بہتر طرزِ حکمرانی کی پہلی شرط سیاستدان کی اصلاح ہے

[post-views]
[post-views]

جمہوری اقدار کی بقا کے لیے محض انتخابات، پارلیمانی اکثریت اور آئینی اداروں کا وجود کافی نہیں۔ ایک مضبوط جمہوریت کے لیے ایسے قانون ساز بھی ضروری ہیں جو آئین، قانون سازی، عوامی پالیسی اور ریاستی نظام کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کی علمی اور فکری صلاحیت رکھتے ہوں اور اپنی اس صلاحیت کو آئین کی مقررہ حدود کے اندر استعمال کریں۔

پاکستان کا آئین ملک کو ایک پارلیمانی جمہوریت قرار دیتا ہے، جہاں اقتدار کا سرچشمہ عوام ہیں۔ عوام اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے ریاستی نظم و نسق اور حکمرانی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم پاکستان کی طرزِ حکمرانی کی تاریخ ایک بنیادی کمزوری کی نشاندہی کرتی ہے: سیاستدانوں کی علمی، فکری اور تحقیقی تربیت پر کبھی سنجیدگی سے توجہ نہیں دی گئی۔

ایک سیاستدان جب پارلیمانی کمیٹی کا رکن بنتا ہے تو اسے اس قابل ہونا چاہیے کہ وہ کسی بھی بل کو پڑھ، سمجھ، اس کا تجزیہ اور اس پر مؤثر بحث کر سکے۔ لیکن عملی صورت حال اکثر اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ قانون کے تکنیکی نکات کو سمجھنے سے لے کر اس کے مالی، انتظامی اور آئینی اثرات کا جائزہ لینے تک، بہت سے قانون ساز بیوروکریسی پر حد سے زیادہ انحصار کرتے ہیں۔

جب قانون ساز خود ان قوانین کو آزادانہ طور پر سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے جن پر انہیں بحث اور نگرانی کرنی ہوتی ہے تو وہ انتظامیہ سے مؤثر سوال کیسے کر سکتے ہیں؟ وہ انتظامی فیصلوں کو کس طرح چیلنج کر سکتے ہیں اور احتساب کے عمل کو مؤثر طریقے سے کیسے بروئے کار لا سکتے ہیں؟

سیاستدانوں کی علمی اور تحقیقی کمزوری کے اثرات پارلیمانی جمہوریت کے پورے نظام پر مرتب ہوتے ہیں۔ قانون سازی بعض اوقات محض چوبیس گھنٹوں میں پارلیمان سے منظور ہو جاتی ہے، جس میں بامعنی بحث، ماہرین کی رائے اور متعلقہ پارلیمانی کمیٹیوں میں تفصیلی غور و خوض کی گنجائش بہت کم رہ جاتی ہے۔ ایسی پارلیمان جو قانون سازی کو محض منظور کرنے تک محدود ہو جائے، انتظامیہ پر مؤثر نگرانی اور اس کے اختیارات کے توازن میں اپنا آئینی کردار پوری طرح ادا نہیں کر سکتی۔

اس حوالے سے بھارت ایک قابلِ غور مثال پیش کرتا ہے۔ وہاں کی نسبتاً مضبوط سیاسی روایت نے ایک ایسی پارلیمانی ثقافت کو فروغ دیا ہے جس میں قانون سازوں کی ایک بڑی تعداد اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے۔ لوک سبھا کے تقریباً 85 فیصد ارکان گریجویٹس ہیں۔ مزید یہ کہ 1990 کی دہائی میں تقریباً 60 سے 70 فیصد بل ایوان میں پیش کیے جانے سے قبل متعلقہ پارلیمانی کمیٹیوں میں زیرِ بحث آتے تھے۔ کمیٹیوں میں تفصیلی غور و خوض قانون سازوں کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ قانون سازی کا گہرائی سے جائزہ لیں، ماہرین سے رائے لیں، خامیوں کی نشاندہی کریں اور قانون بننے سے پہلے اس میں ضروری بہتری تجویز کریں۔

پاکستان کے لیے سبق واضح ہے: گورننس کی اصلاح کا آغاز ان لوگوں کی اصلاح سے ہونا چاہیے جو گورننس کرتے ہیں۔

پارلیمان کو مضبوط بنانے کا مطلب صرف طریقہ کار تبدیل کرنا یا نئے ادارے قائم کرنا نہیں۔ اس کا بنیادی تقاضا سیاستدانوں کی علمی اور فکری صلاحیت میں اضافہ ہے۔ قانون سازوں کو تحقیق، پالیسی ماہرین، قانون سازی کی معاونت، تکنیکی بریفنگز اور مسلسل پیشہ ورانہ تربیت تک رسائی حاصل ہونی چاہیے۔ انہیں پیچیدہ قوانین کو خود سمجھنے اور ان پر مؤثر رائے دینے کے قابل بنانا ہوگا، نہ کہ انہیں ان ہی سرکاری اہلکاروں پر انحصار کرنا پڑے جو قوانین تیار اور نافذ کرتے ہیں۔

سیاسی طور پر بااختیار لیکن علمی طور پر کمزور پارلیمان انتظامیہ کا مؤثر احتساب نہیں کر سکتی۔ جمہوری ادارے اسی وقت بامعنی بنتے ہیں جب انہیں چلانے والے افراد اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے ضروری صلاحیت، آزادی اور آئینی نظم و ضبط رکھتے ہوں۔

اگر پاکستان بہتر طرزِ حکمرانی چاہتا ہے تو پہلی اصلاح خود سیاسی صلاحیت کی ہونی چاہیے۔ سیاستدان کی اصلاح ہی گورننس کی اصلاح کی پہلی سیڑھی ہے۔

یہ تحریر طارق محمود اعوان کی کتاب سے ماخوذ اقتباس کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔

کتاب حاصل کرنے کے لیے: 0341-4222501

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]