وفاقی حکومت نے وزارتوں کی کارکردگی کا جامع جائزہ شروع کر دیا، کابینہ میں ردوبدل کا امکان

[post-views]
[post-views]

وفاقی حکومت نے وزارتوں اور ڈویژنوں کی کارکردگی کا جامع جائزہ لینے کے لیے اندرونی احتساب کا عمل شروع کر دیا ہے۔ یہ اقدام وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان کے بعد وفاقی حکومت کی مجموعی کارکردگی پر ہونے والی بحث کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے تمام وفاقی وزارتوں اور ڈویژنوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ فروری 2024 سے اب تک اپنی کارکردگی، اہم اقدامات اور حاصل شدہ نتائج پر مبنی تفصیلی رپورٹس مقررہ طریقہ کار کے مطابق وزیراعظم آفس میں جمع کرائیں۔ اس جائزے کی بنیاد پر وفاقی کابینہ میں ممکنہ تبدیلیوں سمیت اہم انتظامی فیصلے کیے جا سکتے ہیں۔

وزارتوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی بنیادی ذمہ داریوں کے مطابق پالیسی اہداف کے حصول، حکمرانی میں اصلاحات، ادارہ جاتی بہتری اور عوامی خدمات کی فراہمی میں ہونے والی پیش رفت کی مکمل تفصیلات فراہم کریں۔

کارکردگی کے اس جائزے میں اقتصادی اور مالیاتی امور سے متعلق 18 وزارتیں، قانون، داخلی سلامتی اور انتظامی معاملات کی ذمہ دار 14 وزارتیں، جبکہ صحت، تعلیم اور سماجی شعبوں سے وابستہ 9 وزارتیں شامل ہوں گی۔

وزارتوں کو مکمل ہونے والے منصوبوں، ان کے نتائج، تکمیل کی تاریخوں اور قابلِ پیمائش کامیابیوں کی تفصیلات بھی فراہم کرنا ہوں گی۔ اس کے ساتھ زیرِ تکمیل منصوبوں کی موجودہ صورتحال، تاخیر کی وجوہات، درپیش رکاوٹوں اور ان کے حل کے لیے کیے گئے اقدامات سے بھی آگاہ کرنا ہوگا۔

ہر وزارت کو انتظامی اصلاحات، اخراجات میں کمی، ادارہ جاتی استعداد بڑھانے اور حکومتی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات کی تفصیلات بھی پیش کرنا ہوں گی۔ وزیراعظم آفس نے واضح کیا ہے کہ ہر دعوے کے ساتھ دستاویزی ثبوت یا قابلِ تصدیق شواہد فراہم کرنا لازمی ہوگا، جبکہ نامکمل یا غیر مصدقہ رپورٹس قابلِ قبول نہیں ہوں گی۔

جائزے میں ترقیاتی فنڈز کے استعمال، سرکاری ترقیاتی منصوبوں کی کارکردگی، چین پاکستان اقتصادی راہداری اتھارٹی، پلاننگ کمیشن، سالانہ ترقیاتی پروگرام، معاشی پالیسیوں کے نتائج، مردم شماری اور شماریاتی نظام میں بہتری، سرکاری و نجی شراکت داری کے منصوبوں اور وزیراعظم آفس کے خصوصی پروگراموں کی پیش رفت کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔

سرکاری ذرائع کے مطابق اس جامع کارکردگی جائزے کے نتائج کی روشنی میں حکمرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے، انتظامی اصلاحات متعارف کرانے اور وفاقی کابینہ میں ممکنہ ردوبدل سے متعلق فیصلے کیے جانے کا امکان ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]