ششی تھرور
سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط مغربی ایشیا کے سلامتی کے ڈھانچے میں ایک اہم تبدیلی کی نمائندگی کرتے ہیں، جس نے بھارت میں تشویش پیدا کی ہے۔ باہمی دفاعی شق شامل کیے جانے کے باعث یہ معاہدہ سعودی سرمایہ اور اسلامی اثر و رسوخ، ترکیہ کی عسکری ٹیکنالوجی اور نیٹو کا تجربہ، جبکہ پاکستان کی عسکری افرادی قوت اور جوہری حیثیت کو ایک سہ فریقی محور میں جوڑتا ہے۔ کیا بھارت کو اس بات پر تشویش ہونی چاہیے کہ اب اسلام آباد کو یہ سمجھتے ہوئے بھارت کے خلاف دہشت گرد حملے کروانے کی کھلی چھوٹ مل گئی ہے کہ نئی دہلی کی جانب سے کسی بھی جوابی کارروائی سے اس اتحاد کا غیظ و غضب بھڑک اٹھے گا؟ اگرچہ سرخیاں لازماً اجتماعی دفاع کے تصور کو نمایاں کریں گی، لیکن اس مرحلے پر اس معاہدے کو ’’اسلامی نیٹو‘‘ قرار دینا قبل از وقت ہے۔ نیٹو کی مؤثریت ایک متحد کمانڈ نظام، پہلے سے متعین فوجی دستوں اور گہری تکنیکی باہمی مطابقت پر منحصر ہے، جبکہ مکہ معاہدے میں فی الحال نہ کوئی مربوط فوجی صدر دفتر ہے، نہ مشترکہ کمانڈ کا نظام اور نہ ہی کوئی باقاعدہ عسکری نظریہ۔ اگر مستقبل میں یہ عناصر تشکیل نہیں پاتے تو ہم کسی باقاعدہ اور مؤثر فوجی اتحاد کا سامنا نہیں کر رہے۔
مزید برآں، معاہدے کے دستخط کنندگان کی تزویراتی ترجیحات ایک جیسی نہیں ہیں۔ سعودی عرب کی بنیادی توجہ ایران کی علاقائی جارحیت، یمن سے حوثی میزائل حملوں اور مغربی سلامتی کی ضمانتوں میں محسوس کی جانے والی کمزوریوں سے نمٹنے پر ہے، جنہیں حالیہ کشیدگی کے دوران ریاض ناکافی سمجھتا ہے۔ ترکیہ اپنے دفاعی سازوسامان کی برآمدی منڈیوں کو وسعت دینے، عالم اسلام میں اپنی قیادت کا کردار مضبوط کرنے اور نیٹو، ایران اور روس کے ساتھ نازک توازن برقرار رکھتے ہوئے اپنی عملی خودمختاری قائم رکھنے کا خواہاں ہے۔ پاکستان بیرونی معاشی امداد، بھارت کے مقابل سفارتی اثر و رسوخ اور اپنی فوج کے لیے جدید ٹیکنالوجی حاصل کرنے کا خواہش مند ہے۔ اس لیے یہ معاہدہ کسی انتہائی مربوط فوجی اتحاد کے بجائے بنیادی طور پر مغربی ایشیا میں اجتماعی بازدارندگی کی ایک چھتری کے طور پر تشکیل دیا گیا معلوم ہوتا ہے، خصوصاً ایران سے متعلق علاقائی تنازعات کے اثرات کے تناظر میں۔
یہ خدشہ کہ پاکستان اب سعودی اور ترکیہ کی پشت پناہی میں بھارت کے خلاف سرحد پار دہشت گردی کی سرپرستی کر سکتا ہے، معاہدے کے متن اور علاقائی سیاسی حقائق دونوں کو غلط سمجھنے کے مترادف ہے۔ بین الاقوامی قانون کے تحت باہمی دفاعی معاہدے سختی سے بلااشتعال بیرونی جارحیت کی صورت میں لاگو ہوتے ہیں۔ پاکستانی سرزمین سے شروع ہونے والی دہشت گردی، خواہ بظاہر اسے ’’غیر ریاستی عناصر‘‘ ہی انجام دے رہے ہوں، اور اس کے بعد بھارت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف مخصوص اہداف پر جوابی کارروائی، بلااشتعال جارحیت کے زمرے میں نہیں آتی۔ اس لیے یہ بعید از قیاس ہے کہ ریاض یا انقرہ بھارتی جوابی کارروائی کو فوجی مداخلت کا محرک سمجھیں گے۔ یہ درست ہے کہ آپریشن سندور کے دوران ترکیہ نے اسی نوعیت کے حالات میں پاکستان کو سفارتی اور زبانی حمایت فراہم کی، لیکن ڈرونز کی فروخت کے علاوہ وہ عملی فوجی معاونت سے گریزاں رہا۔
