پاکستان میں معیشت کے تقریباً تمام بڑے شعبوں، بلکہ ان کے ذیلی شعبوں کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر وزارتیں اور محکمے موجود ہیں۔ زراعت، لائیو اسٹاک، صنعت، کان کنی و معدنیات، توانائی، تجارت، سیاحت، ماہی گیری، جنگلات اور دیگر پیداواری شعبوں کے لیے باقاعدہ انتظامی ڈھانچے قائم ہیں۔ لیکن ایک بنیادی سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے: کیا ان شعبوں کو واقعی ان کے متعلقہ ماہرین چلا رہے ہیں، یا ان کی قیادت بنیادی طور پر جنرلِسٹ بیوروکریسی کے ہاتھ میں ہے؟
یہ سوال محض انتظامی نوعیت کا نہیں بلکہ پاکستان کے معاشی مستقبل سے براہِ راست متعلق ہے۔
ہمیں سنجیدگی سے یہ سوال اٹھانا ہوگا کہ پاکستان میں زراعت پر اتنی دہائیوں سے کام ہونے کے باوجود زرعی پیداوار اور فی ایکڑ پیداوار میں وہ بہتری کیوں نہیں آئی جو ہماری صلاحیت کے مطابق ہونی چاہیے تھی؟ زرعی شعبے میں انسانی وسائل کی ترقی کیوں نہیں ہو سکی؟ زراعت کا شعبہ مسلسل مسائل کا شکار کیوں ہے، جبکہ اس کے لیے ایک مکمل سرکاری محکمہ اور وسیع انتظامی ڈھانچہ موجود ہے؟
اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ زراعت کے محکمے کی قیادت کون کرتا ہے؟
ایک جنرلِسٹ افسر کو بعض اوقات صرف ایک یا دو سال کے لیے محکمہ زراعت میں تعینات کیا جاتا ہے۔ وہ محکمہ سنبھالتا ہے، قومی اور بین الاقوامی تربیت حاصل کرتا ہے، پالیسی اور انتظامی معاملات سے واقفیت حاصل کرتا ہے اور پھر اس کا تبادلہ کسی دوسرے محکمے میں کر دیا جاتا ہے۔ یوں شعبہ جاتی علم اور ادارہ جاتی تجربہ مستقل طور پر کسی ایک شعبے میں جمع نہیں ہو پاتا۔ دوسری طرف، جن پیشہ ور افراد نے اپنی پوری زندگی زراعت، تحقیق، پیداوار، آبپاشی، بیج، مٹی، زرعی ٹیکنالوجی اور جدید کاشت کاری جیسے شعبوں میں گزاری ہوتی ہے، وہ اکثر فیصلہ سازی کے بنیادی مراکز میں موجود نہیں ہوتے۔
یہ محض انتظامی کمزوری نہیں؛ یہ ادارہ جاتی ڈیزائن کا مسئلہ ہے۔
پھر یہی سوال صنعت کاری کے بارے میں پیدا ہوتا ہے۔ پاکستان میں صنعت کاری کیوں نہیں ہو سکی، جبکہ صنعتوں کے لیے باقاعدہ محکمے اور ادارے موجود ہیں؟ لائیو اسٹاک میں وہ ترقی کیوں نہیں ہوئی جس کی پاکستان میں غیر معمولی صلاحیت موجود ہے؟ کان کنی اور معدنیات کے شعبے میں موجود بڑے قدرتی وسائل اب تک وسیع معاشی قدر میں کیوں تبدیل نہیں ہو سکے؟ سیاحت، ماہی گیری، جنگلات اور دیگر پیداواری شعبوں میں موجود امکانات کو ہم پائیدار معاشی سرگرمی میں کیوں تبدیل نہیں کر سکے؟
اگر ہر شعبے کے لیے محکمہ موجود ہے، بجٹ موجود ہے، افسر شاہی موجود ہے، پالیسیاں موجود ہیں اور قواعد و ضوابط موجود ہیں، تو پھر نتائج کیوں نہیں ہیں؟
یہاں پاکستان کے معاشی بحران کو صرف مالیاتی بحران سمجھنا ایک بڑی غلطی ہوگی۔ پاکستان کا معاشی بحران دراصل بڑی حد تک حکمرانی اور بیوروکریسی کے بحران سے بھی جڑا ہوا ہے۔
پاکستان کا موجودہ حکمرانی کا ماڈل ایک ایسے مرکزی اور استخراجی انتظامی ڈھانچے پر قائم ہے جس میں ریاستی وسائل کی وصولی سے لے کر معیشت کی نگرانی، اجازت ناموں، ضابطہ کاری، پالیسی سازی، نفاذ اور انتظام تک، بیوروکریسی کا کردار غیر معمولی طور پر وسیع ہے۔ نتیجتاً معیشت کے تقریباً ہر پیداواری شعبے پر ایک ایسی انتظامی مشینری غالب آ جاتی ہے جس کی بنیادی تربیت عمومی انتظامی امور میں ہوتی ہے، نہ کہ اس مخصوص شعبے کی معاشی اور تکنیکی پیچیدگیوں میں۔
