پاکستان میں ریاست اور حکومت کا حجم غیر ضروری طور پر بڑھ چکا ہے، جس کے نتیجے میں انتظامی اخراجات، ریگولیٹری رکاوٹیں، فیصلہ سازی کی پیچیدگی اور معاشی سرگرمیوں پر ریاستی کنٹرول میں اضافہ ہوا ہے۔ ریپبلک پالیسی کی تحقیق کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ پاکستان میں حکومت محض پالیسی سازی اور ضروری ریگولیشن تک محدود نہیں رہی بلکہ ریاستی ادارے اور بیوروکریسی معیشت کے ایک بڑے حصے میں ہونے والی ٹرانزیکشنز پر براہِ راست یا بالواسطہ اثرانداز ہوتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق یہ تناسب تقریباً 60 سے 67 فیصد تک ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کے معاشی اور انتظامی مسائل کو سمجھنے کے لیے حکومت کے حجم، ریگولیٹری نظام اور سول سروس کے ڈھانچے کا باہمی تعلق سمجھنا ضروری ہے۔
معاشی ترقی کا ایک بنیادی تقاضا یہ ہے کہ ریاست معاشی ٹرانزیکشنز کو آسان، کم خرچ اور تیز بنائے۔ ترقی یافتہ معیشتوں میں ریاست کا اہم کردار کاروبار اور معاشی سرگرمیوں کے لیے ایک مؤثر قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک فراہم کرنا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، جہاں معاشی سرگرمیوں کو غیر ضروری لائسنسز، این او سیز، سرٹیفیکیشنز، اجازت ناموں اور پیچیدہ ضابطوں سے مشروط کر دیا جائے، وہاں ٹرانزیکشن کاسٹ بڑھتی ہے اور کاروباری سرگرمی متاثر ہوتی ہے۔ پاکستان میں یہی ریگولیٹری پیچیدگی کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے ایک اہم انتظامی رکاوٹ بن چکی ہے۔
ریپبلک پالیسی کی تحقیق The Picture of Regulation: Time and Money Wasted in Getting Permissions اسی مسئلے کا جائزہ لیتی ہے۔ اس تحقیق کے مطابق صرف وفاقی حکومت کی سطح پر 122 ریگولیٹری ادارے موجود ہیں، جبکہ ریگولیٹری نظام مجموعی طور پر معیشت کے تقریباً 50 فیصد حصے کو متاثر کرتا ہے۔ سیکٹر وار ریگولیٹری میپنگ سے یہ بھی سامنے آتا ہے کہ مینوفیکچرنگ کا شعبہ لائسنسز، سرٹیفیکیشنز اور دیگر اجازت ناموں کے حوالے سے سب سے زیادہ ریگولیٹری تقاضوں کا سامنا کرتا ہے۔ اس کے بعد ہول سیل اور ریٹیل تجارت کا شعبہ آتا ہے۔ اس طرح کاروباری سرگرمی کے مختلف مراحل پر اجازت ناموں کی کثرت نہ صرف وقت اور وسائل کا ضیاع پیدا کرتی ہے بلکہ کاروبار کرنے کی مجموعی لاگت بھی بڑھاتی ہے۔
یہ مسئلہ محض ریگولیشن کی تعداد تک محدود نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان میں ریاستی اور انتظامی ڈھانچہ اتنا وسیع کیوں ہے۔ ریپبلک پالیسی کی تحقیق اس مسئلے کو اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد پیدا ہونے والی انتظامی ضروریات سے بھی جوڑتی ہے۔ اختیارات اور متعدد ذمہ داریوں کی صوبائی سطح پر منتقلی کے بعد وفاقی حکومت کے انتظامی ڈھانچے کی اسی تناسب سے تنظیمِ نو ہونی چاہیے تھی۔ تحقیق کا مؤقف ہے کہ وفاقی سطح پر وزارتوں، ڈویژنز اور سیکریٹریز کی تعداد میں نمایاں کمی کی گنجائش موجود تھی، لیکن عملی طور پر ایسا نہیں ہوا۔
