اسلام آباد ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے احتجاج کے خلاف درخواست پر لارجر بینچ تشکیل

[post-views]
[post-views]

اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے منگل کو پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کو وفاقی دارالحکومت میں مجوزہ احتجاج کو روکنے کے لیے دائر درخواست کی سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دے دیا۔ چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے معاملے کو “آئینی بحران” قرار دیا۔

درخواست شہری وقاص احمد نے دائر کی ہے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 10 ستمبر تک جواب طلب کر لیا، جبکہ اٹارنی جنرل پاکستان منصور اعوان سے بھی معاونت طلب کی گئی۔

تین رکنی لارجر بینچ کی سربراہی چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کریں گے، جبکہ جسٹس محمد اعظم خان اور جسٹس محمد آصف بھی بینچ کا حصہ ہوں گے۔

عدالت نے چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز اور انسپکٹر جنرلز پولیس کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔ اسلام آباد کے چیف کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور انسپکٹر جنرل پولیس کو بھی طلب کیا گیا، جبکہ چاروں صوبوں اور اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرلز کو بھی پیش ہونے کی ہدایت کی گئی۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کا مؤکل اسلام آباد میں کاروبار کرتا ہے اور مجوزہ احتجاج سے براہ راست متاثر ہوگا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے خلاف مقدمات پہلے ہی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں اور ان کا فیصلہ سڑکوں پر دباؤ ڈالنے کے بجائے قانونی طریقہ کار کے مطابق ہونا چاہیے۔

مجوزہ احتجاج کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھاتے ہوئے وکیل نے 9 مئی 2023 کو جنرل ہیڈکوارٹرز میں پیش آنے والے واقعات کا حوالہ دیا اور سوال کیا کہ کیا اب اسی نوعیت کا خطرہ اڈیالہ جیل کو لاحق ہوسکتا ہے، جہاں عمران خان اس وقت قید ہیں۔

وکیل نے نومبر 2024 میں اسلام آباد میں تحریک انصاف کے احتجاج کا بھی حوالہ دیا اور دعویٰ کیا کہ اس دوران رینجرز کے تین اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ انہوں نے ایک اخباری رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس احتجاج سے 24 کروڑ روپے کا نقصان ہوا تھا۔ ان کا الزام تھا کہ تحریک انصاف سیاسی دباؤ کے ذریعے عدالتوں سے ریلیف حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

چیف جسٹس ڈوگر نے استفسار کیا کہ کیا مظاہرین خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ اور صوبائی سرکاری مشینری کے ساتھ اسلام آباد آئیں گے۔ وکیل نے اثبات میں جواب دیتے ہوئے 21 نومبر 2024 کو وزارت داخلہ کی جانب سے جاری ایک خط عدالت میں پیش کیا اور الزام لگایا کہ وزارت کی ہدایات کے باوجود گزشتہ احتجاج میں سرکاری وسائل استعمال کیے گئے تھے۔

درخواست گزار کے وکیل نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ تحریک انصاف کی قیادت ایک سزا یافتہ قیدی کی حمایت کے لیے اسلام آباد آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان سے متعلق دو مقدمات اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہیں اور متعدد مواقع دیے جانے کے باوجود اپیلوں پر دلائل آگے نہیں بڑھائے گئے۔

وکیل نے سوال اٹھایا کہ اگر 20 لاکھ افراد کو اسلام آباد لایا جائے تو کیا اس بنیاد پر زیر التوا اپیلوں میں سزاؤں کی معطلی کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے؟

عدالت نے معاملے کو “آئینی بحران” قرار دیتے ہوئے متعلقہ فریقین سے جواب طلب کر لیا اور سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]