عالمی نظام تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، لیکن یہ تبدیلی اتنی سادہ نہیں کہ اسے ایک نئی سرد جنگ یا امریکا اور چین کے درمیان دو واضح عالمی بلاکس کی تشکیل قرار دیا جائے۔ ممالک لازماً امریکا کو چھوڑ کر چین یا روس کے کیمپ میں شامل نہیں ہو رہے۔ اس کے بجائے بہت سے ممالک بیک وقت طاقت کے مختلف مراکز کے ساتھ تعلقات استوار کر رہے ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم اس ابھرتے ہوئے رجحان کی نمایاں مثال ہے۔
رواں سال شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شاید سب سے اہم پیش رفت ترک صدر رجب طیب اردوان کی جانب سے تنظیم کی مکمل رکنیت حاصل کرنے کا عندیہ تھا۔ ترکی بدستور نیٹو کا رکن ہے اور اردوان نے واضح کیا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے ساتھ قریبی تعلقات کا مطلب مغرب سے دوری اختیار کرنا نہیں۔ یہی بات اس پیش رفت کو اہم بناتی ہے۔ نیٹو کا ایک رکن ملک اب اپنے مغربی اتحاد برقرار رکھتے ہوئے چین اور روس کے زیراثر ایک تنظیم میں شمولیت کو متضاد نہیں سمجھتا۔
سرد جنگ کے خاتمے کے بعد قائم ہونے والے عالمی نظام کے عروج پر ایسی صورتِ حال کا تصور کرنا بھی مشکل تھا۔ کئی دہائیوں تک امریکی اتحاد صرف فوجی تحفظ تک محدود نہیں رہے بلکہ انہوں نے عالمی سفارت کاری، مالیاتی نظام اور تزویراتی تعاون کی ساخت متعین کرنے میں بھی بنیادی کردار ادا کیا۔ ممالک واشنگٹن سے اختلاف کرسکتے تھے اور اس کے حریفوں کے ساتھ تجارت بھی کرسکتے تھے، لیکن عالمی نظام کا بنیادی مرکز امریکا ہی تھا۔
اب یہ تصور بتدریج کمزور ہو رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا کے ممالک امریکا مخالف یا چین نواز ہوتے جا رہے ہیں۔ اصل تبدیلی یہ ہے کہ زیادہ حکومتیں اپنی پوری خارجہ پالیسی کو کسی ایک بڑی طاقت کے گرد ترتیب دینے سے گریز کر رہی ہیں۔
اپسالا یونیورسٹی میں امن اور تنازعات کے پروفیسر اشوک سوین کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ’’امریکا فرسٹ‘‘ پالیسی نے اس عمل کو مزید تیز کیا ہے۔ ان کے خیال میں اتحادوں پر دباؤ، غیر متوقع محصولات، کثیرالجہتی اداروں کے بارے میں شکوک اور روایتی اتحادیوں کے ساتھ زیادہ مفاداتی رویے نے امریکی وعدوں کی پائیداری کے بارے میں خدشات پیدا کیے ہیں۔
بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس اس ابھرتے ہوئے عالمی نظام کی ایک جھلک پیش کرتا ہے۔ تنظیم میں چین، روس، بھارت، پاکستان، ایران، بیلاروس اور وسطی ایشیائی ریاستیں شامل ہیں۔ یہ ممالک کوئی متحد سیاسی بلاک تشکیل نہیں دیتے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان دیرینہ تنازعات موجود ہیں۔ چین اور بھارت کے تعلقات میں بھی اہم اختلافات ہیں، جبکہ روس اور چین قریبی تعاون کے باوجود باقاعدہ اتحادی نہیں ہیں۔ اس کے باوجود یہ تمام ممالک ایک ہی تنظیم میں شرکت کو اپنے لیے مفید سمجھتے ہیں۔
شاید یہی ابھرتے ہوئے عالمی نظام کی ایک بنیادی خصوصیت ہے: ممالک باقاعدہ اتحادی بنے بغیر تعاون کرسکتے ہیں اور مکمل طور پر ایک دوسرے سے الگ ہوئے بغیر مسابقت بھی جاری رکھ سکتے ہیں۔
چین اس طرزِ عمل کے ساتھ خاصا مطمئن دکھائی دیتا ہے۔
