Tahir Maqsood Chheena
پاکستان میں سیاسی مداخلت اور سیاسی احتساب کے بارے میں ایک بنیادی غلط فہمی پائی جاتی ہے۔ بیوروکریسی کے حلقوں میں اکثر یہ تصور سامنے آتا ہے کہ سیاسی حکومت یا منتخب نمائندوں کو انتظامی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے اور سرکاری افسران کو مکمل آزادی حاصل ہونی چاہیے۔ دوسری طرف بعض سیاسی نمائندے یہ سمجھتے ہیں کہ انتخابات جیتنے کے بعد انہیں ہر سرکاری افسر سے اپنی مرضی کے مطابق کام کروانے کا حق مل جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں تصورات اپنی انتہاؤں میں درست نہیں۔
پاکستان ایک وفاقی جمہوریہ ہے اور اس کے آئینی نظام میں ریاستی اختیار کا بنیادی سرچشمہ عوام ہیں۔ آئین کی قراردادِ مقاصد سے متعلق دفعہ ۲۔الف یہ اصول تسلیم کرتی ہے کہ ریاستی اختیار عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال کیا جائے گا۔ اس لیے بیوروکریسی کو ایک ایسی آزاد قوت سمجھنا جو سیاسی اختیار اور عوامی نمائندگی سے بالاتر ہو، جمہوری اور آئینی تصورِ حکومت سے مطابقت نہیں رکھتا۔
تاہم اس اصول کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہر رکن قومی اسمبلی یا رکن صوبائی اسمبلی کسی ڈپٹی کمشنر، ضلعی پولیس افسر یا دوسرے سرکاری افسر کو اپنی ذاتی خواہش کے مطابق حکم دے سکتا ہے۔ عوامی نمائندگی کسی فرد کو قانون سے بالاتر نہیں کرتی۔ منتخب نمائندہ اگر غیر قانونی کام کا حکم دے تو سرکاری افسر اس حکم پر عمل کرنے کا پابند نہیں۔ اسی طرح بیوروکریسی بھی قانون اور آئین سے بالاتر ہو کر اپنے اختیارات استعمال نہیں کر سکتی۔
یہاں اصل ضرورت سیاسی مداخلت اور سیاسی احتساب کے درمیان واضح فرق سمجھنے کی ہے۔ سیاسی احتساب جمہوری نظام کا لازمی حصہ ہے، جبکہ غیر قانونی سیاسی مداخلت انتظامی نظام کو تباہ کرتی ہے۔ دونوں کو ایک ہی چیز سمجھنا پاکستان میں گورننس کی بحث کو مسلسل الجھاتا رہا ہے۔
بیوروکریسی بنیادی طور پر سیاسی انتظامیہ کے سامنے جواب دہ ہوتی ہے۔ متعلقہ وزیر، کابینہ اور حکومت کا آئینی انتظامی نظام سرکاری مشینری کی نگرانی کرتا ہے۔ اس کے بعد حکومت اور انتظامیہ اپنی مجموعی کارکردگی کے لیے متعلقہ قانون ساز اداروں کے سامنے جواب دہ ہوتی ہیں۔ اس طرح جمہوری نگرانی کا ایک باقاعدہ ادارہ جاتی راستہ موجود ہے۔ ہر رکن اسمبلی کا کسی افسر پر براہِ راست انتظامی اختیار اس نظام کا حصہ نہیں۔
جمہوری حکومت میں سیاست دانوں کا بنیادی کام عوام سے حاصل ہونے والے مینڈیٹ کی بنیاد پر پالیسی بنانا اور حکومت کی سمت متعین کرنا ہے۔ سیاسی انتظامیہ ان پالیسیوں کو حکومتی فیصلوں میں تبدیل کرتی ہے، جبکہ بیوروکریسی قانون، قواعد اور منظور شدہ پالیسی کے مطابق ان فیصلوں پر عمل درآمد کرتی ہے۔ اگر یہ حدود واضح رہیں تو سیاست اور انتظامیہ ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک ہی حکومتی نظام کے مختلف حصے بن جاتے ہیں۔
مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کوئی سیاسی نمائندہ اپنے ذاتی، سیاسی یا گروہی مفاد کے لیے کسی افسر پر غیر قانونی دباؤ ڈالتا ہے۔ کسی افسر کی تعیناتی، تبادلے، بھرتی، ترقی، ٹھیکے، پولیس کارروائی یا کسی انتظامی فیصلے میں قانون کے خلاف دباؤ ڈالنا سیاسی احتساب نہیں بلکہ سیاسی مداخلت ہے۔ ایسے عمل سے نہ صرف اداروں کی غیر جانبداری متاثر ہوتی ہے بلکہ ریاستی نظام پر عوام کا اعتماد بھی کمزور ہوتا ہے۔
لیکن اس کے برعکس بیوروکریسی کا یہ مؤقف بھی قابل قبول نہیں کہ اسے سیاسی دباؤ سے آزادی حاصل ہونی چاہیے، اس لیے وہ سیاسی حکومت اور منتخب اداروں کے سامنے جواب دہ بھی نہ ہو۔ سرکاری افسر کے پاس انتظامی اختیار ضرور ہوتا ہے، مگر اسے عوامی مینڈیٹ حاصل نہیں ہوتا۔ عوامی مینڈیٹ سیاسی نمائندوں کے پاس ہوتا ہے، اور اسی مینڈیٹ کی بنیاد پر وہ حکومت کی پالیسی اور ترجیحات طے کرتے ہیں۔
یہی وہ بنیادی فرق ہے جسے پاکستان میں اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے۔ سیاست دان بیوروکریسی کے ذاتی ماتحت نہیں ہوتے، لیکن ہر سیاست دان بیوروکریسی کا ذاتی سربراہ بھی نہیں ہوتا۔ بیوروکریسی کسی فرد یا سیاسی جماعت کی خواہش کی نہیں بلکہ آئین، قانون، حکومتی پالیسی اور مجاز سیاسی انتظامیہ کی پابند ہوتی ہے۔ اسی طرح سیاسی حکومت بھی قانون اور آئینی حدود کی پابند ہے۔
پاکستان میں گورننس کے بحران کا ایک بڑا سبب یہی ادارہ جاتی ابہام ہے۔ جب سیاسی نمائندے انتظامی اختیار کو ذاتی اختیار سمجھتے ہیں تو سیاسی مداخلت جنم لیتی ہے، اور جب بیوروکریسی انتظامی اختیار کو سیاسی جواب دہی سے آزادی سمجھتی ہے تو انتظامی بالادستی پیدا ہوتی ہے۔ دونوں صورتیں جمہوری حکمرانی کے لیے نقصان دہ ہیں۔
ری پبلک پالیسی تھنک ٹینک کی کتاب فکسنگ دی ایگزیکٹو میں سیاسی مداخلت کی غلط فہمی کے عنوان سے ایک مکمل باب اسی اہم سوال کا جائزہ لیتا ہے کہ پاکستان میں سیاست اور بیوروکریسی کے درمیان آئینی اور قانونی تعلق کیا ہونا چاہیے، دونوں کے اختیارات کی حدود کہاں ختم ہوتی ہیں، اور سیاسی احتساب کس طرح سیاسی انتظامیہ اور قانون ساز اداروں کے ذریعے مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔
پاکستان کو نہ سیاسی آمریت کی ضرورت ہے اور نہ بیوروکریٹک بالادستی کی۔ ضرورت ایک ایسے آئینی انتظام کی ہے جس میں عوامی مینڈیٹ، سیاسی اختیار، انتظامی صلاحیت اور قانون کی حکمرانی ایک دوسرے کی حدود کا احترام کریں۔ یہی فرق سیاسی احتساب کو غیر قانونی سیاسی مداخلت سے الگ کرتا ہے اور یہی بہتر حکمرانی کی بنیاد بن سکتا ہے۔
ری پبلک پالیسی تھنک ٹینک کی بہترین فروخت ہونے والی کتابیں، جن میں اہم کتاب دی بیوروکریٹک کو بھی شامل ہے، وینگارڈ بکس، لبرٹی بکس، ریڈنگز، کتاب سرائے، سنگِ میل، سعید بک بینک اسلام آباد، نیشنل بک فاؤنڈیشن اور پاکستان بھر کے دیگر بڑے کتب فروشوں کے ہاں دستیاب ہیں۔ گھر پر ترسیل کے لیے رابطہ کریں۔
0341-4222501









