کینیث ایس روگوف
زیادہ پیداواری صلاحیت بھی معاشی بحران کا سبب بن سکتی ہے
اگلے چند ہفتوں میں امریکی وفاقی حکومت کا قرض ۴۰ کھرب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ امریکہ پر اب تقریباً اتنا ہی قرض ہے جتنا دنیا کی تمام بڑی ترقی یافتہ معیشتوں پر مجموعی طور پر ہے۔ واشنگٹن ہر سال اس قرض میں مزید تقریباً ۲ کھرب ڈالر، یعنی قومی آمدنی کا تقریباً ۶ فیصد، اضافہ کر رہا ہے۔ اس لیے طویل عرصے سے یہ واضح دکھائی دے رہا ہے کہ امریکی قرض کا موجودہ راستہ ناقابلِ پائیداری ہے۔ لیکن کیا واقعی ایسا ہے؟
مصنوعی ذہانت کے بعض حامیوں کے مطابق موجودہ غیر معمولی تکنیکی ترقی جلد ہی اس مسئلے کو ختم کر سکتی ہے۔ ان کے خیال میں معیشت میں مصنوعی ذہانت کے پھیلاؤ سے اتنی زبردست معاشی نمو پیدا ہوگی کہ حکومت کو ٹیکسوں سے بڑے پیمانے پر اضافی آمدنی حاصل ہوگی، جو قرض کی ادائیگی میں مدد دے گی۔ تاہم قرض کے بوجھ میں کمی کے لیے صرف یہ کافی نہیں کہ اضافی ٹیکس آمدنی حقیقت میں حاصل ہو؛ حکومت کو یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ وہ اس اضافی آمدنی کو بے دریغ خرچ نہ کر دے۔ یہ کام اس لیے مزید مشکل ہوسکتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی شرحِ سود میں اضافہ کر سکتی ہے، جس سے پہلے ہی بلند قرض کی خدمت کی لاگت مزید بڑھ جائے گی۔
یقیناً واشنگٹن کا قرض کا مسئلہ فوری طور پر کسی بحران میں تبدیل نہیں ہوتا۔ اب تک امریکہ کو اپنا قرض فروخت کرنے میں کوئی خاص دشواری پیش نہیں آئی، بشرطیکہ وہ اس کے لیے زیادہ قیمت ادا کرنے پر آمادہ ہو۔ آخرکار امریکہ ایک انتہائی دولت مند ملک ہے اور زیادہ شرحِ سود بھی برداشت کرسکتا ہے، اگر حکومت طویل مدتی ٹیکس اور اخراجات کے راستے میں ضروری تبدیلیاں کرنے پر آمادہ ہو۔ لیکن سرمایہ کار اب ان اشاروں پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے زیادہ پرجوش نہیں۔
ایک معقول اندازہ یہ ہے کہ جب تک کسی نہ کسی شکل میں قرض کا بحران پیدا نہیں ہوتا، عموماً تیزی سے یا مسلسل بڑھتی ہوئی شرحِ سود کی صورت میں، کوئی بھی سیاسی جماعت اقتدار میں رہتے ہوئے خسارے میں سنجیدہ کمی لانے کی کوشش نہیں کرے گی، اگر اسے اقتدار برقرار رکھنا ہے۔
یقیناً اگر معاشی نمو توقعات سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے تو وہ اضافی بجٹ فاضل پیدا کرنے میں مدد دے گی، بشرطیکہ یہ مثبت حیرتیں مسلسل سامنے آتی رہیں۔ لیکن اگر مالی مشکلات کا شکار حکومت کئی برس تک مسلسل زیادہ آمدنی کی توقع پر پراعتماد ہوجائے تو اس بات کا خطرہ موجود ہے کہ ٹیکسوں میں کمی اور سرکاری اخراجات میں اضافہ اس معاشی تیزی سے بھی آگے نکل جائے جس کا شاید کبھی مکمل طور پر ظہور ہی نہ ہو۔