نئی دہلی کے ساتھ ریاض کے تعلقات اب توانائی، تجارت اور خفیہ معلومات کے تبادلے پر محیط اربوں ڈالر کی تزویراتی شراکت داری میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ سعودی عرب نے مسلسل اس امر کو یقینی بنایا ہے کہ پاکستان کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات بھارت کے ساتھ اس کے تعلقات کی سمت متعین نہ کریں۔ ولی عہد محمد بن سلمان کی قطعاً یہ خواہش نہیں ہوگی کہ وہ اپنے ملک کے طویل المدتی معاشی وژن کو خطرے میں ڈال کر راولپنڈی کے جرنیلوں کی خاطر جنوبی ایشیا کے کسی فوجی تنازع میں الجھ جائیں۔ جب سعودی عرب کو ایران اور حوثیوں کے حملوں کا سامنا تھا تو موجودہ دوطرفہ دفاعی معاہدے کے باوجود پاکستان کی عملی عدم شمولیت، اور جب پاکستان افغانستان کے ساتھ تنازع میں الجھا ہوا تھا تو سعودی عرب کی خاموشی، اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ خطے میں دفاعی معاہدوں میں اکثر اعلیٰ سطح کی سیاسی بیان بازی کے ساتھ عملی سطح پر محتاط حکمت عملی بھی جاری رہتی ہے۔ یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ ترکیہ کے برعکس سعودی عرب آپریشن سندور کے دوران خاموش رہا، جو پاکستان کے ساتھ کئی دہائیوں کی عسکری تعاون کے باوجود محتاط غیر جانب داری کی علامت ہے۔
اگرچہ سرخیاں لازماً اجتماعی دفاع کے تصور کو نمایاں کریں گی، لیکن اس مرحلے پر اس معاہدے کو ’’اسلامی نیٹو‘‘ قرار دینا قبل از وقت ہے۔
تاہم، اگر یہ معاہدہ پاکستان کو دہشت گردی کے لیے کھلا اختیار فراہم نہیں کرتا، تب بھی بھارت اور پاکستان کے دیگر ہمسایہ ممالک اسے محض دکھاوا سمجھ کر نظرانداز نہیں کر سکتے۔ اس سہ فریقی انتظام کی حقیقی عسکری اہمیت ممکنہ تکنیکی انضمام میں پوشیدہ ہے۔ سعودی سرمایہ سے تقویت پانے والی اور پاکستان میں مشترکہ طور پر تیار یا استعمال ہونے والی ترکیہ کی جدید دفاعی صنعت راولپنڈی کی روایتی عسکری صلاحیتوں میں اضافہ کر سکتی ہے، خصوصاً بغیر پائلٹ کے فضائی نظام، برقی جنگ اور بحری پلیٹ فارم کے شعبوں میں۔ خفیہ معلومات کے تبادلے کا زیادہ گہرا نظام پاکستان کی عملی صلاحیت میں اضافہ کرے گا، جبکہ ایک باقاعدہ سیاسی بلاک بھی تشکیل پائے گا جو اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم جیسے عالمی فورمز پر ان امور کے بارے میں مشترکہ مؤقف اختیار کر سکتا ہے جو بھارت کے لیے اہم سلامتی کے معاملات ہیں، جن میں کشمیر اور بحری سلامتی شامل ہیں۔
