نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے بدھ کے روز کہا ہے کہ مشرقِ یروشلم اور اس کے مقدس مقامات پر اسرائیل کی کوئی خودمختاری نہیں۔ انہوں نے مسجدِ اقصیٰ میں ’’انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں‘‘ کی بار بار دراندازی کی شدید مذمت بھی کی۔
اردن کے دارالحکومت عمان میں وزارتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ فلسطین پر قابض قوت کی حیثیت سے اسرائیل کی کارروائیاں یروشلم کے مقدس مقامات کے تقدس اور تاریخی تشخص کے لیے مسلسل خطرہ بنی ہوئی ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’یہ اقدامات بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی کھلی بے توقیری اور منصفانہ، جامع اور دیرپا امن کے امکانات کو مزید کمزور کر رہے ہیں۔ پاکستان انتہائی سخت الفاظ میں مسجدِ اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی کی مذمت کرتا ہے، جس کی حوصلہ افزائی اسرائیل کے اعلیٰ وزرا کرتے ہیں اور جسے قابض افواج کے تحفظ میں انجام دیا جاتا ہے۔‘‘
اسحاق ڈار نے کہا کہ یروشلم کی مذہبی اور تاریخی حیثیت کو دانستہ طور پر نقصان پہنچا کر اسرائیل دنیا بھر کے اربوں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’یہ صرف خطے کے امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں بلکہ مختلف مذاہب کے پیروکاروں کو ایک وسیع تر تنازع میں دھکیلنے کی بھی کوشش معلوم ہوتی ہے، جس کی ہرگز اجازت نہیں دی جا سکتی۔‘‘
انہوں نے واضح کیا کہ اس حقیقت میں کسی قسم کا ابہام نہیں ہونا چاہیے کہ مقبوضہ مشرقِ یروشلم اور وہاں کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات پر اسرائیل کی کوئی خودمختاری نہیں۔ ان کے بقول، ’’یروشلم کی حیثیت یا شناخت تبدیل کرنے کے لیے کیے جانے والے تمام اقدامات کالعدم، غیر قانونی اور بے اثر ہیں۔‘‘
وزیرِ خارجہ نے خطے میں اردن کے تاریخی اور خصوصی کردار کی بھی توثیق کی اور وزارتِ اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ وقفِ یروشلم اور امورِ مسجدِ اقصیٰ کے ادارے کو مسجدِ اقصیٰ کے انتظام و انصرام کا واحد قانونی اختیار رکھنے والا ادارہ قرار دیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان غیر قانونی اسرائیلی آبادکاری کے مسلسل پھیلاؤ، نئی بستیوں کے قیام اور فلسطینی عوام پر جاری مظالم پر گہری تشویش رکھتا ہے۔
غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں انسانی بحران بدستور انتہائی نازک ہے۔ ان کے مطابق جنگ بندی اور غزہ امن منصوبے پر جزوی عمل درآمد سے کچھ بہتری ضرور آئی ہے، تاہم اب بھی انسٹھ فیصد آبادی خوراک کی قلت اور صحت کے شدید مسائل کا سامنا کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد بھی گیارہ سو سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جو اس منصوبے پر مکمل اور دیانت دارانہ عمل درآمد پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
اسحاق ڈار نے زور دیا کہ غزہ تنازع کے جامع حل کے منصوبے اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر ۲۸۰۳ پر مکمل عمل درآمد کی حمایت کی جائے، جبکہ فلسطینی عوام کے تحفظ کے لیے عرب اور اسلامی ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے۔
کانفرنس کے موقع پر اہم ملاقاتیں
وزارتِ خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے کانفرنس کے موقع پر ترکیہ، الجزائر، مصر، اردن اور صومالیہ کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
اردن کے وزیرِ خارجہ ایمن الصفدی سے ملاقات میں مقبوضہ مغربی کنارے کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر گفتگو ہوئی، جبکہ اسحاق ڈار نے یروشلم کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تحفظ اور فلسطینی عوام کی مسلسل حمایت پر اردن کے کردار کو سراہا۔
دوسری جانب مصر، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ پر مشتمل چار ملکی گروپ کے وزرائے خارجہ نے بھی کانفرنس کے موقع پر ملاقات کی۔ انہوں نے فلسطینی عوام کے جائز حقوق، حقِ خودارادیت اور چار جون انیس سو سڑسٹھ کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقِ یروشلم ہو اور جو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق قائم کی جائے۔









