بلاگ تلاش کریں۔

مشورہ

کیا نئی نسل کے مطالبات پالیسی بن سکتے ہیں؟

[post-views]
[post-views]

نئی نسل کی عوامی احتجاجی تحریکیں عموماً اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب نہیں ہوتیں۔

یہ ایک مختلف نسل ہے اور اس کے احتجاج بھی روایتی نوعیت کے نہیں۔ سماجی ذرائع ابلاغ پر کسی ایک رجحان یا ایک پیغام کے ذریعے چند ہی گھنٹوں میں ہزاروں افراد سڑکوں پر آ جاتے ہیں، مگر چند روز بعد حالات معمول پر آ جاتے ہیں اور زمینی حقیقت میں شاذونادر ہی کوئی نمایاں تبدیلی دکھائی دیتی ہے۔

آخر ایسا کیوں ہے کہ نئی نسل بھرپور جوش و خروش سے احتجاج کرتی ہے، لیکن کوئی ٹھوس نتیجہ حاصل نہیں کر پاتی؟

اس کی بنیادی وجہ احتجاجی حکمتِ عملی کی چند نمایاں کمزوریاں ہیں۔

سب سے پہلی خامی یہ ہے کہ ان تحریکوں کے مقاصد واضح نہیں ہوتے۔ نیپال کے احتجاج ہوں، بنگلہ دیش میں نوجوانوں کی تحریک ہو یا بھارت میں جاری طلبہ احتجاج، ان میں قابلِ حصول اور واضح اہداف کا فقدان نظر آتا ہے۔ اگرچہ بھارت میں امتحانی پرچوں کے افشا ہونے کا معاملہ ایک حقیقی مسئلہ ہے، لیکن اس کے باوجود یہ واضح نہیں کہ تحریک کن اصلاحات کے بعد اپنی کامیابی کا اعلان کرے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ ان تحریکوں کو ادارہ جاتی سوچ سے زیادہ ذاتی غصہ اور نفرت کے جذبات متحرک کرتے ہیں۔

برازیلی صحافی ونسنٹ بیونز اپنی کتاب ’’گم شدہ انقلابات‘‘ میں لکھتے ہیں:

“محض احتجاج کسی تحریک کا نام نہیں، تحریک لازماً انقلاب نہیں بنتی، اور کسی پرانے نظام کا خاتمہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ اس کی جگہ کون سا نظام قائم ہوگا۔”

دوسری بڑی کمزوری قیادت کا غیر واضح ہونا ہے۔ اکثر معلوم ہی نہیں ہوتا کہ تحریک کی قیادت کون کر رہا ہے۔ سماجی ذرائع ابلاغ کے الگورتھم ہی لوگوں کو جذباتی مواد فراہم کرتے ہیں اور بظاہر وہی احتجاج کی سمت متعین کرتے ہیں۔ ونسنٹ بیونز لکھتے ہیں:

“گزشتہ دہائی کی بیشتر تحریکوں نے قیادت سے آزادی، خود رو تنظیم اور افقی ڈھانچے کو اختیار کیا۔”

یہ خصوصیات اگرچہ لوگوں کو تیزی سے متحرک کرنے میں مدد دیتی ہیں، لیکن کئی بنیادی سوالات بھی جنم دیتی ہیں۔ حکومت سے مذاکرات کون کرے گا؟ کامیابی کی تعریف کون طے کرے گا؟ ذرائع ابلاغ کے سامنے تحریک کی نمائندگی کون کرے گا؟ اور کون اس امر کو یقینی بنائے گا کہ طاقتور سیاسی قوتیں تحریک کے بیانیے اور توانائی کو اپنے مفادات کے لیے استعمال نہ کریں؟

تیسری خامی یہ ہے کہ نئی نسل احتجاج کے جدید طریقوں سے تو واقف ہے، مگر موجودہ نظام کا قابلِ عمل متبادل اس کے پاس موجود نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب احتجاجی لہر ختم ہوتی ہے تو اکثر وہی پرانا نظام دوبارہ اپنی جگہ قائم ہو جاتا ہے اور وہی پرانے کردار اقتدار سنبھال لیتے ہیں۔

ونسنٹ بیونز کے الفاظ میں:

“ایک ہجوم سیاسی موقع تو پیدا کر سکتا ہے، مگر محض اپنی تعداد یا اخلاقی قوت کے بل پر اس کے نتائج پر قابو نہیں پا سکتا۔”

ایسی بے قیادت، غیر منظم اور غیر واضح تحریکوں میں بیرونی مداخلت کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں، جو بعض اوقات ملک میں مزید عدم استحکام پیدا کرتی ہے۔ ونسنٹ بیونز لکھتے ہیں:

“اگر تحریکیں خود کو جواب دہ نمائندہ ڈھانچوں کے ذریعے منظم نہیں کرتیں تو پھر ان کی نمائندگی کوئی اور کرنے لگتا ہے؛ خواہ وہ سیاسی جماعتیں ہوں، ذرائع ابلاغ، حکومتیں، غیر ملکی میڈیا، سماجی ذرائع ابلاغ کے الگورتھم یا موقع پرست عناصر۔”

اسی لیے بھارت میں حالیہ پیش رفت خاص اہمیت رکھتی ہے۔ ڈاکٹر شہزیب خان کے مطابق:

“اس تحریک کے مطالبات نسبتاً واضح ہیں اور اس کے منتظمین بھی پہچانے جا سکتے ہیں، لیکن اس کی تیز رفتار توسیع نے مختلف اداروں اور سیاسی قوتوں کو بھی متوجہ کر لیا ہے۔ پولیس کی سخت کارروائی عوامی ہمدردی میں اضافہ کر سکتی ہے، مگر تصادم کے مناظر اصل مسئلے، یعنی تعلیمی انصاف، کو پس منظر میں بھی دھکیل سکتے ہیں۔ اسی طرح اپوزیشن کی حمایت تحریک کو پارلیمانی سطح پر آواز تو دے سکتی ہے، لیکن یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا سیاسی جماعتیں تحریک کی حقیقی نمائندگی کریں گی یا رفتہ رفتہ اس کے مقاصد کو اپنے سیاسی مفادات کے مطابق ڈھال لیں گی؟”

سڑکوں پر نکلنے سے پہلے نئی نسل کو چند بنیادی سوالات کے جواب ضرور تلاش کرنے چاہییں:

  • کیا غصہ ایک منظم تنظیم کی شکل اختیار کر سکتا ہے؟
  • کیا عوامی مطالبات مؤثر عوامی پالیسیوں میں تبدیل ہو سکتے ہیں؟
  • کیا قیادت جواب دہ رہ سکتی ہے؟
  • کیا تحریک اداروں سے مذاکرات کرتے ہوئے اپنے اصل مقصد کو برقرار رکھ سکتی ہے؟
  • اور کیا قومی توجہ ختم ہونے سے پہلے وہ کوئی پائیدار ادارہ جاتی تبدیلی پیدا کر سکتی ہے؟

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]