجود عوام کو لازماً اسی تناسب سے ریلیف نہیں ملتا۔
جون کے اختتام پر امید پیدا ہوئی تھی کہ کم ہوتی ہوئی عالمی قیمتیں پاکستان کے درآمدی بل، مہنگائی اور بیرونی مالی دباؤ میں کمی لائیں گی، مگر تازہ علاقائی کشیدگی نے ان امکانات کو کمزور کر دیا ہے۔ عالمی منڈی اب صرف پیداوار نہیں بلکہ محفوظ رسد پر بھی منحصر ہے۔
آج مسئلہ تیل کی قلت کا نہیں بلکہ اس کی محفوظ نقل و حمل کا ہے۔ جب تک آبنائے ہرمز میں مکمل استحکام بحال نہیں ہوتا، عالمی توانائی منڈی غیر یقینی کیفیت کا شکار رہے گی، اور پاکستان جیسے ممالک کو اپنی توانائی اور معاشی حکمتِ عملی میں مسلسل احتیاط اور دور اندیشی اختیار کرنا ہوگی۔









