ٹیکس پالیسی محض محصولات نہیں، ایک مکمل ریاستی فلسفہ ہے

[post-views]

[post-views]

عالمی ماہرینِ معیشت کے نزدیک ٹیکس پالیسی محض محصولات جمع کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک مکمل ریاستی فلسفہ اور منظم پالیسی نظام ہے۔ یہ نہ صرف عطیہ دہندگان کے مشوروں کا
مجموعہ ہے اور نہ ہی انتظامیہ کی صوابدید کا نام، بلکہ ایک ایسا جامع نظام ہے جو انصاف، لچک اور پہلے سے طے شدہ اصولوں پر استوار ہوتا ہے۔

سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ایک اچھی ٹیکس پالیسی استحصالی نہیں ہوتی۔ اس کا مقصد صرف نئے شعبوں پر ٹیکس عائد کرنا یا زیادہ سے زیادہ افراد کو ٹیکس کے دائرے میں لانا نہیں ہوتا، بلکہ وہ چند بنیادی سوالات کا جواب دیتی ہے:

۔ مزید ٹیکس کیوں لیا جائے؟
۔ ٹیکس کس طریقے سے عائد کیا جائے؟
۔ کیا ٹیکس پالیسی منصفانہ ہے؟
۔ کیا یہ ٹیکس واقعی جائز اور ضروری ہیں؟

اگر کسی ٹیکس پالیسی میں ان بنیادی عناصر کا فقدان ہو تو وہ اچھی ٹیکس پالیسی نہیں کہلا سکتی۔ اور اگر اس کا واحد مقصد صرف افراد، اداروں اور کمپنیوں سے زیادہ ٹیکس وصول کرنا ہو تو پھر وہ ایک ناقص ٹیکس پالیسی ہے۔

پاکستان کی ٹیکس پالیسی بدقسمتی سے اسی دوسری قسم میں آتی ہے۔ پہلی بات یہ کہ یہ مکمل طور پر غیر متوقع ہے۔ ایک صبح کوئی بین الاقوامی مالیاتی ادارہ یا عطیہ دہندہ اسلام آباد آتا ہے اور دوپہر تک ٹیکس پالیسی تبدیل ہو جاتی ہے۔ دوسری بات یہ کہ اس کا واحد ہدف ٹیکس کے دائرے کو وسیع کرنا ہے، جبکہ یہ بنیادی سوالات نظرانداز کر دیے جاتے ہیں کہ آیا ٹیکس پالیسی منصفانہ بھی ہے یا نہیں، اور کیا نئے ٹیکسوں کا جواز موجود ہے۔

یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ عطیہ دہندگان اور حکومتی وزراء اکثر یہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں مجموعی قومی پیداوار کے مقابلے میں ٹیکس کی شرح دنیا میں کم ترین ہے اور زرعی و تجارتی شعبے قومی خزانے میں نہایت معمولی حصہ ڈالتے ہیں۔

مگر وہ اخراجات کا رخ کبھی نہیں دکھاتے۔ عوام سے وصول ہونے والا پیسہ کہاں خرچ ہوتا ہے؟ وہ یہ نہیں بتاتے کہ پاکستان کی وفاقی حکومت دنیا کی مہنگی ترین حکومتوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کا غیر معمولی حجم عام شہریوں کی خدمت کے لیے نہیں بلکہ نوآبادیاتی طرز کی بیوروکریسی کے انتظامی ڈھانچے کو برقرار رکھنے کے لیے قائم ہے۔ وہ یہ بھی نہیں بتاتے کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد بھی ایسے محکموں اور وزارتوں پر اربوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں جن کے اختیارات صوبوں کو منتقل ہو چکے ہیں۔ سرکاری اداروں کے نقصانات دفاع اور عوامی ترقیاتی پروگرام کے مجموعی اخراجات سے بھی زیادہ ہیں۔ مختصراً، معیشت میں حکومت کا تقریباً پینسٹھ فیصد کردار کسی بھی طور قابلِ جواز نہیں۔

مثال کے طور پر بیوروکریسی مسلسل شکایت کرتی ہے کہ زرعی شعبہ، جو مجموعی قومی پیداوار کا تئیس فیصد ہے، صرف دو ارب روپے ٹیکس ادا کرتا ہے۔ اس دعوے میں حقیقت موجود ہے، اور بین الاقوامی ادارے بھی یہی مؤقف اختیار کرتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب حکومت خود گندم اور چاول جیسی فصلوں کی قیمتیں مقرر کرتی ہے، تو پھر زراعت پر منصفانہ ٹیکس کیسے عائد کیا جا سکتا ہے؟ کسان کیوں ایسے نظام کے لیے ٹیکس ادا کریں جس میں وہ مہنگی بجلی، کھاد اور زرعی ادویات خریدنے پر مجبور ہیں، جبکہ اس رقم سے بیوروکریسی کی آسائشوں پر اخراجات کیے جائیں؟ پہلے زرعی منڈیوں کو آزاد کیا جائے، کسانوں کو آزادانہ کاروبار کرنے دیا جائے، پھر ان کی حقیقی آمدنی اور قدر میں اضافے پر منصفانہ ٹیکس عائد کیا جائے۔

تجاویز

اوّل، پاکستان میں ایک خودمختار دفترِ ٹیکس پالیسی قائم کیا جائے تاکہ ٹیکس پالیسی کی تشکیل اور اس پر عمل درآمد کو الگ الگ رکھا جا سکے۔ وفاقی ادارۂ محاصل کا کردار صرف ٹیکس پالیسی پر عمل درآمد تک محدود ہونا چاہیے۔

دوم، ہر نئے ٹیکس کے لیے واضح جواز پیش کرنا لازمی ہو۔ ہر ٹیکس اس سوال کا جواب دے کہ اگر حکومت اپنے اخراجات کم کر سکتی ہے تو پھر مزید ٹیکس لینے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟

سوم، ٹیکس پالیسی کو سیاسی تبدیلیوں کے اثرات سے محفوظ بنایا جائے تاکہ کاروباری ادارے طویل المدتی سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی اعتماد کے ساتھ کر سکیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]