ادارتی تجزیہ
چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا آغاز پاکستان کی اقتصادی تاریخ کے ایک ایسے منصوبے کے طور پر کیا گیا تھا جسے ملکی ترقی کا ضامن، معاشی خوشحالی کا دروازہ اور مستقبل کی تقدیر بدلنے والا منصوبہ قرار دیا گیا۔ اس منصوبے کو عوام کے سامنے ایک ایسے بیانیے کے ساتھ پیش کیا گیا جس میں کامیابی کو یقینی اور سوال اٹھانے کو غیر ضروری سمجھا گیا۔ کئی برسوں تک جو ماہرین، محققین اور پالیسی تجزیہ کار قرضوں کے بوجھ، معاہدوں کی غیر شفافیت، یا ٹیکنالوجی کی منتقلی کے فقدان جیسے بنیادی سوالات اٹھاتے رہے، انہیں مختلف طریقوں سے خاموش رہنے کا پیغام دیا گیا۔ سرکاری بیانیے سے اختلاف کو جمہوری احتساب کا حصہ سمجھنے کے بجائے اکثر ریاستی مفادات کے خلاف تصور کیا گیا۔ اس طرزِ عمل نے عوامی مباحثے کو محدود کیا اور قومی مفاد کے بجائے ایک یک طرفہ بیانیے کو فروغ دیا۔
آج، ایک دہائی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد، وقت آ گیا ہے کہ سی پیک کا غیر جانبدارانہ اور حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے۔ ابتدائی جوش و خروش کے برعکس اب یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ آیا یہ منصوبہ واقعی پاکستان کی معیشت کے لیے وہ تاریخی تبدیلی لا سکا جس کا وعدہ کیا گیا تھا یا نہیں۔
سی پیک کے تحت پاکستان میں پچاس ارب ڈالر سے زائد کی مالی معاونت مختلف منصوبوں پر خرچ کی گئی۔ ان منصوبوں کی نگرانی وفاقی منصوبہ بندی کمیشن اور صوبائی منصوبہ بندی و ترقی کے محکموں نے کی۔ تاہم اب دستیاب نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ان میں سے بڑی تعداد سرمایہ کاری کے بجائے قرضوں کی بنیاد پر قائم تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کو مستقبل میں اصل رقم کے ساتھ بھاری سود بھی ادا کرنا ہوگا، جبکہ قومی معیشت کو وہ اضافی قدر حاصل نہیں ہو سکی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔
یہ حقیقت اپنی جگہ اہم ہے کہ توانائی کے منصوبے، شاہراہیں اور دیگر بنیادی ڈھانچے ضرور تعمیر ہوئے، مگر ان معاہدوں میں مقامی صنعت، انجینئرنگ صلاحیت، تحقیق، جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مقامی افرادی قوت کی استعداد بڑھانے جیسے بنیادی عناصر کو مؤثر انداز میں شامل نہیں کیا گیا۔ اگر کسی ملک میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہو اور اس کے نتیجے میں صنعتی بنیاد مضبوط نہ ہو، نئی مہارتیں پیدا نہ ہوں، مقامی صنعت عالمی معیار تک نہ پہنچ سکے اور درآمدی انحصار کم نہ ہو، تو ایسے منصوبوں کی پائیداری پر سوال اٹھنا فطری امر ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہوا؟ ایک دہائی تک منصوبہ بندی کمیشن، متعلقہ وزارتیں، اعلیٰ بیوروکریسی اور سیاسی قیادت اس بات کو یقینی بنانے میں کیوں ناکام رہی کہ سی پیک کے معاہدوں میں ٹیکنالوجی کی منتقلی، مقامی صنعت کی ترقی، تحقیق و اختراع اور قومی صلاحیت سازی کو لازمی جزو بنایا جائے؟ کیا یہ تکنیکی مہارت کی کمی تھی، مذاکراتی کمزوری تھی، یا پھر قلیل مدتی سیاسی کامیابیوں کو قومی مفاد پر ترجیح دی گئی؟ ان سوالات کے جوابات محض سیاسی بحث کا موضوع نہیں بلکہ پاکستان کے معاشی مستقبل سے براہِ راست متعلق ہیں۔
