جمہوری ریاستی نظام: پاکستان کا گم شدہ متبادل

[post-views]
[post-views]

پاکستان میں ایک بار پھر ریاستی نظام کے بحران، حکمرانی کی ناکامی اور ممکنہ انہدام کی بات ہو رہی ہے۔ اخبارات میں بحث جاری ہے، دانشور اور تجزیہ کار تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، سیاسی حلقوں میں بے چینی پائی جاتی ہے اور عام شہری بھی یہ سوال اٹھا رہا ہے کہ آخر یہ نظام کب تک اسی طرح چل سکے گا۔ مگر اس تمام بحث کے درمیان ایک بنیادی سوال بدستور تشنۂ جواب ہے: اگر موجودہ نظام ناکام ہے تو اس کا متبادل کیا ہے؟

یہی پاکستان کا اصل المیہ ہے۔ ہم نظام کی خامیوں پر بات بہت کرتے ہیں، مگر متبادل نظام کی تشکیل پر بہت کم سوچتے ہیں۔ تحقیقی ادارے مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں مگر قابلِ عمل حل کم پیش کرتے ہیں۔ جامعات میں تحقیقی مقالے تو بہت لکھے جاتے ہیں لیکن حکمرانی کا ایسا جامع خاکہ کم ہی سامنے آتا ہے جسے ریاستی سطح پر آزمایا جا سکے۔ سیاسی جماعتیں تبدیلی کے نعرے ضرور لگاتی ہیں، لیکن اقتدار میں آنے کے بعد اکثر انہی ڈھانچوں کا حصہ بن جاتی ہیں جنہیں وہ ماضی میں تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہوتی ہیں۔

پاکستان کو تشخیص کی کمی نہیں، متبادل کی کمی ہے۔

ری پبلک پالیسی تھنک ٹینک نے اسی خلا کو پُر کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کا پیش کردہ ری پبلک گورننس نظام ریاست کے تین بنیادی ستونوں، یعنی مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ، کو ایک مربوط حکمرانی کے تصور کے تحت دیکھتا ہے۔ اس نظام کا بنیادی سوال یہ ہے کہ ریاستی طاقت کا مرکز کون ہو؟ ادارے کس کے سامنے جواب دہ ہوں؟ قانون سازی کس مقصد کے لیے ہو؟ انتظامیہ کس کے مفاد میں کام کرے؟ اور عدلیہ کس اصول کے تحت انصاف فراہم کرے؟

اس تصور میں سب سے زیادہ توجہ انتظامیہ کے اس حصے پر دی گئی ہے جسے جمہوری انتظامیہ کہا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں انتظامی اختیار وقت کے ساتھ اس قدر طاقتور ہو چکا ہے کہ اس نے ریاست کے دوسرے اداروں پر بھی اپنے اثرات قائم کیے ہیں۔ یہ صورتحال محض چند افراد یا حکومتوں کی وجہ سے پیدا نہیں ہوئی بلکہ اس کے پیچھے ایک طویل تاریخی ورثہ موجود ہے۔

برطانوی نوآبادیاتی نظام کا بنیادی مقصد عوام کو بااختیار بنانا نہیں بلکہ ان پر حکمرانی کرنا تھا۔ اس نظام میں ریاست اور شہری کے درمیان ایک ایسا انتظامی ڈھانچہ قائم کیا گیا جس میں عوام حاکم نہیں بلکہ زیرِ انتظام سمجھے جاتے تھے۔ مقامی بااثر طبقات اور ریاستی اہلکار اس نظام کے اہم ستون تھے۔ آزادی کے بعد سیاسی نقشہ تبدیل ہوا، مگر ریاستی ڈھانچے کے کئی بنیادی خدوخال برقرار رہے۔ نتیجتاً حکمرانی کا نوآبادیاتی مزاج بڑی حد تک جمہوری ریاست میں منتقل ہو گیا۔

وقت کے ساتھ طاقت کے مختلف مراکز اس ڈھانچے کا حصہ بنتے گئے۔ کبھی عسکری اثر و رسوخ نے ریاستی فیصلوں پر غلبہ حاصل کیا، کبھی انتظامی اشرافیہ نے اپنی طاقت بڑھائی اور کبھی عدالتی رویوں نے غیر منتخب قوتوں کے لیے گنجائش پیدا کی۔ یوں پاکستان میں عوامی حاکمیت کا اصول آئینی طور پر موجود ہونے کے باوجود عملی حکمرانی میں طاقت کے متعدد مراکز پیدا ہوتے رہے۔

ری پبلک گورننس نظام اسی بنیادی مسئلے کو چیلنج کرتا ہے۔

اس تصور کے مطابق ریاست کسی فرد، خاندان، جماعت، طبقے یا ادارے کی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے۔ اقتدار کا جواز عوامی رضامندی سے پیدا ہونا چاہیے اور ریاست کا ہر ادارہ عوامی مفاد کے سامنے جواب دہ ہونا چاہیے۔ مقننہ عوام کی نمائندگی اور قانون سازی کا مؤثر مرکز ہو، انتظامیہ قانون اور عوامی مفاد کے تابع ہو اور عدلیہ آزاد، غیر جانب دار اور آئینی انصاف کی محافظ ہو۔