صدر شی جن پنگ نے شنگھائی تعاون تنظیم کو عدم صف بندی اور عدم تصادم کے اصولوں پر قائم ادارے کے طور پر پیش کرتے ہوئے عالمی جنوب کے لیے زیادہ مؤثر کردار اور زیادہ نمائندہ عالمی نظام کا مطالبہ کیا۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ بیجنگ ان تصورات کو تجارت، سرمایہ کاری، نقل و حمل، ٹیکنالوجی، توانائی اور مالیاتی روابط کے ذریعے عملی تعاون میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ حکمتِ عملی اس لیے اہم ہے کہ عالمی اثر و رسوخ صرف بیانات سے نہیں بلکہ اداروں اور پائیدار تعلقات سے تشکیل پاتا ہے۔ بندرگاہیں، ریلوے نظام، توانائی کے منصوبے، ٹیکنالوجی میں شراکت داری، مالیاتی انتظامات اور تجارتی راہداریاں بتدریج ایسے روابط قائم کرسکتی ہیں جن کے ذریعے مختلف ممالک ایک دوسرے کے زیادہ قریب آتے ہیں۔
روس بھی مختلف حالات میں اسی سمت بڑھ رہا ہے۔ صدر ولادیمیر پیوٹن قومی کرنسیوں کے زیادہ استعمال کی حمایت کرچکے ہیں اور شنگھائی تعاون تنظیم کے ایک ایسے ترقیاتی بینک کے قیام کے حامی ہیں جو ان مالیاتی نظاموں سے آزاد ہو جنہیں ماسکو کے خیال میں سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ مغربی پابندیوں کے باعث روس کی ڈالر پر مبنی مالیاتی نظام کے بعض حصوں تک رسائی محدود ہوئی ہے، اس لیے متبادل نظام کی تلاش اس کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔
تاہم ایسے انتظامات کو عملی شکل دینے کے لیے چین کے پاس روس کے مقابلے میں کہیں زیادہ اقتصادی صلاحیت موجود ہے۔ چین کی وسیع صنعتی بنیاد، سرمایہ، ٹیکنالوجی، بڑی داخلی منڈی اور عالمی تجارتی روابط اسے ایسے وسائل فراہم کرتے ہیں جو روس کے پاس اسی پیمانے پر موجود نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم چین کے لیے ایک واضح امریکا مخالف اتحاد بننے کے بجائے ایک لچکدار عالمی پلیٹ فارم کے طور پر زیادہ مفید ثابت ہوسکتی ہے۔ ممالک واشنگٹن کے ساتھ تعلقات ختم کیے بغیر بیجنگ کے ساتھ تعاون بڑھا سکتے ہیں اور اس کے لیے انہیں باضابطہ طور پر چینی قیادت تسلیم کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔
ترکی اس حکمتِ عملی کی نمایاں مثال ہے۔ انقرہ نیٹو کی رکنیت اور یورپ و امریکا کے ساتھ تعلقات برقرار رکھتے ہوئے روس کے ساتھ اقتصادی اور توانائی روابط قائم رکھنا اور چین و وسطی ایشیا کے ساتھ تعاون بڑھانا چاہتا ہے۔ مقصد واشنگٹن پر انحصار ختم کرکے بیجنگ پر انحصار کرنا نہیں، بلکہ اتنے متنوع تعلقات قائم کرنا ہے کہ ترکی کسی ایک طاقت پر ضرورت سے زیادہ منحصر نہ ہو۔
دیگر درمیانی طاقتیں بھی مختلف انداز میں اسی حکمتِ عملی کی طرف بڑھ رہی ہیں۔
یہاں امریکی پالیسی کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ واشنگٹن اب بھی غیر معمولی طاقت رکھتا ہے، لیکن اس کے وعدوں کے تسلسل کے بارے میں غیر یقینی دوسرے ممالک کو متبادل راستے تلاش کرنے پر آمادہ کرسکتی ہے۔ اگر کسی امریکی اتحادی کو یہ خدشہ ہو کہ مستقبل میں واشنگٹن کی حمایت زیادہ مشروط ہوسکتی ہے تو وہ بحران آنے سے پہلے ہی اپنے تعلقات کو متنوع بنانے کی کوشش کرے گا۔
اس تنوع کا مطلب امریکا کو چھوڑ دینا نہیں۔ کوئی ملک امریکی ہتھیار خریدتے ہوئے کسی دوسری عالمی تنظیم کا رکن بھی بن سکتا ہے۔ وہ واشنگٹن کے ساتھ سلامتی کا تعاون جاری رکھتے ہوئے چین کے ساتھ تجارتی معاہدے کرسکتا ہے، متبادل ادائیگی کے نظام تشکیل دے سکتا ہے اور مختلف عالمی طاقتوں سے سرمایہ کاری حاصل کرسکتا ہے۔
وقت کے ساتھ بظاہر الگ الگ نظر آنے والے یہی فیصلے عالمی طاقت کی ساخت تبدیل کرسکتے ہیں۔