خودمختار قرض اور افراطِ زر کے بحرانوں کی طویل تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ ادائیگی کی حقیقی عدم صلاحیت، کم از کم متوسط یا بلند آمدنی والے ممالک میں، تقریباً کبھی بھی بحران کی بنیادی وجہ نہیں رہی۔ امریکہ کے لیے مصنوعی ذہانت کے دور میں داخل ہوتے ہوئے اس حقیقت میں اہم سبق پوشیدہ ہیں۔
’’اس بار معاملہ مختلف ہے‘‘
امریکہ کے قرض کے مسائل کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ تاہم موجودہ صورتحال کو سمجھنے کے لیے ۲۰۰۸ء اور ۲۰۰۹ء کے عالمی مالیاتی بحران سے آغاز کافی ہے۔ اس وقت دنیا بھر کی حکومتوں نے بحران کے بعد پیدا ہونے والی کساد بازاری کو کم کرنے کے لیے دانش مندانہ معاشی طریقے کے تحت بڑے پیمانے پر حکومتی اخراجات اور معاشی ترغیبات کا سہارا لیا۔
ابتدا میں یہ خیال تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ معاشی نمو خود قرض اور آمدنی کے تناسب کو کم کردے گی۔ بڑے پیمانے پر جنگی دور کے علاوہ کیے گئے سرکاری اخراجات اور ٹیکسوں میں کمی کے نتیجے میں جمع ہونے والے قرض کو کم کرنے کا یہی بہترین طریقہ سمجھا جاتا تھا۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد معاشی نمو مسلسل شرحِ سود سے زیادہ رہی اور اس نے قرض اور آمدنی کے تناسب کو کم کرنے میں مدد دی۔ تاہم اب یہ بات تسلیم کی جاتی ہے کہ امریکہ، برطانیہ اور دیگر ترقی یافتہ معیشتوں میں شرحِ سود کو انتہائی منظم مالیاتی منڈیوں کے ذریعے کم رکھا گیا، جن میں حکومتی قرض کو ترجیح حاصل تھی۔
اس عمل کو مالیاتی جبر کہا جاتا ہے۔ یہ دراصل بچت کرنے والوں، خصوصاً کم اور متوسط آمدنی رکھنے والے افراد پر ایک بالواسطہ ٹیکس ہے، کیونکہ ان کی بچت کا بڑا حصہ بانڈز اور بینک کھاتوں میں ہوتا ہے۔
بہرحال، ۲۰۱۰ء کے بعد معاشی نمو اتنی کمزور رہی کہ انتہائی کم شرحِ سود کے باوجود قرض اور آمدنی کا تناسب مسلسل بڑھتا گیا اور مالی بحران کے پہلے سال کے مقابلے میں بھی کہیں زیادہ بلند ہوگیا۔
اچھی خبر یہ تھی کہ طویل مدتی سرکاری قرض لینے کی شرحیں بہت کم رہیں، جس کے باعث بلند اور بڑھتے ہوئے قرض نے سرکاری مالیات پر فوری طور پر زیادہ بوجھ نہیں ڈالا۔ نتیجتاً بہت سے ماہرینِ معاشیات نے آبادیاتی رجحانات اور کم پیداواری نمو کی بنیاد پر یہ فرض کرلیا کہ شرحِ سود ہمیشہ انتہائی کم رہے گی۔
یہیں سے ۲۰۱۰ء کی دہائی کی ایک خوش فہمی نے جنم لیا: قرض کے بارے میں فکر کرنے کے بجائے پالیسی سازوں کو نئے قرض کے بڑے پیمانے پر استعمال کے ذریعے حکومت کی تشکیلِ نو کے لامحدود امکانات پر توجہ دینی چاہیے۔
زیادہ قرض لینے کے حامی تسلیم کرتے تھے کہ مستقبل میں کوئی ایسا بڑا بحران آسکتا ہے جس کے لیے حکومت کو دوبارہ بڑے پیمانے پر قرض لینا پڑے۔ لیکن انہیں یقین تھا کہ طویل مدتی شرحِ سود ہمیشہ کم رہے گی، اس لیے چند برس تک معمولی خسارے یا متوازن بجٹ کے ذریعے مالی گنجائش دوبارہ پیدا کرنے کی کوشش انہیں پرانے زمانے کی سوچ لگتی تھی۔
ان کے خیال میں اگلی جنگ یا مالیاتی بحران سے ایک اور بڑے معاشی امدادی پیکیج کے ذریعے نمٹا جاسکتا تھا، اور مجموعی قرض کو اس حد تک بڑھنے میں ابھی بہت طویل عرصہ لگنا تھا کہ اس کی فکر کی جائے۔ سابق امریکی وزیرِ خزانہ لارنس سمرز کے ’’طویل مدتی جمود‘‘ کے نظریے میں یہی سوچ نمایاں تھی، جو بہت سے معاشی پالیسی ماہرین کے درمیان ایک غالب تصور بن گئی۔
بدقسمتی سے شرحِ سود کی طویل تاریخ، بالخصوص افراطِ زر کی توقعات کو مدنظر رکھنے کے بعد حقیقی شرحِ سود، نے واضح کردیا کہ ’’اس بار معاملہ مختلف ہے‘‘ کا تصور کتنا گمراہ کن تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ ایسے طویل ادوار غیر معمولی نہیں جب شرحِ سود انتہائی کم ہو، یہاں تک کہ اچانک وہ کم نہ رہے۔ مثال کے طور پر عظیم کساد بازاری کے دوران بازار پر مبنی شرحِ سود بہت کم تھی، لیکن دوسری عالمی جنگ اور اس کے بعد کے عرصے میں حکومت کو طویل مدتی شرحِ سود کم رکھنے کے لیے بڑے پیمانے پر ضابطہ کاری اور مداخلت کرنا پڑی۔
بازار پر مبنی بنیادی شرحِ سود نسبتاً تیزی سے تبدیل ہوسکتی ہے، لیکن قرض کا تناسب اتنی تیزی سے تبدیل نہیں ہوتا۔ طویل مدت میں حقیقی شرحِ سود کا تاریخی اوسط کی طرف واپس آنا، صرف ایک دہائی کے رجحان کو مستقبل پر لاگو کرنے کے مقابلے میں زیادہ محتاط پیش گوئی فراہم کرتا ہے۔
درحقیقت گزشتہ چند برسوں میں یہی کچھ ہوا ہے۔ امریکی دس سالہ افراطِ زر سے محفوظ سرکاری بانڈ کی حقیقی شرحِ منافع ۲۰۱۲ء سے ۲۰۲۱ء تک اوسطاً تقریباً صفر رہی، لیکن ۲۰۲۲ء میں بڑھنا شروع ہوئی اور اب ۲.۴ فیصد سے زیادہ ہے۔
آج شرحِ سود اکیسویں صدی کے آغاز کی سطحوں سے مشابہ دکھائی دیتی ہے اور تاریخی رجحانات کے مقابلے میں اسے نسبتاً معمول کی سطح بھی کہا جاسکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ شرحِ سود کی پیش گوئی ممکن ہے، لیکن یہ ضرور ہے کہ اس کے بڑھنے اور کم ہونے کے امکانات تقریباً یکساں ہوسکتے ہیں۔
تاہم ۲۵ برس پہلے کے مقابلے میں ایک بنیادی فرق موجود ہے: شرحِ سود شاید ملتی جلتی ہو، مگر امریکی آمدنی کے مقابلے میں قرض کہیں زیادہ ہے، اور اسی تناسب سے قرض کی ادائیگی کی لاگت بھی زیادہ ہے۔
بعض پیمانوں کے مطابق وفاقی قرض پر ادا کی جانے والی سودی رقم اب دفاعی اخراجات سے بھی زیادہ ہوگئی ہے۔ امریکہ کی بڑھتی ہوئی دفاعی ضروریات کے باوجود یہ واضح نہیں کہ مستقبل میں ان دونوں میں سے کون تیزی سے بڑھے گا۔
دونوں بڑی سیاسی جماعتوں میں خسارے کو قابو کرنے کی بظاہر کوئی خاص سیاسی خواہش موجود نہیں۔ دوسری طرف قرض دہندگان امریکی قرض رکھنے کے بدلے زیادہ منافع کا مطالبہ کرنے لگے ہیں۔
مسئلے کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ سرمایہ کار اب امریکی حکومتی قرض کو مکمل طور پر محفوظ نہیں سمجھتے، کم از کم افراطِ زر کے خطرے سے تو نہیں، اور شاید دیگر عوامل سے بھی نہیں، مثلاً سرمایہ کاروں پر مخصوص اثاثے رکھنے کی پابندیاں یا مالیاتی جبر۔
آج امریکی قرض پر طویل مدتی شرحِ سود کو متاثر کرنے والے کئی عوامل موجود ہیں۔ عالمی تجارت اور مالیات کی بڑھتی ہوئی تقسیم ان ممالک کے لیے نقصان دہ ہے جو امریکہ کی طرح بیرونی سرمائے کی بھاری آمد پر انحصار کرتے ہیں۔ دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے فوجی اخراجات بچت کے لیے دستیاب پیداوار کو کم کرکے شرحِ سود میں اضافہ کرتے ہیں۔ اسی طرح مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کا مطلب یہ ہے کہ دوسری سرمایہ کاریوں کے لیے کم سرمایہ دستیاب ہوگا، جس سے شرحِ سود پر اضافے کا دباؤ بڑھے گا۔
تیز رفتار نمو، کم ہوتی بچت
مصنوعی ذہانت کی تیزی سے ترقی کے ساتھ اب یہ نیا مؤقف سامنے آیا ہے کہ امریکہ اپنے قرض کے مسئلے کو کیسے حل کرسکتا ہے۔ اس خیال کو ٹرمپ انتظامیہ کے علاوہ بہت سے دوسرے افراد، جن میں بعض ماہرینِ معاشیات بھی شامل ہیں، فروغ دے رہے ہیں۔
اس نظریے کے مطابق مصنوعی ذہانت کا پھیلاؤ جلد ہی پیداواری صلاحیت میں زبردست اضافہ کرے گا۔ اس کے نتیجے میں حکومت کی آمدنی میں ٹیکسوں کے ذریعے بڑا اضافہ ہوگا اور بجٹ خسارے کی فکر ماضی کا قصہ بن جائے گی۔
اس سوچ کے حق میں اکثر ۱۹۹۰ء کی دہائی کی مثال دی جاتی ہے، جب ٹیکنالوجی کی تیزی نے کلنٹن انتظامیہ کو بجٹ متوازن کرنے اور امریکی قرض کے بارے میں پیدا ہونے والی بازار کی تشویش کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
کم از کم پیداواری صلاحیت کے حوالے سے اس سوچ میں کچھ وزن ضرور ہے۔ مصنوعی ذہانت مستقبل میں امریکی پیداواری نمو میں کتنا اضافہ کرسکتی ہے، اس بارے میں بلند ترین اندازے غیر معمولی ہیں۔ وادیٔ سیلیکون کے ٹیکنالوجی ماہرین میں تین سے چار فیصد تک اضافے کو بھی نسبتاً کم اندازہ سمجھا جاتا ہے۔
لیکن اس بات پر محتاط رہنے کی کئی وجوہ موجود ہیں کہ یہ اضافہ حکومت کے لیے وہ غیر معمولی اضافی آمدنی بھی پیدا کرے گا جس کی توقع اس کے حامی کررہے ہیں۔