اس کی ایک بنیادی وجہ پاکستان کا موجودہ سول سروس کیریئر اسٹرکچر ہے۔ موجودہ نظام میں ترقی کا راستہ اعلیٰ گریڈز اور بالآخر اعلیٰ انتظامی عہدوں سے منسلک ہے۔ جب کیریئر کی کامیابی کو گریڈ 22، وفاقی سیکریٹری یا اس نوعیت کے اعلیٰ عہدوں تک پہنچنے سے جوڑ دیا جائے تو انتظامی ڈھانچے کو مختصر کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ زیادہ اعلیٰ گریڈ کے افسران کے لیے مزید اعلیٰ عہدوں، ڈویژنز اور انتظامی پوزیشنز کی ضرورت پیدا ہوتی ہے۔ یوں سول سروس کا کیریئر اسٹرکچر حکومت کے حجم کو برقرار رکھنے یا بڑھانے کے لیے ایک داخلی ادارہ جاتی محرک پیدا کر سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ حکومت کے حجم میں کمی اور سول سروس اصلاحات کو الگ الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔ اگر ریاست وزارتوں، ڈویژنز، ریگولیٹری اداروں اور غیر ضروری انتظامی سطحوں کو کم کرنا چاہتی ہے تو اسے بیک وقت سول سروس کے کیریئر پاتھ، ترقی کے نظام، تخصص، کارکردگی کی جانچ اور اعلیٰ انتظامی عہدوں کے ڈھانچے میں بھی اصلاحات کرنا ہوں گی۔ محض وزارتیں یا ادارے ختم کر دینا دیرپا اصلاح نہیں ہوگی اگر وہ انتظامی نظام جو ان اداروں کی توسیع پیدا کرتا ہے بدستور موجود رہے۔
ضرورت سے زیادہ وسیع حکومتی اور ریگولیٹری ڈھانچہ رینٹ سیکنگ کے امکانات بھی پیدا کرتا ہے۔ جب کاروباری سرگرمی کے لیے متعدد سرکاری اجازتوں، لائسنسز، سرٹیفیکیٹس اور این او سیز کی ضرورت ہو تو ریاست سہولت کار کے بجائے گیٹ کیپر بن سکتی ہے۔ اختیار کی ہر اضافی سطح کاروباری فرد اور ریاست کے درمیان ایک نیا انتظامی مرحلہ پیدا کرتی ہے۔ اس سے تاخیر، صوابدیدی اختیارات، غیر ضروری اخراجات اور رینٹ سیکنگ کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
لہٰذا پاکستان میں اکیسویں صدی کے تقاضوں کے مطابق مؤثر انتظامیہ قائم کرنے کے لیے حکومت کے حجم، ریگولیٹری نظام اور سول سروس کی اصلاحات کو ایک مربوط پالیسی فریم ورک کے تحت دیکھنا ہوگا۔ ریاست کا مقصد زیادہ ادارے، زیادہ عہدے اور زیادہ اجازت نامے پیدا کرنا نہیں بلکہ قانون کی حکمرانی برقرار رکھتے ہوئے معاشی اور سماجی سرگرمیوں کو مؤثر انداز میں سہولت فراہم کرنا ہونا چاہیے۔ جہاں ریگولیشن واقعی عوامی مفاد، تحفظ، مسابقت اور قانونی نظم کے لیے ضروری ہو، وہاں اسے مؤثر بنایا جائے؛ جہاں وہ محض غیر ضروری انتظامی رکاوٹ پیدا کرتا ہو، وہاں اسے ختم یا آسان کیا جائے۔
ریپبلک پالیسی کے نزدیک حکومت کے غیر ضروری حجم میں کمی محض اخراجات کم کرنے کا معاملہ نہیں بلکہ گورننس، معاشی کارکردگی اور سول سروس اصلاحات کا بنیادی سوال ہے۔ ایک مختصر، تخصص پر مبنی، جواب دہ اور سہولت کار ریاست نہ صرف انتظامی کارکردگی بہتر بنا سکتی ہے بلکہ کاروباری ٹرانزیکشنز کو آسان کرکے معاشی سرگرمی اور سرمایہ کاری کے لیے بھی بہتر ماحول پیدا کر سکتی ہے۔
اس موضوع، پاکستان کی بیوروکریسی کے ادارہ جاتی کردار، رینٹ سیکنگ اور سول سروس اصلاحات کی تفصیلی بحث ریپبلک پالیسی کی کتاب The Bureaucratic Coup میں پیش کی گئی ہے۔ کتاب کے حصول کے لیے ریپبلک پالیسی سے 0341-4222501 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔









