ریپبلک پالیسی کی قومی اصلاحاتی تحریک کا آغاز، سول سروس میں آئینی اور ساختی اصلاحات کا مطالبہ

[post-views]
[post-views]

نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں افتتاحی تقریب، سیاستدانوں، بیوروکریٹس، اساتذہ اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی شرکت

ریپبلک پالیسی کے زیرِ اہتمام پاکستان میں ادارہ جاتی اور انتظامی اصلاحات کے فروغ کے لیے قومی اصلاحاتی تحریک (نیشنل ریفارمز موومنٹ) کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں ایک افتتاحی تقریب منعقد ہوئی، جس میں سیاستدانوں، بیوروکریٹس، اساتذہ، اہلِ دانش اور میڈیا کے نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے ریپبلک پالیسی کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے ملک میں جامع اور بامقصد اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔

تقریب میں سول سروس کی اصلاحات بنیادی موضوعِ بحث رہیں۔ ریپبلک پالیسی کے سینئر محقق، سول سرونٹ اور مصنف طارق محمود اعوان نے اپنی پانچ کتابوں پر مشتمل تحقیقی کام کی روشنی میں قومی اصلاحاتی تحریک کا بنیادی ایجنڈا اور پاکستان کی سول سروس میں آئینی و ساختی تبدیلیوں کا خاکہ پیش کیا۔

پاکستان میں سول سروس کی ساختی اصلاحات کیوں ضروری ہیں؟

طارق محمود اعوان نے اپنے خطاب میں مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان کی ترقی، مؤثر حکمرانی اور عوامی خدمات کی فراہمی میں بہتری کے لیے سول سروس کی بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔

ان کے مطابق پاکستان میں حکومت اور انتظامی اداروں کے حجم کا تعین اکثر عوامی ضروریات اور خدمات کی فراہمی کے تقاضوں کے بجائے بیوروکریسی کے پیشہ ورانہ ترقی کے نظام کو برقرار رکھنے کے لیے کیا جاتا ہے۔

انہوں نے اس انتظامی رجحان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں گریڈ 17 سے گریڈ 22 تک ترقی کے روایتی نظام نے سرکاری محکموں اور انتظامی عہدوں کی تشکیل پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ ان کے نزدیک محکموں اور اعلیٰ انتظامی آسامیوں کی تعداد بڑھانے کا مقصد بعض اوقات عوامی خدمات میں بہتری کے بجائے افسران کے لیے ترقی کے مواقع پیدا کرنا ہوتا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ حکومت کا حجم عوامی ضروریات، آئینی ذمہ داریوں اور خدمات کی فراہمی کی بنیاد پر متعین ہونا چاہیے، نہ کہ بیوروکریسی کے کیریئر ڈھانچے کو برقرار رکھنے کے لیے۔

سول سروس کی آئینی تشکیل: اصلاحاتی ایجنڈے کا بنیادی اصول

طارق محمود اعوان نے سول سروس میں اصلاحات کے لیے پانچ بنیادی نکات پیش کیے، جن میں سب سے اہم سول سروس کی آئینی تشکیل اور اسے پاکستان کے وفاقی آئینی ڈھانچے سے ہم آہنگ کرنا تھا۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان میں سول سروس کا نظام آئین میں متعین حکومتی اختیارات اور ذمہ داریوں کے مطابق تشکیل دیا جانا چاہیے۔

اس تصور کے تحت سول سروس کی تنظیم چار حکومتی سطحوں اور آئینی دائرہ ہائے اختیار کی بنیاد پر ہونی چاہیے:

  1. وفاقی حکومت
  2. صوبائی حکومتیں
  3. مشترکہ مفادات کونسل سے متعلق انتظامی دائرہ
  4. مقامی حکومتیں

ان کے مطابق ہر سطح کی حکومت کو اپنے آئینی اختیارات کے مطابق انتظامی خدمات اور ادارہ جاتی ڈھانچے پر اختیار حاصل ہونا چاہیے۔ کسی ایک سطح کی سول سروس کو دوسری سطح کے انتظامی معاملات میں غیر ضروری مداخلت یا بالادستی حاصل نہیں ہونی چاہیے۔

اس اصول کا بنیادی مقصد پاکستان میں وفاقیت، صوبائی خودمختاری، مقامی حکمرانی اور انتظامی جواب دہی کو مضبوط بنانا ہے۔

انتظامی اصلاحات اور مؤثر عوامی خدمات

ریپبلک پالیسی کا بنیادی مؤقف ہے کہ سول سروس کی اصلاحات محض تقرریوں، ترقیوں، تبادلوں اور انتظامی عہدوں کی تنظیمِ نو تک محدود نہیں ہونی چاہئیں۔

اس کے برعکس، اصلاحات کا اصل مقصد ایک ایسا انتظامی نظام قائم کرنا ہونا چاہیے جو آئینی اصولوں کے تابع ہو، عوامی ضروریات کا مؤثر جواب دے اور ریاستی وسائل کو بہتر خدمات کی فراہمی کے لیے استعمال کرے۔

طارق محمود اعوان نے واضح کیا کہ جب تک انتظامی اداروں کی ساخت، اختیارات اور ذمہ داریوں کو آئینی بنیادوں پر منظم نہیں کیا جاتا، سول سروس کی اصلاحات اپنے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکیں گی۔

قومی اصلاحاتی تحریک اور عوامی مکالمے کی ضرورت

ریپبلک پالیسی نے قومی اصلاحاتی تحریک کے ذریعے پاکستان کے انتظامی اور ادارہ جاتی نظام پر ایک سنجیدہ اور علمی مکالمہ شروع کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

اس تحریک کا مقصد سول سروس کی اصلاحات کو محض سرکاری اداروں کے اندر ہونے والی بحث تک محدود رکھنے کے بجائے سیاستدانوں، ماہرین، اساتذہ، سول سرونٹس، ذرائع ابلاغ اور باشعور شہریوں کے درمیان قومی سطح پر زیرِ بحث لانا ہے۔

ریپبلک پالیسی کے نزدیک پاکستان میں مؤثر حکمرانی اور پائیدار ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ریاستی اداروں کی تشکیل اور کارکردگی کو آئینی تقاضوں، انتظامی استعداد اور عوامی مفاد کے مطابق استوار کیا جائے۔

قومی اصلاحاتی تحریک اسی تصور کو آگے بڑھانے اور پاکستان میں آئینی، انتظامی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے ایک مربوط قومی مکالمہ تشکیل دینے کی کوشش ہے۔

ریپبلک پالیسی کی اصلاحاتی تجاویز، تحقیقی کام اور طارق محمود اعوان کی کتب کے حصول کے لیے رابطہ کریں۔

واٹس ایپ:

0341-4222501

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]