پاکستان میں اکثر یہ مؤقف اختیار کیا جاتا ہے کہ نئے صوبے قائم کرنے سے حکمرانی خود بخود بہتر ہو جائے گی اور ملک ترقی کی نئی منزلیں طے کرے گا۔ بظاہر یہ خیال دلکش محسوس ہوتا ہے، مگر حقیقت میں یہ وفاقیت اور گڈ گورننس کے بنیادی فرق کو نظرانداز کرتا ہے۔ صوبے وفاقی ریاست کے آئینی ڈھانچے کو متوازن بنانے کے لیے تشکیل دیے جاتے ہیں، جبکہ مقامی حکومتوں کا مقصد عوام کو مؤثر خدمات فراہم کرنا اور انتظامی کارکردگی کو بہتر بنانا ہوتا ہے۔ ان دونوں تصورات کو ایک سمجھ لینا پاکستان میں پالیسی سازی کی ایک بڑی غلطی رہی ہے۔
دنیا کے کئی کامیاب ممالک اس حقیقت کی واضح مثال ہیں۔ چین، انڈونیشیا، جاپان، بنگلہ دیش اور فلپائن جیسی واحدانی ریاستوں نے غیر معمولی معاشی ترقی اور مؤثر انتظامی نظام قائم کیے ہیں، حالانکہ انہوں نے وفاقی صوبوں کی بنیاد پر اپنا نظام تشکیل نہیں دیا۔ ان ممالک کی کامیابی کا راز مضبوط اداروں، پیشہ ورانہ انتظامیہ، بااختیار مقامی حکومتوں اور قانون کی حکمرانی میں پوشیدہ ہے۔ ان کا تجربہ یہ ثابت کرتا ہے کہ اچھی حکمرانی کا انحصار ریاست کے وفاقی یا واحدانی ہونے پر نہیں بلکہ اداروں کی صلاحیت، شفافیت اور مؤثر عمل درآمد پر ہوتا ہے۔
پاکستان ایک وفاقی ریاست ہے اور اس کا آئین اسی اصول پر استوار ہے۔ وفاق میں صوبوں کا مقصد صرف انتظامی سہولت پیدا کرنا نہیں بلکہ مختلف علاقوں کو مساوی آئینی حیثیت، سیاسی نمائندگی اور اختیارات کی منصفانہ تقسیم فراہم کرنا ہے۔ اس لیے اگر نئے صوبے بنائے جائیں تو ان کی بنیاد وفاقی توازن، قومی یکجہتی اور آئینی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے پر ہونی چاہیے۔ اگر صوبوں کی تشکیل صرف سیاسی مفادات کے لیے ہو یا اس سے نئے تنازعات جنم لیں اور وفاق کمزور ہو، تو ایسی اصلاحات ملک کے لیے فائدہ مند ثابت نہیں ہوں گی۔
پاکستان کا ایک بنیادی مسئلہ یہ بھی ہے کہ اگرچہ اس کا آئین وفاقی ہے، لیکن حکمرانی کا انداز اب بھی بڑی حد تک مرکزیت پر مبنی ہے۔ یہی تضاد سیاسی کشیدگی، انتظامی کمزوری اور اختیارات کے غیر متوازن استعمال کا سبب بنتا ہے۔ حقیقی وفاقیت اسی وقت ممکن ہے جب وفاق، صوبے اور مقامی حکومتیں آئین کے مطابق اپنے اپنے دائرۂ اختیار میں آزادانہ اور ذمہ داری کے ساتھ کام کریں۔
دوسری جانب، گڈ گورننس کا تعلق بالکل مختلف اصلاحات سے ہے۔ مضبوط اور مالی طور پر خودمختار مقامی حکومتیں، پیشہ ور اور میرٹ پر مبنی سول سروس، مؤثر عوامی ادارے، شفاف احتساب اور جدید انتظامی اصلاحات ہی عوام کو بہتر خدمات فراہم کر سکتی ہیں۔ پاکستان میں مقامی حکومتوں کے مختلف تجربات، خصوصاً دو ہزار کی دہائی کے آغاز میں نافذ ہونے والے نظام نے ثابت کیا کہ جب اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں تو عوامی خدمت کی رفتار اور معیار دونوں میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔
آخرکار کسی بھی ریاست کی کامیابی کا انحصار صوبوں کی تعداد پر نہیں بلکہ میرٹ، قانون کی حکمرانی، مضبوط اداروں اور جوابدہ نظام پر ہوتا ہے۔ وفاقیت اس بات کا تعین کرتی ہے کہ ریاستی اختیارات کس طرح تقسیم ہوں گے، جبکہ گڈ گورننس اس امر کو یقینی بناتی ہے کہ انہی اختیارات کو کس قدر دیانت داری، شفافیت اور مؤثر انداز میں استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان اگر پائیدار آئینی اور انتظامی اصلاحات چاہتا ہے تو اسے وفاقیت اور گورننس کے درمیان اس بنیادی فرق کو سمجھنا ہوگا، کیونکہ مضبوط وفاق اور مؤثر مقامی حکومتیں ہی ایک جدید، جوابدہ اور عوام دوست ریاست کی حقیقی بنیاد ہیں۔