اول، اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ وقت کے ساتھ آمدنی میں سرمائے کا حصہ بڑھ رہا ہے، یعنی مزدوروں کی آمدنی جمود کا شکار رہنے کے باوجود کمپنیوں کے منافع میں اضافہ ہورہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ سیاسی طاقت اور نقل پذیری سمیت کئی وجوہ کی بنا پر سرمائے پر ٹیکس لگانا محنت کی آمدنی پر ٹیکس لگانے کے مقابلے میں مشکل ہوگیا ہے۔ چنانچہ معیشت کے بڑھنے کے باوجود طویل مدت میں ٹیکس آمدنی اسی رفتار سے بڑھنے کا امکان کم ہے۔
یقیناً مستقبل میں اس عدم توازن کو دور کیا جاسکتا ہے اور کیا جانا چاہیے، لیکن معاشی نمو کی موجودہ سطح برقرار رکھتے ہوئے ایسا کرنا آسان نہیں ہوگا۔ مزید یہ کہ ٹیکس کے بوجھ کی مستقل ازسرنو تقسیم سیاسی طور پر قابلِ عمل ہوگی یا نہیں، یہ بھی واضح نہیں۔
مصنوعی ذہانت سے حاصل ہونے والے پیداواری فوائد بھی ممکن ہے کہ وادیٔ سیلیکون کے بہت سے سرمایہ کاروں کے اندازے سے کہیں زیادہ وقت لے کر سامنے آئیں۔ بہت سے ماہرینِ معاشیات کے مطابق اگلی دہائی میں زیادہ ممکنہ پیداواری تبدیلی ایک سے دو فیصد کے قریب ہوسکتی ہے، جو پھر بھی اہم ہوگی۔
لیکن اس اضافے کا کچھ حصہ عمر رسیدہ آبادی، بڑھتی ہوئی عوامیت پسندی اور عالمگیریت سے پسپائی کی لاگت سے زائل ہوسکتا ہے۔ ٹیکنالوجی خواہ کتنی ہی شاندار کیوں نہ ہو، مصنوعی ذہانت کی طرف منتقلی اپنے ساتھ متعدد مسائل لاسکتی ہے، خواہ وہ فوجی استعمال، سائبر حملوں یا بے قابو مصنوعی ذہانت سے متعلق ہوں۔ یہ مسائل پالیسی سازوں کو اس کی عمل درآمد کی رفتار نمایاں طور پر کم کرنے پر مجبور کرسکتے ہیں۔
اگر مصنوعی ذہانت کے نتیجے میں معاشی نمو تیزی سے بڑھتی ہے تو شرحِ سود بھی اتنی ہی یا اس سے زیادہ تیزی سے بڑھ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں حکومت کو قرض کی زیادہ ادائیگیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
شرحِ سود میں اضافے کا ایک سبب اعداد و شمار کے مراکز کی تعمیر کے لیے درکار وسیع سرمایہ کاری ہوسکتی ہے۔ صارفین کے پاس بھی بچت کرنے کی کم وجہ ہوسکتی ہے اگر انہیں یقین ہو کہ مستقبل میں وہ کہیں زیادہ خوشحال ہوں گے، خواہ زیادہ آمدنی کی وجہ سے یا اس توقع کے باعث کہ حکومت عالمگیر بنیادی آمدنی یا دیگر امدادی منصوبوں کے ذریعے ان کی بھرپور مدد کرے گی۔
کم بچت اور زیادہ سرمایہ کاری کا مطلب ہے دستیاب سرمائے کے لیے زیادہ مسابقت، اور نتیجتاً شرحِ سود میں اضافہ۔
آخر میں، اگر مصنوعی ذہانت حکومت کے لیے قابلِ ذکر نئی ٹیکس آمدنی بھی پیدا کردے، تب بھی امریکہ کو ان رقوم کے استعمال کے لیے بے شمار مطالبات کا سامنا ہوگا۔ ان میں دفاعی اخراجات میں اضافہ، ماحولیاتی تباہ کاریوں سے نمٹنا اور عوامیت پسند سیاست سے پیدا ہونے والے مطالبات شامل ہیں۔
