ریپبلک پالیسی گورننس کو نہ تو معاشرے سے الگ کرکے دیکھتا ہے اور نہ ہی اسے محض ایک علمی مطالعے، جامد تصورات اور نظریات تک محدود کرتا ہے۔ ہمارے نزدیک گورننس کو اسی سماجی ماحول میں سمجھنا ضروری ہے جہاں اسے نافذ ہونا اور عملی نتائج پیدا کرنا ہوتے ہیں۔ اسی لیے ریپبلک پالیسی معاشرے اور گورننس کے باہمی تعلق کا مطالعہ کرتا ہے اور یہ دیکھتا ہے کہ سماجی رویے، ادارہ جاتی اقدار اور انتظامی روایات ریاستی کارکردگی کو کس طرح متاثر کرتی ہیں۔
ریپبلک پالیسی کی آنے والی کتاب Bureaucracy: The Art of Corruption میں بیوروکریٹک بدعنوانی کے مختلف پہلوؤں کا اسی تناظر میں جائزہ لیا گیا ہے۔ کتاب کا بنیادی مقدمہ یہ ہے کہ بدعنوانی کے خاتمے یا اس کے خلاف پالیسی تشکیل دینے سے پہلے بدعنوانی کی ثقافت کو سمجھنا ضروری ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ادارے کن اعمال کو بدعنوانی تصور کرتے ہیں اور کون سے ایسے رویے ہیں جو بدعنوان ہونے کے باوجود ادارہ جاتی معمول کا حصہ بن چکے ہیں۔
اسی تناظر میں مصنف نے غیر ترقیاتی بدعنوانی کے تصور پر بھی بحث کی ہے، جسے بیوروکریسی عموماً بدعنوانی کے طور پر تسلیم نہیں کرتی۔ مثال کے طور پر اگر حکومت کسی افسر کو 75 لیٹر پٹرول کی سہولت دیتی ہے، مگر وہ اپنے اختیار یا عہدے کا استعمال کرکے ایک ہزار لیٹر حاصل کرتا اور اسے ذاتی یا گھریلو مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے، تو یہ بھی بدعنوانی کی ایک شکل ہے۔ اسی طرح غیر ضروری سرکاری مراعات اور استحقاقات بھی اس بحث کا حصہ ہیں۔
ریپبلک پالیسی کے نزدیک اس لیے بدعنوانی کا خاتمہ صرف احتساب کا مسئلہ نہیں بلکہ ادارہ جاتی ثقافت کی اصلاح کا سوال بھی ہے۔ جب تک سرکاری ادارے خود یہ واضح نہیں کرتے کہ اختیار، مراعات اور عوامی وسائل کا ناجائز استعمال بھی بدعنوانی ہے، اس کے مؤثر خاتمے کی بنیاد قائم نہیں ہوسکتی۔









