حوثیوں کے بحیرۂ احمر میں بڑھتے کنٹرول کے درمیان سعودی عرب نے اہم تیل پائپ لائن بند کردی

[post-views]
[post-views]

سعودی عرب نے فضائی حملے کے بعد اپنی اہم مشرقی مغربی تیل پائپ لائن عارضی طور پر بند کردی ہے، جس سے عالمی توانائی کی رسد پر مزید دباؤ بڑھ گیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب حوثی بحیرۂ احمر کے اطراف اپنی موجودگی مضبوط کر رہے ہیں اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بھی مسلسل متاثر ہورہی ہے۔

یہ پائپ لائن ایک ڈرون حملے کے بعد بند کی گئی۔ سعودی عرب اور عراق کے مطابق یہ حملہ عراقی سرزمین سے کیا گیا، جہاں ایران کی حمایت یافتہ مسلح تنظیمیں سرگرم ہیں۔ واقعے کے بعد بغداد نے ایک فوجی کمانڈر کو عہدے سے ہٹا دیا۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد احتیاطی اقدام کے طور پر پائپ لائن بند کی گئی۔

تقریباً 1,200 کلومیٹر طویل یہ پائپ لائن جزیرہ نما عرب کے آرپار پھیلی ہوئی ہے اور خطے میں پھیلتی ہوئی جنگ کے دوران اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ اس کے ذریعے سعودی خام تیل بحیرۂ احمر کی جانب منتقل کیا جاسکتا ہے، جس سے آبنائے ہرمز کا متبادل راستہ دستیاب ہوتا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے باعث آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی آئی ہے۔

پائپ لائن کی بندش کی اہمیت خاصی زیادہ ہے۔ رپورٹ میں جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی کمپنیوں اور تجزیہ کاروں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حالیہ مہینوں میں اس پائپ لائن کے ذریعے یومیہ 40 لاکھ سے 50 لاکھ بیرل تیل منتقل کیا گیا، جو عالمی رسد کے تقریباً 4 سے 5 فیصد کے برابر ہے۔ دنیا میں خام تیل کا سب سے بڑا برآمد کنندہ سعودی عرب اب ایک ایسے راستے پر دباؤ کا سامنا کر رہا ہے جس کی اہمیت آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر ہونے کے بعد مزید بڑھ گئی تھی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حوثی ایک اور انتہائی اہم عالمی بحری گزرگاہ کے اطراف اپنی پوزیشن مضبوط کر رہے ہیں۔ یمنی حکومت کے ذرائع کے مطابق حوثی فورسز نے جمعہ کو تزویراتی اہمیت کے حامل جزیرے پریم پر قبضہ کرلیا۔ یہ جزیرہ بحیرۂ احمر کے داخلی راستے پر واقع آبنائے باب المندب میں موجود ہے، جس کے باعث وہاں ہونے والی پیش رفت عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔

بحیرۂ احمر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں جاری رکاوٹیں جزیرہ نما عرب کے دونوں جانب دباؤ بڑھا رہی ہیں۔ دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں کو لاحق خطرات کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

یہ صورت حال خطے میں پھیلتے ہوئے تنازع کی سنگینی کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ ایک طرف سعودی عرب کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو خطرات لاحق ہیں، جبکہ دوسری جانب باب المندب کے اطراف حوثیوں کی پیش قدمی عالمی جہاز رانی کے لیے تشویش بڑھا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ریاض نے حوثیوں کی پیش قدمی کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سے فوجی معاونت بھی طلب کی ہے۔

فوری سوال یہ ہے کہ مشرقی مغربی تیل پائپ لائن کتنے عرصے تک بند رہے گی اور کیا سعودی عرب متبادل انتظامات کے ذریعے اپنی تیل کی برآمدات برقرار رکھ سکے گا۔ تاہم وسیع تر تشویش اب واضح ہوتی جارہی ہے: آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں بیک وقت بڑھتی ہوئی عدم سلامتی خلیجی ممالک کے لیے محفوظ توانائی گزرگاہوں کو محدود کر رہی ہے اور عالمی تیل منڈی کے لیے خطرات میں اضافہ کررہی ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]