یہاں ایک بنیادی اصول کو سمجھنے کی ضرورت ہے:
عمومی انتظام اور معاشی انتظام ایک ہی چیز نہیں ہیں۔
ایک اچھا عمومی منتظم مختلف سرکاری امور کو منظم کر سکتا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ زراعت، صنعتی پیداوار، معدنیات، توانائی، لائیو اسٹاک، برآمدات یا سیاحت جیسے پیچیدہ اور تخصصی معاشی شعبوں کی بہترین قیادت بھی کر سکتا ہے۔
معیشت علم، تخصص، تحقیق، سرمایہ، ٹیکنالوجی، مارکیٹ، پیداوار اور مسابقت کا نظام ہے۔ اسے محض فائلوں، قواعد، تبادلوں اور انتظامی احکامات کے ذریعے مؤثر طور پر نہیں چلایا جا سکتا۔
پاکستان کا مسئلہ یہ بھی ہے کہ پاکستانی معیشت کو معاشی ماہرین اور معاشی منتظمین نے مسلسل قیادت نہیں دی؛ اسے بڑی حد تک جنرلِسٹ بیوروکریسی نے انتظامی طور پر چلایا ہے۔ اس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ ہماری پیداواری معیشت کے وہ شعبے جو روزگار، برآمدات اور دولت پیدا کر سکتے تھے، اپنی حقیقی صلاحیت کے مطابق ترقی نہیں کر سکے۔
آج ہم بار بار پاکستان کی زرعی صلاحیت، معدنی صلاحیت، لائیو اسٹاک کی صلاحیت، سیاحتی صلاحیت اور دیگر معاشی امکانات کا ذکر کرتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ صلاحیت کو معاشی پیداوار میں کون تبدیل کرے گا؟
اگر کسی شعبے کی قیادت اور فیصلہ سازی ایسے افسران کے ہاتھ میں ہو جو اس شعبے میں عارضی طور پر تعینات ہوں، جن کا بنیادی انتظامی کیریئر مختلف شعبوں میں گردش پر مبنی ہو، اور جن کے پاس اس مخصوص شعبے کا گہرا پیشہ ورانہ تجربہ نہ ہو، تو محض ایک نیا محکمہ قائم کر دینے یا ایک نئی پالیسی بنا دینے سے معاشی تبدیلی نہیں آ سکتی۔
پاکستان کو اس انتظامی فلسفے پر نظرثانی کرنا ہوگی۔
کیا زراعت کا محکمہ زرعی ماہرین کی قیادت میں نہیں ہونا چاہیے؟ کیا لائیو اسٹاک کا نظام ویٹرنری، حیوانی پیداوار اور متعلقہ معاشی ماہرین کی قیادت میں نہیں ہونا چاہیے؟ کیا صنعتی پالیسی اور صنعتی ترقی ایسے ماہرین کے ذریعے نہیں ہونی چاہیے جو صنعت، سرمایہ کاری، پیداوار، ٹیکنالوجی اور عالمی منڈیوں کو سمجھتے ہوں؟ کیا معدنیات کا شعبہ ارضیاتی، معدنی، مالیاتی اور معاشی ماہرین کی مشترکہ قیادت میں نہیں ہونا چاہیے؟
یہ سوالات دراصل پاکستان میں ریاستی انتظام کے پورے ماڈل پر سوال اٹھاتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ جنرلِسٹ بیوروکریسی کے بجائے شعبہ جاتی اور معاشی تخصص کو ریاستی فیصلہ سازی کا مرکز بنایا جائے۔ جنرلِسٹ بیوروکریسی کا کردار جہاں ضروری ہو وہاں انتظامی رابطہ، نگرانی اور بین المحکمہ جاتی ہم آہنگی تک محدود کیا جا سکتا ہے، لیکن معیشت کے پیداواری شعبوں کی پالیسی سازی اور انتظامی قیادت میں متعلقہ شعبے کے ماہرین کو مرکزی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔
اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو معیشت میں غیر ضروری ضابطہ بندی، اجازت ناموں اور انتظامی مداخلت کو بھی بڑے پیمانے پر کم کرنا ہوگا۔ حکومت کا کام ہر معاشی سرگرمی کو خود چلانا یا ہر قدم کو اجازت کے نظام سے گزارنا نہیں ہونا چاہیے۔ ریاست کو ایک ایسا ماحول پیدا کرنا چاہیے جس میں کاروبار، سرمایہ کاری، پیداوار، جدت اور مسابقت فروغ پا سکیں۔
ضلع: پاکستان کی معاشی ترقی کی بنیادی اکائی
