امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک مرتبہ پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر نئے فوجی حملوں کے الزامات عائد کیے ہیں، جس کے باعث پہلے سے کمزور جنگ بندی کے مکمل طور پر ناکام ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
امریکی مرکزی کمان نے اعلان کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز کے قریب واقع گریٹر تنب جزیرے پر ایرانی ساحلی دفاعی نظام اور کروز میزائلوں کے ذخائر اور لانچنگ مقامات کو نشانہ بناتے ہوئے نوے منٹ پر مشتمل فوجی کارروائی مکمل کی۔ امریکی حکام کے مطابق اس کارروائی کا مقصد ایران کی تجارتی جہاز رانی کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا تھا۔
اس سے قبل رات کے وقت بھی امریکی لڑاکا طیاروں، ڈرونز اور بحری جنگی جہازوں نے ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں اور آبنائے ہرمز کے اطراف متعدد فوجی اہداف پر حملے کیے۔ اسی دوران واشنگٹن نے ایرانی بندرگاہوں سے متعلق بحری نقل و حرکت پر اپنی پابندیاں بھی دوبارہ نافذ کر دیں، جس کے باعث عالمی توانائی کی ترسیل کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہوا اور تیل کی قیمتیں مزید بڑھ گئیں۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق بندر عباس، قشم، ہنگام، سیریک اور بوشہر سمیت کئی جنوبی شہروں اور جزیروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ فضائی دفاعی نظام کو بھی فعال کر دیا گیا۔
ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے دعویٰ کیا کہ جنوبی ایران میں امریکی حملوں کے نتیجے میں تیس سے زائد شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔ وزارت صحت کے ترجمان حسین کرمان پور کے مطابق تازہ حملوں میں دو سو ساٹھ سے زیادہ افراد زخمی ہوئے، جن میں سے بیشتر کو علاج کے بعد ہسپتالوں سے فارغ کر دیا گیا۔
ایرانی فوج نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکہ کے تیرہ میزائلوں نے ایران شہر کے قریب بمبور فوجی چھاؤنی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں تین سو اٹھاسیویں بریگیڈ کے سات اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ ایرانی حکام کے مطابق حملہ فوجی رہائش گاہوں، چیک پوسٹوں اور دیگر تنصیبات پر کیا گیا تاکہ زیادہ سے زیادہ جانی نقصان پہنچایا جا سکے۔
دوسری جانب اسلامی انقلابی گارڈ کور نے اعلان کیا کہ اس نے امریکی حملوں کے جواب میں بحرین، کویت اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملے کیے ہیں۔ ایرانی دعوے کے مطابق بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر، معاون تنصیبات اور ایندھن کے ذخائر کو نقصان پہنچایا گیا، جبکہ کویت میں امریکی فوج کے ایک بڑے رسدی مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ایران نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکی لڑاکا طیاروں اور متعدد بغیر پائلٹ طیاروں کی پناہ گاہیں تباہ کر دی گئی ہیں۔
ادھر اردن کی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ملک کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے تین ایرانی بیلسٹک میزائلوں کو مار گرایا۔
یہ تازہ کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک ماہ قبل ہی امریکہ اور ایران نے جنگ بندی میں توسیع اور مذاکرات کے ذریعے تنازع ختم کرنے کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔ دونوں ممالک اب ایک دوسرے پر اس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کر رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک امریکہ اپنے مقاصد حاصل نہیں کر لیتا۔ انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ مستقبل میں ایران کے بجلی گھروں، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں سے منسلک بحری نقل و حرکت پر پابندیاں برقرار رکھنے کے ساتھ خطے میں مزید بحری قوت تعینات کر دی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد ایران کی بحری سرگرمیوں کو محدود کرنا اور آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو وہ ایسے تمام برآمدی راستوں کو بھی محدود کر سکتا ہے جن سے امریکہ اور اس کے اتحادی فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ایرانی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران انقلابی گارڈز نے آبنائے ہرمز میں دو بحری جہازوں کو انتباہی فائرنگ کر کے روک دیا۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے جنگ سے قبل عالمی تیل اور گیس کی تقریباً پانچواں حصہ یومیہ گزرتا تھا۔ تازہ کشیدگی کے بعد عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر چھیاسی ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔
علاوہ ازیں، امریکہ نے ایران کی تیل برآمدات سے مبینہ طور پر منسلک متعدد افراد، کمپنیوں اور بحری جہازوں پر نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے ایران کے مرکزی بینک سے وابستہ کرپٹو کرنسی اثاثے بھی منجمد کرنے کا اعلان کیا۔








