تحریر: کارل بینیڈکٹ فرے
1962 میں، معروف ماہرِ معاشیات کینتھ ایرو نے خیالات کی مارکیٹ میں ایک بنیادی نقص کی نشاندہی کی تھی: معلومات کی قدر و قیمت اس وقت تک طے نہیں کی جا سکتی جب تک اسے ظاہر نہ کیا جائے، لیکن ایک بار جب اسے ظاہر کر دیا جائے، تو خریدار بغیر قیمت ادا کیے اسے حاصل کر لیتا ہے۔ اس “معلوماتی معموے” (Information Paradox) کو حل کرنے کے لیے، جدید معاشروں نے پیٹنٹ کا قانونی نظام تخلیق کیا—ایک ایسا فریم ورک جو موجد کو اپنا خیال ظاہر کرنے کی اجازت دیتا ہے اور ساتھ ہی اس سے منافع کمانے کا حق بھی محفوظ رکھتا ہے۔ آج، جیسے ہی فرنٹیئر آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) ماڈلز انٹرنیٹ پر موجود تمام عوامی معلومات کی حد کو چھو رہے ہیں، کینتھ ایرو کا یہ معمہ ایک بے مثال قوت کے ساتھ واپس لوٹ آیا ہے۔
انٹرنیٹ پر دستیاب عوامی معلومات کے زیادہ تر ذخیرے کو استعمال کرنے کے بعد، اے آئی ڈیولپرز اب اگلی منزل کی طرف گامزن ہیں: کارپوریٹ اداروں اور ماہر افرادی قوت کے اندر چھپے ہوئے ضمنی اور غیر تحریری علم (Tacit Knowledge) کو حاصل کرنا۔ یہ نجی و ملکیتی ذہانت—جو داخلی طریقہ کار، ادارہ جاتی یادداشت اور پیچیدہ مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت پر مبنی ہوتی ہے—تنظیمی قدر و قیمت کی حقیقی بنیاد ہے۔
آنے والی دہائی کا مرکزی معاشی سوال صرف کاپی رائٹ یا عوامی ویب سائٹس کے ڈیٹا تک محدود نہیں ہے؛ بلکہ سوال یہ ہے کہ اینٹرپرائز اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے حاصل کی جانے والی اس داخلی مہارت کا اصل مالک کون ہے؟ جب ملازمین جنریٹو ٹولز کا استعمال کرتے ہیں، تو وہ غیر دانستہ طور پر دہائیوں کی پیشہورانہ مہارت مرکزی الگورتھم میں منتقل کر دیتے ہیں۔ ایک بار جب یہ معلومات ڈیجیٹل شکل اختیار کر لیتی ہیں، تو وہ پلیٹ فارم فراہم کنندہ کے پاس مستقل طور پر جذب ہو جاتی ہیں، جس سے ادارے کی مسابقتی صلاحیت کمزور ہوتی ہے اور انسانی مہارت کا کردار بتدریج ختم ہونے لگتا ہے۔
الگورتھم کی تدریس کے مطابق بنائے گئے نئے قانونی نظام یا کاپی رائٹ قوانین کی غیر موجودگی میں، ادارے تھوڑے عرصے کے کارکردگی کے فوائد کے بدلے اپنے بنیادی مسابقتی اثاثوں سے محروم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ وہ تمام قوتیں جو اس ضمنی اور غیر تحریری علم کو حاصل کرنے، ڈیجیٹل بنانے اور منتقل کرنے کی شرائط طے کریں گی، وہی آئندہ کی عالمی معیشت کی سمت کا تعین کریں گی۔