اس تصور کی تفصیل چار اہم کتب میں سامنے آتی ہے: فکسنگ دی ایگزیکٹو، فکسنگ دی لیجسلیچر، فکسنگ دی جوڈیشری اور دی بیوروکریٹک کو۔ ان چاروں کتابوں کا بنیادی مقدمہ مختلف زاویوں سے ایک ہی اصول کی طرف اشارہ کرتا ہے: ریاست کا اصل اختیار عوام کی مرضی سے پیدا ہونا چاہیے اور حکمرانی کا مقصد عوامی فلاح ہونا چاہیے۔

یہاں عوامی فلاح محض ریاستی ترجیحات میں سے ایک ترجیح نہیں بلکہ حکمرانی کا بنیادی مقصد ہے۔ معیشت ہو یا انتظامیہ، قانون سازی ہو یا عدالتی نظام، پولیس ہو یا مقامی حکومت، ہر شعبے کی کامیابی کا پیمانہ یہی ہونا چاہیے کہ اس سے عام شہری کی زندگی میں کیا بہتری آئی۔

پاکستان میں مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس آئین نہیں، قوانین نہیں یا ادارے نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ اداروں کے درمیان طاقت، اختیار اور جواب دہی کا توازن عملی طور پر وہ نہیں جو ایک جمہوری ریاست کے لیے ضروری ہے۔ طاقت اوپر سے نیچے آتی ہے، جواب دہی اکثر نیچے سے اوپر نہیں جاتی۔ یہی خلا حکمرانی کو عوامی خدمت کے بجائے اختیار کے استعمال میں تبدیل کر دیتا ہے۔

اس لیے پاکستان کو صرف حکومت بدلنے کی نہیں بلکہ حکمرانی کے تصور پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

محض سیاسی جماعتوں کی تبدیلی سے ریاستی نظام تبدیل نہیں ہوتا۔ محض نئے قوانین بنانے سے ادارے جواب دہ نہیں ہوتے۔ محض افسران تبدیل کرنے سے انتظامیہ عوام دوست نہیں بنتی۔ اصلاح اس وقت شروع ہوگی جب ریاستی طاقت کی بنیاد، تقسیم اور جواب دہی کے اصول ازسرنو طے کیے جائیں گے۔

ری پبلک گورننس نظام اسی بحث کو آگے بڑھانے کی ایک کوشش ہے۔ یہ کوئی حتمی نسخہ ہونے کا دعویٰ نہیں کرتا۔ اس کی اصل اہمیت یہ ہے کہ یہ پاکستان کو شکایت سے تجویز، تنقید سے اصلاح اور بحران سے متبادل کی طرف لے جانے کی کوشش کرتا ہے۔

کسی بھی نظام کو حتمی اور ناقابلِ تنقید سمجھنا دانش مندی نہیں۔ ری پبلک گورننس نظام بھی بحث، تنقید، تجربے اور بہتری کے لیے کھلا ہونا چاہیے۔ اگر اس میں خامیاں ہیں تو ان کی نشاندہی ہونی چاہیے، اگر بہتر تجاویز موجود ہیں تو انہیں شامل کیا جانا چاہیے اور اگر کوئی اس سے بہتر نظام پیش کر سکتا ہے تو اسے بھی قومی مکالمے کا حصہ بننا چاہیے۔

لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ بحث شروع ہونی چاہیے۔

پاکستان مزید اس خاموشی کا متحمل نہیں ہو سکتا جس میں سب موجودہ نظام کی ناکامی کی بات کریں مگر کوئی یہ بتانے کے لیے تیار نہ ہو کہ اس کی جگہ کیا ہونا چاہیے۔ قومیں صرف شکایات سے آگے نہیں بڑھتیں۔ انہیں متبادل تصورات، قابلِ عمل منصوبے اور ادارہ جاتی اصلاحات درکار ہوتی ہیں۔

پاکستان کو ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جس میں اقتدار عوام کی امانت ہو، ادارے قانون کے تابع ہوں، حکمران جواب دہ ہوں، انتظامیہ خدمت کا ذریعہ ہو، عدلیہ انصاف کی محافظ ہو اور مقننہ حقیقی عوامی نمائندگی کا مرکز بنے۔

ری پبلک گورننس نظام اسی سمت میں ایک تجویز ہے۔

پاکستان اسے قبول کرے، اس میں ترمیم کرے یا اس سے بہتر کوئی متبادل پیش کرے، لیکن اب قومی گفتگو کا مرکز صرف یہ سوال نہیں ہونا چاہیے کہ موجودہ نظام کیوں ناکام ہے۔ اصل سوال یہ ہونا چاہیے:

پاکستان کو کس نظام کی ضرورت ہے؟

اس سوال سے فرار نے بہت وقت ضائع کر دیا ہے۔ اب خاموشی کی قیمت مزید ادا نہیں کی جا سکتی۔

ری پبلک پالیسی تھنک ٹینک کی بہترین فروخت ہونے والی کتب، جن میں اہم کتاب دی بیوروکریٹک کو بھی شامل ہے، وینگارڈ بکس، لبرٹی بکس، ریڈنگز، کتاب سرائے، سنگِ میل، سعید بک بینک اسلام آباد، نیشنل بک فاؤنڈیشن اور پاکستان بھر میں دیگر کتب فروشوں کے ہاں دستیاب ہیں۔ گھر تک ترسیل کے لیے رابطہ کریں: 0300 9552542۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]