واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے امریکہ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی تردید پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی ناکہ بندی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کوئی معاہدہ نہیں ہو جاتا یا ایران مکمل طور پر ہتھیار نہیں ڈال دیتا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ایران پر دوغلا رویہ اختیار کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کھلے عام مذاکرات سے انکار کر رہا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ دونوں فریق کئی دہائیوں سے جاری مسائل کے حل پر بات کر رہے ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایران نے واضح کیا کہ اس کے امریکہ کے ساتھ کوئی براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق اس وقت صرف عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق بات چیت جاری ہے، جو عالمی توانائی کی ترسیل کا ایک اہم بحری راستہ ہے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے خود مذاکرات کی خواہش ظاہر کی تھی، تاہم اب وہ مختلف بیانات دے رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز پر امریکی بحریہ کا مکمل کنٹرول ہے اور ایران کی جانب جانے والی نقل و حرکت امریکہ کی اجازت سے مشروط ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک کوئی معاہدہ طے نہیں پا جاتا یا ایران مکمل طور پر امریکی شرائط قبول نہیں کر لیتا۔
خبر کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔ اس کارروائی کے ابتدائی مقاصد میں ایران کے جوہری پروگرام، میزائل صلاحیت اور حکومت مخالف عوامی تحریک کی حمایت کو نشانہ بنانا شامل تھا۔
تاہم پانچ ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود ایران اب بھی خطے میں امریکی اور اتحادی مفادات پر میزائل اور ڈرون حملے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ اس کے افزودہ یورینیم کے ذخائر بھی برقرار ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکی دباؤ کے باوجود آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر ایرانی حملوں نے عالمی توانائی کی تجارت کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے باعث خطے میں جاری کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔








