پاکستان میں گورننس کے تجربات کب ختم ہوں گے؟

[post-views]

[post-views]

پاکستان میں گورننس کے معاملات میں تجربات ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے۔ جب بھی کوئی نیا تجربہ کیا جاتا ہے، اس کا بنیادی مقصد بظاہر انتظامی عہدوں کی ترتیب بدلنے تک محدود رہتا ہے۔ یہ جانچنے کی سنجیدہ کوشش کم ہی کی گئی ہے کہ جس مقصد کے لیے کوئی انتظامی تجربہ کیا گیا، کیا اس سے واقعی کوئی بہتری بھی آئی یا نہیں۔

پنجاب میں حال ہی میں ایسا ہی ایک اور تجربہ کیا گیا ہے۔ اگر ضلعی سطح کو دیکھا جائے تو ڈپٹی کمشنر کے دفتر کو غیر قانونی اور غیر آئینی طور پر بااختیار بنایا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر بنیادی طور پر ڈسٹرکٹ کلکٹر ہے، یعنی ایک ریونیو افسر جو بورڈ آف ریونیو کے تحت کام کرتا ہے اور زمین کے ریکارڈ اور لینڈ ریونیو کے معاملات دیکھتا ہے۔ وہ صوبائی حکومت کا افسر ہے۔ ریونیو کے فرائض کے علاوہ وہ ضلع میں صوبائی حکومت کی مختلف سرگرمیوں اور اقدامات میں رابطہ کاری بھی کرتا ہے۔

لیکن ڈپٹی کمشنر کے دفتر کو زبردستی مقامی حکومت کا دفتر بنا دیا گیا ہے، جو آرٹیکل 140A کی صریح خلاف ورزی ہے۔ یہاں ضلع اور مقامی حکومت کے درمیان فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ ضلع بنیادی طور پر ایک انتظامی اکائی ہے جو ریونیو دائرۂ اختیار کی نمائندگی کرتی ہے، جبکہ مقامی حکومت تحصیل کی سطح پر بھی قائم ہو سکتی ہے اور ضلع کی سطح پر بھی۔ اس کا دائرۂ اختیار قانون کے ذریعے متعین کیا جا سکتا ہے۔

بنیادی طور پر ڈپٹی کمشنر کے صوبائی حکومتی دفتر کو مقامی حکومت سے الگ رکھنا ضروری ہے۔

اب چند سیکریٹریز اور چیف سیکریٹری نے مل کر جو نیا تجربہ کیا ہے، وہ گورننس کے نقطۂ نظر سے مضحکہ خیز ہے۔ ضلع کی انتظامی درجہ بندی میں ڈپٹی کمشنر کے ماتحت پانچ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز تعینات کر دیے گئے ہیں:

  • ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو
  • ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہیڈکوارٹرز
  • ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر انفورسمنٹ
  • ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سوشل سروسز
  • ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر میونسپل سروسز

یعنی پانچ مختلف ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز ہیں، جن میں سے کچھ صوبائی حکومت کے فرائض انجام دے رہے ہیں، کچھ مقامی حکومت کے کام کر رہے ہیں، جبکہ ایک بورڈ آف ریونیو کے فرائض انجام دے رہا ہے۔ ان سب کو ایک ہی ڈپٹی کمشنر کے ماتحت کر دیا گیا ہے۔

اگر مقامی حکومت کو مضبوط بنانا مقصود ہے تو بنیادی سوال یہ ہے کہ ایک صوبائی ریونیو افسر کے دفتر کو مقامی حکومت کے مختلف فرائض کیوں دیے جا رہے ہیں؟

پھر تحصیل میں ایک اسسٹنٹ کمشنر ہے اور اس کے ساتھ ایک ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر بھی موجود ہے۔ اس سے زیادہ مضحکہ خیز انتظامی ڈھانچہ شاید ہی ہو سکتا ہے: اوپر ایک افسر، اس کے نیچے پانچ افسر، اور پھر تحصیل میں ایک افسر کے ساتھ ایک اور افسر منسلک ہے۔

اصل سوال صرف یہ ہے کہ کیا اس انتظام سے ضلع میں کوئی بہتری آئی؟ بہتری کیسے آ سکتی ہے؟ اس انتظام نے تو مقامی حکومت کے نظام کو ہی تباہ کر دیا ہے۔

اگر کل باقاعدہ مقامی حکومت کا نظام قائم ہو جاتا ہے تو یہ پانچ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز کہاں جائیں گے؟ ڈپٹی کمشنر کا دفتر بنیادی طور پر صوبائی حکومت کا دفتر ہے۔ صوبائی رابطہ کاری کے نام پر مقامی حکومت کو اس کے ساتھ ضم کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

یہ تجربہ چند سیکریٹریز اور چیف سیکریٹری نے کیا اور پھر اس پر کابینہ کی مہر بھی لگوا دی گئی۔ یہاں کابینہ سے مراد وزیر اعلیٰ یا وزرا نہیں بلکہ سیکریٹری کابینہ ہے، جو خود چیف سیکریٹری بھی ہے۔ یہ ایک اور مضحکہ خیز انتظامی ترکیب ہے کہ چیف سیکریٹری اور سیکریٹری کابینہ ایک ہی شخص ہے؛ یعنی سیکریٹری کابینہ کا باس خود سیکریٹری کابینہ/چیف سیکریٹری ہے۔

