حال ہی میں پنجاب کے بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نے میٹرک کے نتائج کا اعلان کیا۔ نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا؛ بعض نے 1200 میں سے 1192 نمبر حاصل کیے۔ یقیناً یہ قابلِ ستائش کامیابی ہے۔ لیکن کیا یہی وہ آخری منزل ہے جسے ہماری جمہوری ریاست سب سے زیادہ اہمیت دیتی ہے؟ آخر تعلیم کا حقیقی مقصد کیا ہے؟
ری پبلک پالیسی کے نزدیک تعلیم کے بنیادی مقاصد درج ذیل ہیں
اوّل، تعلیم کا مقصد انسان کے ذہن کو کشادہ کرنا ہے۔ کسی جماعت یا نصاب کی تکمیل کے بعد طالب علم میں تنقیدی سوچ، خود احتسابی اور اپنی اصلاح کی صلاحیت پیدا ہونی چاہیے۔ بچے کی تعلیم کا پورا تصور قدیم یونانی فلسفی سقراط کے اس مشہور قول کے گرد گھومنا چاہیے:
“غور و فکر سے عاری زندگی جینے کے قابل نہیں ہوتی۔”
اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو اپنی پسند، اپنے عقائد اور اپنے اعمال پر غور کرنا چاہیے تاکہ وہ ایک بامعنی، باوقار اور بہتر زندگی گزار سکے۔
دوم، تعلیم کا مقصد بچوں میں تخیلاتی ہمدردی پیدا کرنا ہونا چاہیے۔ انہیں دوسروں کے جذبات، احساسات اور عقائد کو سمجھنے کی صلاحیت حاصل ہونی چاہیے۔ معروف فلسفی مارتھا نوسبام اپنی کتاب جمہوریت کو علومِ انسانی کی ضرورت کیوں ہے؟ میں تخیلاتی ہمدردی کی تعریف کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ یہ وہ صلاحیت ہے جس کے ذریعے انسان خود کو کسی دوسرے فرد کی جگہ رکھ کر سوچتا ہے، اس کی زندگی کو سمجھتا ہے اور اس کی منفرد خواہشات اور احساسات کا ادراک حاصل کرتا ہے۔
سوم، تعلیم کا مقصد آزادانہ تحقیق کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔ معلومات کے بے پناہ سیلاب کے اس دور میں خود تحقیق کرنے، حقائق تک رسائی حاصل کرنے اور درست معلومات اور گمراہ کن معلومات میں فرق کرنے کی صلاحیت پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکی ہے۔ یہی وہ اوصاف ہیں جو ایک باشعور، ذمہ دار اور ترقی پسند معاشرے کی بنیاد رکھتے ہیں۔