دنیا کے کامیاب ممالک نے بیرونی سرمایہ کاری کو صرف انفراسٹرکچر کی تعمیر تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے مقامی صنعت، افرادی قوت کی تربیت، جدید ٹیکنالوجی کے حصول اور برآمدات میں اضافے کے لیے استعمال کیا۔ جنوبی کوریا، چین، ملائیشیا اور سنگاپور کی مثالیں واضح کرتی ہیں کہ ترقی صرف قرضوں اور تعمیرات سے نہیں بلکہ علم، مہارت اور ادارہ جاتی صلاحیت کے فروغ سے حاصل ہوتی ہے۔ اگر پاکستان اس بنیادی اصول کو نظر انداز کرتا ہے تو بڑے منصوبے بھی دیرپا معاشی فوائد فراہم نہیں کر سکتے۔
اس پس منظر میں اب ایک آزاد، خودمختار اور بااختیار احتسابی کمیشن کے قیام کی ضرورت ہے جو سی پیک کے تمام اہم معاہدوں، منصوبوں اور فیصلوں کا جامع جائزہ لے۔ اس کمیشن کا مقصد سیاسی انتقام نہیں بلکہ پالیسی احتساب ہونا چاہیے۔ اسے یہ جانچنے کا اختیار حاصل ہو کہ معاہدوں میں قومی مفاد کا کس حد تک تحفظ کیا گیا، کون سی خامیاں رہ گئیں، کن اداروں نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں، اور مستقبل میں ایسی غلطیوں سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔
یہ کمیشن صرف ماضی کا احتساب نہ کرے بلکہ آئندہ تمام بین الاقوامی اقتصادی معاہدوں کے لیے واضح اصول بھی تجویز کرے تاکہ ہر بڑے منصوبے میں مقامی صنعت، ٹیکنالوجی کی منتقلی، افرادی قوت کی تربیت، برآمدی صلاحیت اور قومی اقتصادی مفاد کو قانونی طور پر لازمی قرار دیا جا سکے۔ پاکستان کو اب ایسے ترقیاتی ماڈل کی ضرورت ہے جو صرف قرضوں پر نہیں بلکہ قومی صلاحیت سازی اور پائیدار معاشی ترقی پر استوار ہو۔
سی پیک پاکستان اور چین کے درمیان ایک اہم تزویراتی شراکت داری ہے، جس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم کسی بھی قومی منصوبے کا تنقیدی جائزہ لینا اس کی مخالفت نہیں بلکہ بہتر حکمرانی اور ذمہ دارانہ پالیسی سازی کی علامت ہے۔ مضبوط ریاستیں اپنے بڑے منصوبوں کا احتساب کرنے سے نہیں گھبراتیں بلکہ اسی عمل کے ذریعے آئندہ کے فیصلوں کو مزید مؤثر بناتی ہیں۔
پاکستان کو آج جذباتی نعروں یا ماضی کی رومانویت سے زیادہ حقیقت پسندانہ تجزیے کی ضرورت ہے۔ اگر سی پیک کے تجربے سے سیکھ کر ادارہ جاتی اصلاحات، شفاف احتساب اور بہتر مذاکراتی حکمت عملی اختیار کی جائے تو مستقبل کے منصوبے واقعی قومی ترقی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ بصورت دیگر اربوں ڈالر کے منصوبے بھی قومی خزانے پر طویل المدت بوجھ بننے کا خطرہ رکھتے ہیں۔ اب وقت آ چکا ہے کہ ماضی کی تعریف یا تنقید سے آگے بڑھ کر حقائق، شفافیت اور احتساب کو قومی پالیسی کا بنیادی اصول بنایا جائے۔
ری پبلک پالیسی تھنک ٹینک کی شہرۂ آفاق کتابیں، جن میں دی بیوروکریٹک کو بھی شامل ہے، وینگارڈ بکس، لبرٹی بکس، ریڈنگز، کتاب سرائے، سنگِ میل، سعید بک بینک اسلام آباد، نیشنل بک فاؤنڈیشن اور پاکستان بھر کے دیگر معروف کتب فروشوں پر دستیاب ہیں۔ گھر بیٹھے کتاب منگوانے کے لیے رابطہ کریں: 03009552542۔









