ریاست کو ری سیٹ نہیں، اصلاحات درکار ہیں

[post-views]
[post-views]

اداریہ

حال ہی میں وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان کا نظام منہدم ہو چکا ہے اور اسے ری سیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کی تقریر چند ہی گھنٹوں میں سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ لوگوں نے اسے بڑے پیمانے پر شیئر کیا، تبصرے کیے اور اس موضوع کو خوب اچھالا، مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ نظام کی مطلوبہ اصلاح کے بارے میں کوئی سنجیدہ اور تحقیقی بحث سامنے نہ آ سکی۔

اس کی بنیادی وجہ ہمارا سیاسی بیانیہ ہے۔ پاکستان میں سیاست بہت ہے، مگر حکمرانی اور اصلاحات پر بحث نہ ہونے کے برابر ہے۔ ٹی وی کے پرائم ٹائم پروگراموں میں اینکر حضرات سیاست دانوں کو بلاتے ہیں، وہ ایک دوسرے پر چیختے ہیں، چائے پیتے ہیں اور گھر چلے جاتے ہیں۔ یوں تحقیق پر مبنی، عملی اور حقیقت پسندانہ مکالمے کا فقدان پاکستان کا ایک بڑا بیانیاتی مسئلہ بن چکا ہے۔

ریپبلک پالیسی میں ہم سیاست نہیں، بلکہ حکمرانی اور اصلاحات کی بات کرتے ہیں۔ ہمارے محقق نے پاکستان میں جامع اصلاحات کے مقصد سے چار اہم کتابیں تحریر کی ہیں۔ یہ کتابیں مل کر پاکستان کے نظامِ حکمرانی کے لیے ایک مکمل اصلاحاتی ایجنڈا پیش کرتی ہیں، جن میں انتظامیہ، مقننہ، عدلیہ اور سول سروس کی اصلاح کے لیے تفصیلی تجاویز شامل ہیں۔

Fixing the Executive Branch of Government حکومت کے انتظامی ڈھانچے کو جدید اور مؤثر بنانے کا راستہ دکھاتی ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ جب تک مرکزی نوعیت کی سول سروس کو ایک پیداواری اور کارکردگی پر مبنی سول سروس میں تبدیل نہیں کیا جاتا، کوئی بھی اصلاح کامیاب نہیں ہو سکتی۔ ووڈرو ولسن نے بجا طور پر کہا تھا: “آئین بنانا آسان ہے، مگر اسے چلانا کہیں زیادہ مشکل ہے۔”

Fixing the Legislative Branch of Government پاکستان کے قانون سازی کے نظام کی اصلاح پر مرکوز ہے۔ اس کتاب کا بنیادی نظریہ یہ ہے کہ پاکستان ایک وفاقی جمہوریہ ہے، اس لیے اسے حقیقی معنوں میں جمہوریہ اور وفاق کی طرح چلنا چاہیے۔ کتاب سیاسی انتظامیہ کے قائدانہ کردار، بیوروکریسی کے بجائے منتخب نمائندوں کی بالادستی اور پارلیمانی نگرانی کے مؤثر نظام کی وکالت کرتی ہے۔

Fixing the Judicial Branch of Government عدلیہ کی انتظامیہ سے مکمل آزادی کا مطالبہ کرتی ہے، مگر ساتھ ہی پاکستان کی تاریخ میں عدلیہ کے اس کردار کو بھی نظر انداز نہیں کرتی جس نے کئی مواقع پر جمہوری عمل کو کمزور کیا۔

The Bureaucratic Coup اس بات پر زور دیتی ہے کہ آئینِ پاکستان کے الفاظ اور روح میں ہم آہنگی پیدا کی جائے۔ وفاقی معاملات وفاقی بیوروکریسی کے سپرد ہوں، جبکہ صوبائی امور صوبائی بیوروکریسی کے ذریعے چلائے جائیں۔ وفاق کی روح صرف آئینی متن میں نہیں، بلکہ ریاست کے عملی انتظام میں بھی نظر آنی چاہیے۔

یہ چاروں کتابیں طلبہ، اساتذہ، محققین، پالیسی سازوں اور ہر اُس شخص کے لیے نہایت اہم ہیں جو پاکستان کے نظامِ حکمرانی کو سمجھنا اور بہتر بنانا چاہتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]