حالانکہ بنیادی اصول یہ ہے کہ عہدوں کی تخلیق، خاتمہ یا ان کے فرائض میں بنیادی تبدیلی قانون کے ذریعے ہونی چاہیے۔ یہ منتخب حکومت اور صوبائی اسمبلی کا معاملہ ہے، بیوروکریسی کا نہیں۔

سیکریٹریز اور چیف سیکریٹری کے پاس یہ اختیار نہیں ہونا چاہیے کہ وہ اپنی انتظامی خواہشات کے مطابق ریاستی اداروں کی ساخت تبدیل کرتے رہیں۔

ایک اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ برطانیہ اور امریکا میں وزیر کو سیکریٹری کہا جاتا ہے، جبکہ ہمارے ہاں سیکریٹری ایک بیوروکریٹک عہدہ بن گیا ہے۔ نوآبادیاتی دور میں بیوروکریٹک سیکریٹری کے پاس انتظامی اور مالی اختیارات تھے، کیونکہ اس وقت سیاسی حکومت اور نمائندہ کابینہ کے طرزِ حکمرانی کا تصور مختلف تھا۔ پاکستان بننے کے بعد جب ہم کابینہ کی حکومت کی طرف آئے تو یہ اختیارات وزیر کے پاس منتقل ہونے چاہیے تھے۔

محکمہ یا وزارت بنیادی طور پر وزیر نے چلانی ہے، بیوروکریٹک سیکریٹری نے نہیں۔ چیف ایگزیکٹو وزیر اعلیٰ ہے، چیف سیکریٹری نہیں۔ تاہم پاکستان میں عملاً چیف سیکریٹری ہی اصل چیف ایگزیکٹو بن گیا ہے۔

اس کے باوجود سیکریٹری کا وہی نوآبادیاتی تصور ہمارے ہاں برقرار رہا اور طاقت بتدریج بیوروکریسی کے ہاتھوں میں منتقل ہوتی گئی۔ پاکستان کے ساتھ اس سے بڑی زیادتی شاید ہی ہو سکتی ہے۔ میں نے اپنی کتاب “The Bureaucratic Coup” میں بھی اس مسئلے کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ پنجاب میں قائم کی گئی اس بیوروکریٹک لیبارٹری اور نئے بیوروکریٹک ضلعی ماڈل کا احتساب کون کرے گا؟ نہ پنجاب اسمبلی، نہ سیاسی حکومت اور نہ کوئی اور۔ نتیجہ یہ ہے کہ بیوروکریسی اپنی مرضی سے انتظامی ڈھانچے بناتی رہے گی اور نظام مزید خراب ہوتا جائے گا۔

اب اس کے بعد ایک نئی تنظیمِ نو بھی شروع کر دی گئی ہے۔ تنظیمِ نو بنیادی طور پر سیاسی حکومت اور کابینہ کا کام ہے، اور اس مقصد کے لیے قانون اور صوبائی اسمبلی کا آئینی فریم ورک موجود ہے۔ لیکن اگر تنظیمِ نو بھی چیف سیکریٹری اور چند سیکریٹریز کی خواہشات کے مطابق ہونی ہے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ قانون، آئین اور اجتماعی ذمہ داری کہاں ہیں؟

یہ بھی قابلِ غور ہے کہ جن عہدوں اور آسامیوں کے لیے پہلے پنجاب اسمبلی کے بجٹ کے عمل میں منظوری دی گئی، اب انہی ڈھانچوں کو بیوروکریٹک تنظیمِ نو کے ذریعے تبدیل کیا جا رہا ہے۔ یہ کیسا نظام ہے کہ نہ واضح قانون ہے، نہ آئینی اختیار، نہ اجتماعی ذمہ داری؛ بس بیوروکریسی کے ہاتھ میں طاقت ہے کہ وہ جو چاہے کرتی رہے۔

پھر ایک نیا بیوروکریٹ آئے گا، پچھلا نظام بھی چلتا رہے گا اور نئی تنظیمِ نو بھی شروع ہو جائے گی۔ یہ تماشا گزشتہ تقریباً اسی برس سے میوزیکل چیئرز کی طرح جاری ہے۔

یہی وہ بیوروکریٹک ریاست ہے جس کا احتساب ضروری ہو گیا ہے، تاکہ پاکستان میں شخصیات کے بجائے ادارے بنیں، قانون کی حکمرانی قائم ہو اور ریاستی نظام آئینی حدود کے اندر آگے بڑھے۔

انہی بنیادی سوالات اور مسائل کو میں نے اپنی کتابوں “Fixing the Executive” اور “The Bureaucratic Coup” میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔

اگر پاکستان نے آگے بڑھنا ہے تو موجودہ بیوروکریٹک ریاست کو جمہوری ریاست میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔ جمہوری ریاست سے مراد اختیارات چند خاندانوں کو منتقل کرنا نہیں، بلکہ اختیارات عوام تک منتقل کرنا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]