اگر لوگ اس بات پر یقین کرنے لگیں کہ مصنوعی ذہانت کثرت اور خوشحالی لے آئے گی تو وہ پالیسی سازوں سے مستقبل کو تیزی سے اپنے قریب لانے اور اس کے فوائد فوری طور پر عوام تک پہنچانے کی توقع کریں گے۔ مثال کے طور پر سماجی تحفظ کی ادائیگیوں کو صرف افراطِ زر کے بجائے معاشی نمو کے ساتھ منسلک کرنے کا مطالبہ سامنے آسکتا ہے۔
مستقبل کا جھٹکا
امریکی پالیسی سازوں کے لیے قرض کے مسئلے سے نمٹنا صرف قلیل مدتی معاشی نمو کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کا معاملہ نہیں ہوگا بلکہ خطرات کے درمیان توازن قائم کرنے کا سوال ہوگا۔
قرض کا بحران عموماً اچانک پیدا نہیں ہوتا۔ اکثر ایسا اس وقت ہوتا ہے جب کوئی بڑا دھچکا، مثلاً سائبر جنگ یا حقیقی جنگ، کسی ایسے ملک کو اچانک اپنی گرفت میں لے لیتا ہے جو پہلے ہی بلند قرض اور بلند شرحِ سود کا سامنا کررہا ہو اور سیاسی تقسیم یا نااہلی کے باعث فیصلہ سازی میں جمود کا شکار ہو۔
ایران کی جنگ کو اس سے بڑے مسئلے کے لیے ایک محدود مشق سمجھا جاسکتا ہے۔ اسی طرح آئندہ ایک یا دو دہائیوں میں کسی بڑے ماحولیاتی بحران کا امکان بھی خارج از امکان نہیں۔ ایسا بحران بیک وقت معاشی پیداوار کو محدود اور شرحِ سود کو بلند کرسکتا ہے، جس سے روایتی معاشی امدادی اقدامات کے ذریعے ردعمل دینا زیادہ مشکل ہوجائے گا۔
مصنوعی ذہانت امریکہ کے بے قابو بڑھتے ہوئے قرض کے لیے ایک یقینی علاج دکھائی دے سکتی ہے، لیکن حقیقت میں ایسا ہونا ہرگز یقینی نہیں۔ پالیسی سازوں کو اسی کے مطابق منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔
صدیوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ دنیا کے امیر ترین ممالک، جن میں فرانس، جرمنی، جاپان اور اسپین سمیت کئی دوسرے ممالک شامل ہیں، بارہا قرض اور افراطِ زر کے خطرناک چکروں میں پھنس چکے ہیں، اور یہ واقعات ہماری توقع سے کہیں زیادہ مرتبہ پیش آئے ہیں۔
امریکہ کے معاملے میں مصنوعی ذہانت ایک انتہائی دولت مند ملک کو مزید دولت مند بنانے کی بے مثال صلاحیت رکھتی ہے، لیکن اس سے ان سیاسی دباؤ کا خاتمہ مشکل دکھائی دیتا ہے جو ہر حکومت کو اس بات پر اکساتے رہتے ہیں کہ وہ سرکاری آمدنی سے کہیں زیادہ خرچ کرتی رہے۔
اور اگر امریکہ واقعی قرض کے بحران کا شکار ہوجاتا ہے تو اس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے اور بالآخر امریکی ڈالر کی عالمی حیثیت بھی متاثر ہوگی۔
بدقسمتی سے ممکن ہے کہ ایسا بحران ہی ووٹروں اور اس کے نتیجے میں سیاست دانوں کو حقیقت کا ادراک کرانے کے لیے کافی ہو۔