کئی دہائیوں تک امریکی اثر و رسوخ کو اس کے وسیع عالمی ادارہ جاتی نظام سے طاقت ملتی رہی۔ جتنے زیادہ ممالک امریکی قیادت میں قائم اداروں، مالیاتی نظام اور سلامتی کے انتظامات پر انحصار کرتے گئے، اتنے ہی یہ ادارے زیادہ طاقتور اور مؤثر ہوتے گئے۔
چین کے لیے ضروری نہیں کہ وہ ہر امریکی ادارے کا الگ چینی متبادل قائم کرے۔ وہ اپنے گرد پہلے سے موجود مختلف اداروں اور انتظامات کو آپس میں مربوط کرسکتا ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم سیاسی اور سلامتی کے تعاون کا پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے، بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ بنیادی ڈھانچے اور تجارت کو جوڑتا ہے، برکس اقتصادی تعاون کے لیے ایک اور فورم مہیا کرتا ہے، قومی کرنسیوں میں ادائیگی کے انتظامات روایتی مالیاتی نظام سے باہر تجارت کے امکانات بڑھاتے ہیں، جبکہ چین کی صنعتی صلاحیت متبادل رسدی زنجیروں کی تشکیل میں مدد دے سکتی ہے۔
ان میں سے کسی ایک نظام کے لیے ضروری نہیں کہ وہ مغربی نظام کو مکمل طور پر تبدیل کردے۔ لیکن مجموعی طور پر یہ ممالک کے لیے نئے متبادل اور زیادہ انتخاب پیدا کرسکتے ہیں۔
یہ فرق بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
ابھرتی ہوئی دنیا شاید واضح امریکی اور چینی بلاکس میں تقسیم نہ ہو۔ اس کے بجائے مختلف اور ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ایسے عالمی نیٹ ورک وجود میں آسکتے ہیں جہاں ممالک مختلف معاملات پر مختلف طاقتوں کے ساتھ تعاون کریں گے۔
اس تبدیلی کو امریکا کے فوری زوال کے طور پر دیکھنا بھی درست نہیں۔ امریکا کے پاس اب بھی وسیع عالمی اتحاد، غیر معمولی فوجی صلاحیت، عالمی مالیاتی نظام میں گہرا اثر و رسوخ اور ایسے کئی فوائد موجود ہیں جنہیں چین کے لیے آسانی سے حاصل کرنا ممکن نہیں۔ مستقبل قریب میں واشنگٹن عالمی معاملات کا ایک مرکزی کردار رہے گا۔
اس لیے اصل سوال صرف یہ نہیں کہ آیا چین امریکا کی جگہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت بن جائے گا۔
زیادہ اہم مقابلہ شاید اس بات پر ہوگا کہ دنیا کے ممالک کے فیصلوں کے لیے کون سی طاقت سب سے زیادہ ناگزیر بن جاتی ہے۔
چین کئی برسوں سے ایشیا، افریقہ، مشرقِ وسطیٰ اور دیگر خطوں میں بنیادی ڈھانچے، تجارتی راستوں، صنعتی روابط، ٹیکنالوجی کے نیٹ ورکس اور سفارتی فورمز پر کام کر رہا ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم اسی وسیع تر نظام کا ایک حصہ ہے۔ اس کے ارکان نیٹو طرز کا فوجی اتحاد تشکیل نہیں دے رہے بلکہ ایک ایسا لچکدار نظام بنا رہے ہیں جس میں حکومتیں ایک شعبے میں تعاون کرتے ہوئے دوسرے شعبے میں ایک دوسرے کی حریف رہ سکتی ہیں۔
ممکن ہے یہی نئے اتحادوں کے دور کی سب سے نمایاں خصوصیت ثابت ہو۔
پرانا عالمی نظام ممالک سے بالواسطہ یا بلاواسطہ یہ سوال کرتا تھا کہ وہ کس طرف کھڑے ہیں۔ ابھرتا ہوا نظام انہیں تیزی سے یہ جواب دینے کی گنجائش دے رہا ہے: ایک ہی وقت میں کئی اطراف۔
اس لیے شنگھائی تعاون تنظیم کی اہمیت اس بات میں نہیں کہ اس نے مغربی قیادت میں قائم عالمی نظام کی جگہ لے لی ہے، بلکہ اس میں ہے کہ یہ مستقبل کے عالمی نظام کی ایک ممکنہ تصویر پیش کرتی ہے—ایک ایسا نظام جو زیادہ کثیر قطبی، زیادہ مفاداتی اور زیادہ لچکدار ہوگا۔
واشنگٹن اس دنیا کی تشکیل میں بدستور ایک بڑی طاقت رہے گا، لیکن اب شاید وہ اس کا واحد مرکز نہ رہے۔









