اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان خوشگوار ماحول
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں حالیہ سخت سفارتی بیان بازی کے باوجود بھارتی رابطہ کار کی اسحاق ڈار سے گرمجوش مصافحہ
اسلام آباد: پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ سفارتی کشیدگی کے باوجود اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے دوران دونوں ممالک کے نمائندوں کے درمیان نسبتاً خوشگوار ماحول دیکھنے میں آیا۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے لیے بھارت کے قومی رابطہ کار اور وزارتِ خارجہ کے ایڈیشنل سیکریٹری آلوک ڈمری نے پاکستان کی صدارت میں منعقد ہونے والے ایس سی او کونسل آف نیشنل کوآرڈینیٹرز کے پہلے اجلاس میں شرکت کی۔
تین روزہ اجلاس بدھ کو اختتام پذیر ہوا، جس کے بعد شریک ممالک کے قومی رابطہ کاروں نے وزارتِ خارجہ میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات کی۔
پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کی گئی ایک ویڈیو میں آلوک ڈمری کو اسحاق ڈار سے گرمجوشی سے مصافحہ کرتے دیکھا گیا۔ بعد ازاں بھارتی عہدیدار اسحاق ڈار اور ایس سی او کے لیے پاکستان کے قومی رابطہ کار ڈاکٹر محمد فیصل کے درمیان کھڑے دکھائی دیے۔
یہ خوشگوار ملاقات اس لیے بھی نمایاں رہی کہ حال ہی میں نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر پاکستان اور بھارت کے درمیان سخت سفارتی بیان بازی ہوئی تھی۔
بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے وزیراعظم شہباز شریف کے جنرل اسمبلی سے خطاب کے جواب میں پاکستان پر دہشت گردی سے متعلق الزامات عائد کیے تھے۔ پاکستان نے بھارتی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر اور دونوں جوہری ہمسایہ ممالک کے درمیان 2025 کی فوجی کشیدگی کے حوالے سے اپنا مؤقف دہرایا تھا۔
بھارتی عہدیدار کا پہلے دورۂ پاکستان پر خوشی کا اظہار
اپنے دورے کے دوران آلوک ڈمری نے پاکستان ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ پاکستان آئے ہیں اور اسلام آباد کا دورہ کرکے خوش ہیں۔ انہوں نے لاہور، فیصل آباد اور سیالکوٹ جانے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔
انہوں نے لاہور کو شنگھائی تعاون تنظیم کا ثقافتی شہر قرار دیے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ایک سالہ صدارت کے دوران بھارتی وفد کو ثقافتی سرگرمیوں میں شرکت کے مواقع مل سکتے ہیں۔
آلوک ڈمری نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وسیع تر ایجنڈے پر گفتگو کرتے ہوئے علاقائی روابط، تجارت، ٹرانزٹ اور علاقائی خوشحالی کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔
دوطرفہ کشیدگی کے باوجود کثیرالجہتی رابطے برقرار
اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں بھارت کی شرکت اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ دوطرفہ تعلقات میں کشیدگی کے باوجود پاکستان اور بھارت شنگھائی تعاون تنظیم کے کثیرالجہتی فریم ورک کے تحت رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
نئی دہلی کا مؤقف رہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ دوطرفہ روابط کے لیے سازگار ماحول ضروری ہے، تاہم بھارت ایس سی او کے تحت ہونے والی کثیرالجہتی سرگرمیوں میں شرکت جاری رکھے ہوئے ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والی اس ملاقات کو بذاتِ خود دونوں ممالک کے دوطرفہ مؤقف میں تبدیلی نہیں سمجھا جا سکتا، تاہم یہ ظاہر کرتی ہے کہ مسلسل سیاسی اور سفارتی اختلافات کے باوجود پاکستان اور بھارت قائم شدہ کثیرالجہتی فورمز پر ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں ہیں۔








