ریاستی اصلاحات کے لیے چار ناگزیر کتابیں

[post-views]
[post-views]

اداریہ

پاکستان میں سیاست اور تاریخ پر بہت کچھ لکھا گیا ہے، مگر گورننس اور ادارہ جاتی اصلاحات پر سنجیدہ علمی کام نہایت کم نظر آتا ہے۔ ریپبلک پالیسی میں ہمارا مقصد ہمیشہ مسائل کی نشاندہی تک محدود رہنے کے بجائے عملی حل اور بامعنی اصلاحات پیش کرنا رہا ہے۔

غیر جانب دار، شواہد پر مبنی اور تحقیقی طرزِ فکر کے ذریعے ہم مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے آئے ہیں کہ پاکستان کے بنیادی مسائل کا حل بہتر طرزِ حکمرانی اور جامع ادارہ جاتی اصلاحات میں پوشیدہ ہے۔

ہم اس امر پر یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان کا روشن مستقبل ریاست کے تینوں ستونوں—انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ—کی بنیادی اصلاحات سے وابستہ ہے۔ اسی وژن کو آگے بڑھاتے ہوئے ریپبلک پالیسی نے چار ایسی کتابیں شائع کی ہیں جو مجموعی طور پر پاکستان کے نظامِ حکمرانی کے لیے ایک جامع اصلاحاتی خاکہ پیش کرتی ہیں۔ ان کتابوں میں انتظامیہ، مقننہ، عدلیہ اور سول سروس کی اصلاح کے لیے تفصیلی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔

فکسنگ دی ایگزیکٹو برانچ آف گورنمنٹ حکومتی نظم و نسق کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک واضح لائحۂ عمل پیش کرتی ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ پاکستان کی مرکزی، طاقت پر مبنی سول سروس کو ایک پیشہ ور، پیداواری اور کارکردگی پر مبنی سول سروس میں تبدیل کیے بغیر کوئی بھی اصلاح کامیاب نہیں ہو سکتی۔ جیسا کہ ووڈرو ولسن نے کہا تھا:
“آئین بنانا جتنا مشکل ہے، اس سے کہیں زیادہ مشکل اسے مؤثر انداز میں چلانا ہے۔”

فکسنگ دی لیجسلیٹو برانچ آف گورنمنٹ پاکستان کے قانون ساز نظام میں اصلاحات کا ایک جامع خاکہ پیش کرتی ہے۔ کتاب کا مرکزی استدلال یہ ہے کہ پاکستان ایک وفاقی جمہوریہ ہے، اس لیے اسے حقیقی معنوں میں وفاق اور جمہوریہ دونوں کی روح کے مطابق چلایا جانا چاہیے۔ یہ کتاب سیاسی انتظامیہ کے مؤثر کردار، بیوروکریسی کے غیر ضروری غلبے کے خاتمے، اور پارلیمانی نگرانی و احتساب کو مضبوط بنانے کی وکالت کرتی ہے۔

فکسنگ دی جوڈیشل برانچ آف گورنمنٹ عدلیہ کی مکمل آزادی کا مطالبہ کرتی ہے تاکہ وہ انتظامیہ کے اثر و رسوخ سے آزاد ہو کر آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کر سکے۔ تاہم یہ کتاب پاکستان کی تاریخ میں عدلیہ کے اس کردار کا بھی تنقیدی جائزہ لیتی ہے جس نے مختلف ادوار میں جمہوری اور آئینی نظام کو کمزور کیا۔ کتاب کا مؤقف ہے کہ عدالتی آزادی کے ساتھ ادارہ جاتی احتساب بھی ناگزیر ہے۔

دی بیوروکریٹک کوپ اس بات پر زور دیتی ہے کہ آئینِ پاکستان کے متن اور اس کی روح میں ہم آہنگی پیدا کی جائے۔ وفاقی معاملات وفاقی بیوروکریسی کے ذریعے اور صوبائی معاملات صوبائی سول سروس کے ذریعے چلائے جانے چاہییں۔ وفاقیت کے اصول صرف آئین کی دفعات تک محدود نہ رہیں بلکہ ریاستی نظم و نسق میں بھی پوری طرح نمایاں ہوں۔

یہ چاروں کتابیں طلبہ، اساتذہ، محققین، پالیسی سازوں، سول سرونٹس اور ان تمام افراد کے لیے ناگزیر مطالعہ ہیں جو پاکستان کے نظامِ حکمرانی کو سمجھنا اور بہتر بنانا چاہتے ہیں۔

یہ کتابیں پاکستان بھر کے معروف کتب فروشوں کے پاس دستیاب ہیں۔ ہوم ڈیلیوری کے لیے درج ذیل نمبر پر رابطہ کریں:

0341-4222501

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]