بلاگ تلاش کریں۔

مشورہ

سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں سے پاکستان تشویش میں مبتلا، وسیع تر تنازع میں گھسیٹے جانے کا خدشہ

[post-views]
[post-views]

سعودی عرب پر حوثیوں کے حالیہ حملوں نے اسلام آباد میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے اور اس خدشے کو بڑھا دیا ہے کہ پاکستان خطے میں پھیلتے ہوئے تنازع کا براہِ راست حصہ بن سکتا ہے۔ اس صورتِ حال نے امریکا اور ایران کے درمیان ثالث کے طور پر پاکستان کے ممکنہ کردار کو بھی مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

گزشتہ ماہ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان ایک عبوری مفاہمت کرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ دوسری جانب گزشتہ برس پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان باہمی دفاعی معاہدہ بھی طے پایا، جس کے تحت پاکستان نے ہزاروں فوجی اہلکار اور لڑاکا طیاروں کا ایک دستہ سعودی عرب میں تعینات کر رکھا ہے۔

سرکاری حکام اور علاقائی امور کے ماہرین کے مطابق حوثیوں نے سعودی عرب کے ایک ایسے ہوائی اڈے پر حملے کیے جو ان کے بقول سعودی بمباری کا نشانہ بنا تھا۔ ان حملوں نے ایران کے حوالے سے پاکستان کی تشویش کو پہلے سے کہیں زیادہ بڑھا دیا ہے۔ ایک پاکستانی سرکاری ذریعے نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ملکی سیاسی اور عسکری قیادت نے ایران کو واضح طور پر آگاہ کر دیا ہے کہ سعودی عرب پر حملے پاکستان پر حملوں کے مترادف تصور کیے جائیں گے اور یہ پاکستان کے لیے ناقابلِ قبول حد ہے۔

سلامتی امور کے تجزیہ کار محمد عامر رانا کے مطابق اسلام آباد کو توقع نہیں تھی کہ خطے میں کشیدگی اس قدر تیزی سے شدت اختیار کر لے گی۔ حکام کو خاص طور پر اس بات پر تشویش ہے کہ سعودی عرب اور یمن کی سرحد کے قریب تعینات پاکستانی فوجی براہِ راست خطرے کی زد میں آ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اگر حوثیوں کی کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع ہوا تو بحیرۂ احمر کی بحری گزرگاہیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں، جن پر پاکستان کی تجارت اور توانائی کی رسد کا بڑا انحصار ہے۔ ایسی صورت میں دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان کو فوجی کردار ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔

تشویش میں اضافے کا ایک اور سبب ایران کی قیادت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کی اطلاعات ہیں۔ پاکستانی حکام کے مطابق صدر مسعود پزشکیان، وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے مؤقف میں بتدریج پاسدارانِ انقلاب سے اختلافات نمایاں ہو رہے ہیں۔ دفاعی امور کے ایک ماہر کے مطابق تہران میں فیصلہ سازی پر فوج کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو اسلام آباد میں انتہائی باریک بینی سے دیکھا جا رہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہی اندرونی اختلافات اس ایرانی وفد کی آمد میں تاخیر کا بھی سبب بنے، جس کی قیادت وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی کر رہے تھے۔ یہ وفد اس ہفتے دو روز کی تاخیر سے اسلام آباد پہنچا، جہاں امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت سمیت اہم امور پر بات چیت متوقع ہے۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔ وزارت کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ اختلافات کے حل کا واحد راستہ مذاکرات اور سفارت کاری ہے۔ حکام کا اصرار ہے کہ پاکستان کی ثالثی کی کوششیں بدستور جاری ہیں، کیونکہ ان کا براہِ راست تعلق خلیجی خطے سے پاکستان کو تیل اور قدرتی گیس کی محفوظ رسد برقرار رکھنے سے ہے۔

تاہم موجودہ صورتِ حال میں پاکستان شاید اس بحران کے کسی بھی سابقہ مرحلے کے مقابلے میں اس مقام کے زیادہ قریب پہنچ چکا ہے جہاں اسے کسی ایک فریق کا ساتھ دینے کا فیصلہ کرنا پڑ سکتا ہے۔ ثالثی کی کوششوں سے واقف ایک ذریعے کے مطابق اگرچہ جنگ کا خاتمہ تمام فریقوں کے مفاد میں ہے، لیکن اگر ضرورت پیش آئی تو پاکستان کسی ہچکچاہٹ کے بغیر سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہوگا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]