تو نئی دہلی کو کیا کرنا چاہیے؟ معاہدے کے اعلان کے بعد بھارت کی جانب سے اختیار کی گئی محتاط سرکاری خاموشی معنی خیز ہے۔ ہمیں نہ تو تینوں ممالک کی اجتماعی دفاعی بیان بازی پر گھبراہٹ کا شکار ہونا چاہیے اور نہ ہی ایک سال تک جاری رہنے والے مذاکرات کے نتیجے میں ہونے والے معاہدے کو بے معنی سمجھنا چاہیے۔ مختصراً، ہمیں اپنی آنکھیں کھلی، کان چوکس اور بارود خشک رکھنا چاہیے۔
بھارت کی متوازن حکمت عملی کا تقاضا ہے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ اعلیٰ سطح کے سفارتی ذرائع کے ذریعے واضح مگر خاموش انداز میں رابطہ کرے اور اس امر کی ضمانت حاصل کرے کہ مکہ معاہدے کی دفاعی شقیں صرف مغربی ایشیا کے علاقائی حالات تک محدود رہیں گی اور پاکستان انہیں محدود نوعیت کی جنگی کارروائیوں کی پردہ پوشی کے لیے استعمال نہیں کر سکے گا۔ اسی دوران نئی دہلی کو اپنی بازدارندگی کی پالیسی برقرار رکھتے ہوئے واضح کرنا چاہیے کہ ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے خلاف بھارت کا ردعمل مضبوط رہے گا اور تیسرے فریق کے معاہدے اس پر اثر انداز نہیں ہوں گے۔ بھارت کو سعودی عرب اور وسیع تر خلیجی تعاون کونسل کے ساتھ اپنے دوطرفہ اقتصادی، تجارتی اور تزویراتی تعلقات کو بھی مزید مضبوط بنانا چاہیے اور بحر ہند کے خطے میں استحکام کے بنیادی مرکز کے طور پر اپنے کردار کو اجاگر کرنا چاہیے۔
آخر میں، بھارتی دفاعی انٹیلی جنس اور دفاعی خریداری کی منصوبہ بندی کو ترکیہ اور پاکستان کے درمیان عسکری صنعتی مشترکہ ترقی پر گہری نظر رکھنی چاہیے، تاکہ مقامی دفاعی تحقیق جدید ڈرون ٹیکنالوجی، برقی جنگی نظام اور مشترکہ بحری پلیٹ فارم کے تدارک کو ترجیح دے۔ اس کے لیے بھارت کو ممکنہ طور پر ایسے شراکت دار تلاش کرنے ہوں گے جو ان شعبوں میں اس سے کہیں آگے ہوں۔ اس عمل میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے اور اسے تیز رفتاری سے آگے بڑھایا جانا چاہیے، اس کے باوجود کہ بوفرز اسکینڈل کے بعد سے دفاعی خریداری طویل اور پیچیدہ نوکرشاہی طریقۂ کار کی بھول بھلیوں میں پھنسی ہوئی ہے۔
آخرکار، مکہ معاہدے کو ایک ایسے باقاعدہ جنگی اتحاد کے بجائے تزویراتی توازن قائم کرنے کے ایک پیچیدہ آلے کے طور پر سمجھنا چاہیے جو ایک غیر مستحکم خطے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔ سعودی سرمایہ، ترکیہ کی عسکری ٹیکنالوجی اور پاکستان کی عملی عسکری افرادی قوت کو اجتماعی بازدارندگی کے ایک ڈھانچے میں جوڑ کر تینوں دستخط کنندگان نے ایک قیمتی سیاسی اور اقتصادی حصار ضرور قائم کیا ہے، لیکن اس کے ساتھ ایک حقیقی فوجی اتحاد کی ذمہ داریاں قبول نہیں کیں۔
بھارت کے لیے ایک حقیقت پسندانہ حکمت عملی، جس میں مضبوط انسدادِ دہشت گردی بازدارندگی، خلیج کے ساتھ گہری اقتصادی شراکت داری اور اندرونِ ملک ہدفی دفاعی جدت شامل ہو، فی الحال کافی ہونی چاہیے۔