پاکستان کی معاشی اصلاحات کا ایک اور اہم پہلو ضلعی معیشت ہے، جس کا تصور میں نے اپنی کتاب Fixing the Executive میں پیش کیا ہے۔
پاکستان کے تمام اضلاع ایک جیسے نہیں ہیں۔ ہر ضلع کی جغرافیائی ساخت، آب و ہوا، زمین، پانی، قدرتی وسائل، انسانی سرمایہ، مارکیٹ اور معاشی امکانات دوسرے ضلع سے مختلف ہیں۔
راجن پور کو دیکھیں تو وہاں لائیو اسٹاک اور زراعت کے غیر معمولی امکانات موجود ہیں۔ اٹک کو دیکھیں تو معدنیات اور کان کنی کے امکانات نمایاں ہیں۔ نارووال کو دیکھیں تو زرعی پیداوار اور اس سے منسلک صنعتوں کی بڑی گنجائش موجود ہے۔ اسی طرح ساحلی علاقوں کی اپنی معیشت ہے، شمالی علاقوں کی اپنی، میدانی علاقوں کی اپنی اور معدنی علاقوں کی اپنی۔
پاکستان کی سب سے بڑی معاشی طاقت ہی اس کا یہ تنوع ہے۔
ایک ایسا ملک جس میں ساحل سے لے کر بلند پہاڑی علاقوں تک مختلف جغرافیہ، موسم، وسائل اور معاشی امکانات موجود ہوں، وہاں ایک ہی مرکزی انتظامی نسخہ ہر ضلع کے لیے مؤثر نہیں ہو سکتا۔
اس لیے پاکستان کو مضبوط ضلعی معیشت کی طرف بڑھنا ہوگا۔ ہر ضلع کے اپنے معاشی امکانات کی نشاندہی، مقامی انسانی وسائل کی تیاری، مقامی سرمایہ کاری، مقامی صنعت، زرعی ویلیو چین، سیاحت، معدنیات اور دیگر شعبوں کی بنیاد پر ضلعی معاشی منصوبہ بندی ہونی چاہیے۔
معاشی اصلاحات دراصل انتظامی اصلاحات بھی ہیں
پاکستان میں معاشی بحران کا حل صرف نئے قرضے، ٹیکسوں میں اضافہ، بجٹ میں تبدیلی یا نئی معاشی پالیسی نہیں ہے۔ اگر معاشی پالیسی پر عمل درآمد کرنے والا انتظامی ڈھانچہ ہی کمزور، غیر تخصصی اور حد سے زیادہ مرکزی ہو تو بہترین معاشی پالیسی بھی مطلوبہ نتائج پیدا نہیں کر سکتی۔
اسی لیے پاکستان کی معاشی اصلاحات کو انتظامی اصلاحات سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان کی معیشت اس وقت تک اپنی حقیقی صلاحیت حاصل نہیں کر سکتی جب تک اس کے پیداواری شعبوں کو ان کے متعلقہ ماہرین اور معاشی منتظمین کے ذریعے نہیں چلایا جاتا۔
پاکستانی معیشت کو جنرلِسٹ بیوروکریسی سے نکال کر تخصص، پیشہ ورانہ انتظام، معاشی آزادی، مقامی معاشی اختیار اور شعبہ جاتی ماہرین کی قیادت کی طرف منتقل کرنا ہوگا۔
یہی وہ بنیادی بحث ہے جسے میں نے اپنی کتاب Fixing the Executive اور اپنی دوسری کتابوں میں ریاستی انتظام اور حکمرانی کے حوالے سے اٹھایا ہے۔
پاکستان کے لیے معیشت کو درست کرنا محض معاشی اصلاح کا مسئلہ نہیں؛ یہ ریاست کے حکمرانی کے ماڈل کو درست کرنے کا مسئلہ ہے۔
اور اس اصلاح کے لیے دو چیزیں ناگزیر ہیں:
پہلی، ایسا حکمرانی کا ماڈل جو تخصص، مقامی اختیار اور معاشی آزادی کو قبول کرے؛
اور دوسری، ایسا سیاسی استحکام جو ان اصلاحات کو مستقل مزاجی کے ساتھ نافذ ہونے کا موقع دے۔
اس پورے عمل کی سب سے اہم اصلاح یہی ہونی چاہیے کہ پاکستانی معیشت کے شعبوں کی قیادت جنرلِسٹ بیوروکریسی کے بجائے معاشی ماہرین، شعبہ جاتی ماہرین اور پیشہ ور معاشی منتظمین کو دی جائے۔ جنرلِسٹ بیوروکریسی کو معیشت سے مکمل طور پر ختم کرنا مقصد نہیں، لیکن اسے معیشت کی پیشہ ورانہ قیادت اور شعبہ جاتی فیصلہ سازی کا متبادل بنانا ضرور ختم کرنا ہوگا۔
پاکستان کی معیشت کو بہتر بنانا ہے تو پہلے پاکستان کے معاشی انتظام کا طریقہ بدلنا ہوگا۔ اور معاشی انتظام بدلنا ہے تو پاکستان کا حکمرانی کا ماڈل بدلنا ہوگا









