سیاسی مداخلت کا مصنوعی بیانیہ اور پاکستان کا آئینی نظامِ حکمرانی

[post-views]
[post-views]

پاکستان کے سیاسی اور انتظامی مباحث میں کئی غلط تصورات برسوں سے رائج ہیں، لیکن ان میں سب سے زیادہ نقصان دہ یہ خیال ہے کہ اگر ’’سیاسی مداخلت‘‘ ختم کر دی جائے تو حکمرانی خود بخود بہتر ہو جائے گی۔ بظاہر یہ ایک معروضی رائے محسوس ہوتی ہے، مگر حقیقت میں یہ پاکستان کے آئینی فلسفے، جمہوری اصولوں اور ریاستی نظم کے بنیادی تصور سے متصادم ہے۔

آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 2-اے واضح طور پر اعلان کرتا ہے کہ حاکمیتِ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہے، جسے عوام اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال کرتے ہیں۔ اس آئینی اصول سے یہ حقیقت غیر مبہم ہو جاتی ہے کہ ریاستی اختیار کا سرچشمہ عوام ہیں، اور عوام کی رائے منتخب سیاسی قیادت کے ذریعے ریاستی اداروں تک پہنچتی ہے۔ اس لیے یہ کہنا کہ منتخب سیاست دانوں کو ریاستی اداروں کی رہنمائی، نگرانی یا پالیسی سازی میں کردار ادا نہیں کرنا چاہیے، نہ صرف آئین کی روح کے خلاف ہے بلکہ عوامی حاکمیت کے بنیادی تصور سے بھی انحراف ہے۔

اصل مسئلہ سیاسی مداخلت نہیں بلکہ سیاسی نگرانی، سیاسی قیادت اور غیر قانونی مداخلت کے درمیان فرق کو نظر انداز کرنا ہے۔ ہر کامیاب جمہوری نظام میں منتخب حکومت قومی ترجیحات اور پالیسیوں کا تعین کرتی ہے، جبکہ سرکاری اداروں اور سول سروس کی ذمہ داری ان پالیسیوں کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے نافذ کرنا ہوتی ہے۔ اگر اس آئینی تقسیم کو ’’سیاسی مداخلت‘‘ قرار دیا جائے تو درحقیقت ریاست اور عوامی نمائندگی کے درمیان قائم آئینی رشتے کو الٹ دیا جاتا ہے۔

یہ ابہام اتفاقی نہیں بلکہ کئی دہائیوں سے پروان چڑھنے والی ایک ایسی بیوروکریٹک سوچ کا نتیجہ ہے جو خود کو سیاسی جواب دہی سے بالاتر رکھنا چاہتی ہے۔ اس سوچ نے ہر جمہوری نگرانی کو ’’مداخلت‘‘ کا نام دے کر ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیا ہے جو ریاستی اداروں کو عوامی احتساب سے محفوظ رکھتا ہے۔ نتیجتاً انتظامی ڈھانچہ بتدریج ایسی قوت میں تبدیل ہو جاتا ہے جو عوامی نمائندوں کے بجائے اپنی داخلی ترجیحات کے مطابق کام کرتا ہے، جبکہ منتخب نمائندوں کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ ان کا کردار صرف انتخابات جیتنے تک محدود ہے اور ریاستی فیصلوں کی تشکیل میں ان کی کوئی آئینی حیثیت نہیں۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ آئین منتخب قیادت کو صرف قانون سازی کا اختیار نہیں دیتا بلکہ حکمرانی، پالیسی سازی، نگرانی اور انتظامی جواب دہی کی ذمہ داری بھی انہی کے سپرد کرتا ہے۔ بیوروکریسی، پولیس اور دیگر انتظامی ادارے ریاست کے مستقل ڈھانچے ضرور ہیں، مگر وہ منتخب حکومت کے ماتحت کام کرتے ہیں اور ان کی آئینی حیثیت عوامی مینڈیٹ کی تابع ہے، نہ کہ اس سے آزاد۔

اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ منتخب نمائندے قانون سے بالاتر ہیں۔ جمہوری نظام کی بنیاد ہی قانون کی حکمرانی پر قائم ہوتی ہے، جہاں سیاست دان، سرکاری افسران، ریاستی ادارے اور عام شہری سب یکساں طور پر قانون کے پابند ہوتے ہیں۔ مؤثر حکمرانی اسی وقت ممکن ہوتی ہے جب سیاسی نگرانی کے ساتھ قانونی احتساب بھی موجود ہو، اور دونوں کے درمیان آئینی توازن برقرار رکھا جائے۔

ری پبلک پالیسی تھنک ٹینک نے اپنی تحقیقی کتاب فکسنگ دی ایگزیکٹو میں اسی موضوع کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا ہے۔ اس کتاب میں پاکستان کی انتظامی شاخ، سول سروس، پولیس، بلدیاتی نظام اور انتظامی اصلاحات کا آئینی، قانونی اور عملی جائزہ تحقیق کی بنیاد پر پیش کیا گیا ہے، تاکہ حکمرانی کے حقیقی مسائل اور ان کے قابلِ عمل حل کو سمجھا جا سکے۔

پاکستان میں آئینی حکمرانی، انتظامی ڈھانچے اور جمہوری ریاست کے اصولوں کو سنجیدگی سے سمجھنے کے خواہش مند قارئین کے لیے فکسنگ دی ایگزیکٹو ایک اہم تحقیقی ماخذ ہے۔

ری پبلک پالیسی تھنک ٹینک کی شہرۂ آفاق کتاب دی بیوروکریٹک کو سمیت دیگر مقبول ترین کتابیں وینگارڈ بکس، لبرٹی بکس، ریڈنگز، کتاب سرائے، سنگِ میل، سعید بک بینک اسلام آباد، نیشنل بک فاؤنڈیشن اور پاکستان بھر کے دیگر معروف کتب فروشوں پر دستیاب ہیں۔ گھر بیٹھے کتاب منگوانے کے لیے رابطہ کریں: 0300-9552542۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]