اسلام آباد: سعودی عرب اور یمن کے حوثی گروہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پاکستان کے دفاعی وعدوں کو ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق تنازعے میں مزید شدت اسلام آباد کو مشکل فوجی اور سفارتی فیصلوں سے دوچار کر سکتی ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے کو ابتدا میں دونوں ممالک کے دیرینہ تزویراتی تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا تھا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ اس انتظام کو آگے بڑھانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔
پاکستان کے لیے اس شراکت داری میں معاشی مشکلات کے دوران سعودی سرمایہ کاری اور مالی معاونت کے امکانات موجود تھے۔ دوسری جانب ریاض کو پاکستانی فوج کی جانب سے تربیت اور اپنی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون کی یقین دہانی حاصل ہوئی۔
تاہم اس کے بعد خطے کی سلامتی کی صورت حال نمایاں طور پر تبدیل ہو چکی ہے۔
تزویراتی تعاون سے ممکنہ فوجی ذمہ داری تک
فروری میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد تنازعے کا دائرہ وسیع ہوا اور تہران نے جوابی کارروائیوں میں سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا۔
اس لڑائی نے سعودی عرب اور یمن کے ایران سے منسلک حوثیوں کے درمیان پہلے سے کمزور جنگ بندی کے خاتمے میں بھی کردار ادا کیا۔
رواں ماہ کے آغاز میں حوثی فورسز نے یمن میں بعض علاقوں پر پیش قدمی کی اور سعودی سرزمین کی جانب میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ جواب میں ریاض نے حوثیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے، جس کے بعد وسیع پیمانے پر جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات بڑھ گئے۔
اگست میں ترکیہ کی شمولیت کے بعد پاکستان کی دفاعی ذمہ داریوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی۔ اس انتظام کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا نام دیا گیا۔
معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔
اسی وجہ سے سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان تصادم میں مزید شدت آنے کی صورت میں پاکستان کے ممکنہ کردار پر بحث بڑھ رہی ہے۔
وسیع تر تنازعے کے لیے پاکستان کی تیاری پر تجزیہ کاروں کے سوالات
کنگز کالج لندن سے وابستہ دفاعی تجزیہ کار اور سینئر فیلو عائشہ صدیقہ نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا پاکستان کی فوجی قیادت نے معاہدے کے وقت خطے کی سلامتی کی صورت حال میں اتنی تیزی سے بگاڑ آنے کے امکانات کا مکمل اندازہ لگایا تھا۔
ان کے مطابق ممکن ہے کہ معاہدے پر مذاکرات کے دوران پاکستانی فوجیوں کو جلد جنگی کارروائیوں میں حصہ لینے کی ضرورت پڑنے کے امکان پر خاطر خواہ غور نہ کیا گیا ہو۔
سعودی عرب کے پاس جدید لڑاکا طیاروں سمیت وسیع فوجی سازوسامان موجود ہے، تاہم اصل رپورٹ میں شامل تجزیہ کاروں کے مطابق حوثیوں کے خلاف ممکنہ تصادم میں پاکستان کی عملی فوجی مہارت اہم ثابت ہو سکتی ہے۔
پاکستان کے ہزاروں فوجی اہلکار پہلے ہی تربیتی ذمہ داریوں کے سلسلے میں سعودی عرب میں تعینات ہیں۔
بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر سعودی عرب دفاعی معاہدے کو فعال کرتا ہے تو اسلام آباد پر مملکت کی حمایت میں فوجی دستے بھیجنے کے لیے دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
تاہم پاکستان کی ممکنہ فوجی شمولیت کی نوعیت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ معاہدے کو کس طرح نافذ کیا جاتا ہے اور متعلقہ حکومتیں کیا فیصلے کرتی ہیں۔
معاشی انحصار اسلام آباد کے لیے ایک اور مشکل
سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے معاشی تعلقات بھی اس معاملے میں اہم کردار رکھتے ہیں۔
ریاض اسلام آباد کو نمایاں مالی معاونت اور سرمایہ کاری فراہم کرتا رہا ہے، جس میں اطلاعات کے مطابق آٹھ ارب ڈالر کے فنڈز اور سرمایہ کاری بھی شامل ہیں۔
اس معاونت نے دونوں ممالک کی تزویراتی شراکت داری کے معاشی پہلو کو مزید مضبوط کیا ہے۔
حالیہ بیانات میں پاکستانی وزرا اور اعلیٰ فوجی حکام نے سعودی عرب کی سلامتی کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ حکام اس عزم کو غیر مشروط قرار دے چکے ہیں اور مملکت کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کی یقین دہانی کرا چکے ہیں۔
تاہم ایک اور علاقائی تنازعے میں شمولیت پاکستان کے لیے سنگین چیلنجز پیدا کر سکتی ہے۔
ملک پہلے ہی معاشی دباؤ، افغانستان کے ساتھ سرحد پر خراب ہوتی سلامتی کی صورت حال اور متعدد علاقوں میں بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی کا سامنا کر رہا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں نئی فوجی ذمہ داری پاکستان کی مسلح افواج اور مالی وسائل پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہے۔
ایران کے ساتھ تعلقات دفاعی معاملے کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں
ہمسایہ ملک ایران کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اس صورت حال کو مزید حساس بناتے ہیں۔
اسلام آباد سعودی عرب کے ساتھ دفاعی شراکت داری برقرار رکھتے ہوئے تہران کے ساتھ سفارتی رابطے بھی جاری رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
حالیہ علاقائی جنگ سے قبل پاکستان کے ایران کے ساتھ عملی تعلقات قائم تھے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے انہی روابط کو مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے اور جنگ بندی کی کوششوں کے لیے بھی استعمال کیا۔
تاہم تنازعہ جاری رہنے کے ساتھ اسلام آباد اور تہران کے درمیان اختلافات زیادہ نمایاں ہوئے ہیں۔
برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق پاکستانی حکام ایران کے طرزِ عمل سے بتدریج زیادہ ناخوش ہوئے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد بھی کمزور پڑا ہے۔
اگر پاکستان حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائیوں میں براہِ راست شریک ہوتا ہے تو تہران اسے ایران سے منسلک ایک گروہ کے خلاف اسلام آباد کی واضح صف بندی کے طور پر دیکھ سکتا ہے۔
ایسی صورت حال مشرقِ وسطیٰ کے وسیع تر تنازعے میں پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔
سعودی دفاعی معاہدے نے یوں اسلام آباد کے سامنے کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں: ریاض کے ساتھ دفاعی وعدوں کی پاسداری، تہران کے ساتھ تعلقات کا انتظام اور معاشی و داخلی سلامتی کے مسائل کے دوران اضافی فوجی ذمہ داریوں سے نمٹنا۔









