ظفر اقبال
عالمی بینک نے پاکستان کے لیے ۶۷ کروڑ ڈالر کے مالیاتی پروگرام کو اصلاحات کی ایک مانوس فہرست سے مشروط کر دیا ہے۔ گندم اور چینی کو ایکسپورٹ/امپورٹ آرڈر ۲۰۲۲ء سے نکالنا ہوگا۔ یوریا کی درآمد میں نجی شعبے کو زیادہ کردار دینا ہوگا۔ سرمایہ کاری اور تجارت کی راہ میں حائل ضابطہ جاتی رکاوٹیں ختم کرنا ہوں گی۔ کاغذ پر یہ سب آزاد منڈی کی معیشت کے روایتی نسخے ہیں۔ لیکن عملی طور پر یہ شرائط ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب وہ عالمی نظام، جس نے ان نظریات کو جنم دیا تھا، خاموشی سے بکھر رہا ہے۔
ذرا واشنگٹن کو دیکھیے۔ ٹرمپ انتظامیہ عالمگیریت سے منہ موڑ چکی ہے۔ امریکہ نے اپنا وسیع تجارتی خسارہ کم کرنے کے لیے درآمدی محصولات بڑھا دیے ہیں، حتیٰ کہ اپنے قریبی اتحادیوں کے خلاف بھی یہی پالیسی اختیار کی ہے۔ دوسری جانب وہ اپنے مخالف ممالک پر پہلے سے زیادہ پابندیاں عائد کر رہا ہے۔ جو ملک کبھی ترقی پذیر دنیا کو آزاد تجارت کا درس دیتا تھا، وہ آج اپنے ہاں ریاستی نگرانی میں تجارت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ پھر پاکستان سے یہ توقع کیوں کی جا رہی ہے کہ وہ اپنی ضروری اشیا کی منڈیاں اس طرح کھول دے جیسے آزاد تجارت پر پرانا عالمی اتفاقِ رائے آج بھی برقرار ہو؟
اب یورپ کو دیکھیے۔ یورپی یونین اب پہلے جیسی معاشی طاقت نہیں رہی۔ روس کے ساتھ اس کی دیرینہ مخاصمت اب اس کے بجٹ کی ترجیحات کا تعین کر رہی ہے۔ محدود مالی وسائل صحت، تعلیم اور پیداواری صنعتوں کے بجائے فوجی سازوسامان پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔ اس کے اثرات یورپی شہروں کی سڑکوں پر بھی دکھائی دیتے ہیں۔ کئی دارالحکومتوں میں احتجاج اور بے چینی عام ہو چکی ہے، جہاں شہری سوال اٹھا رہے ہیں کہ روٹی کے مقابلے میں ہتھیاروں کو ترجیح کیوں دی جا رہی ہے۔
یورپی یونین نے یوکرین کے لیے مزید ۷۰ ارب یورو قرض بھی حاصل کیا ہے۔ اس فیصلے کے پیچھے بظاہر یہ مفروضہ کارفرما ہے کہ روس جنگ ہار جائے گا اور اس کے اخراجات ادا کرے گا۔ لیکن زمینی حقائق کچھ اور بتاتے ہیں۔ آج سنجیدہ مبصرین میں بہت کم ایسے ہیں جو یہ توقع رکھتے ہوں کہ ماسکو اپنی شکست کی قیمت ادا کرنے پر آمادہ ہو جائے گا۔ گویا یورپ ایک ایسی فتح کی امید پر قرض لے رہا ہے جس کا حصول یقینی نہیں، بلکہ مصنف کے نزدیک اس کے امکانات نہایت محدود ہیں۔
پھر قرضوں کا مسئلہ ہے۔ مغربی ممالک قرضوں کے ایسے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں جو عالمی قیادت کے ان کے دعوے کو کمزور کرتا ہے۔ کئی دہائیوں تک پیٹرو ڈالر کے نظام نے اس بوجھ کو سنبھالنے میں مدد دی۔ خلیجی ممالک تیل کی فروخت سے ڈالر کماتے اور انہیں امریکی حکومتی بانڈز میں سرمایہ کاری کے ذریعے واپس امریکی مالیاتی نظام میں لگا دیتے تھے۔ اس انتظام نے واشنگٹن کو غیر معمولی طور پر کم لاگت پر قرض حاصل کرنے کی سہولت فراہم کی۔ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازعے نے، مصنف کے خیال میں، اس دور کی بنیادیں ہلا دی ہیں۔ مغربی طاقت کو سہارا دینے والے سستے سرمائے کی مسلسل دستیابی کو اب یقینی نہیں سمجھا جا سکتا۔
عالمی نظام ہماری آنکھوں کے سامنے تبدیل ہو رہا ہے۔ لیکن عالمی بینک اور دیگر کثیرالجہتی مالیاتی ادارے اب بھی پاکستان جیسے مقروض ممالک پر ایسی شرائط نافذ کرنے پر اصرار کر رہے ہیں جو ایک مختلف دور کے لیے تیار کی گئی تھیں۔ یہ رویہ سمجھنا مشکل ہے۔ اس سے بھی زیادہ ناقابلِ قبول بات مذاکرات کی میز پر ہمارے اپنے نمائندوں کی خاموشی ہے۔ بظاہر پاکستان کی طرف سے مذاکرات کرنے والے ان شرائط پر کوئی بنیادی سوال ہی نہیں اٹھاتے۔ وہ دستخط کرتے ہیں، سر ہلاتے ہیں اور واپس آ جاتے ہیں۔
گندم اور چینی سے متعلق شرط ہی کو لے لیجیے۔ ایکسپورٹ/امپورٹ آرڈر ۲۰۲۲ء حکومت کو ان دونوں ضروری اشیا کی طلب پر نظر رکھنے اور قلت یا اضافی پیداوار کی صورت میں مداخلت کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ یہ غذائی تحفظ کا ایک انتظامی ذریعہ ہے۔ نجی شعبے کی شرکت بڑھانے کے نام پر گندم اور چینی کو اس آرڈر سے نکالنے کا مطلب یہ ہوگا کہ ریاست ایک ایسے وقت میں صورتِ حال پر نظر رکھنے کی صلاحیت کھو دے جب اسے سب سے زیادہ باخبر رہنے کی ضرورت ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہماری اپنی حکومتوں کی کارکردگی کا دفاع کیا جا رہا ہے۔ ماضی اور حال کی حکومتیں بار بار یہ درست اندازہ لگانے میں ناکام رہی ہیں کہ کسی شے کی واقعی قلت ہے یا نہیں۔ ایسی اضافی پیداوار کے نام پر برآمدی سبسڈی دی گئی جو حقیقت میں موجود ہی نہیں تھی۔ چند ماہ بعد اسی شے کو اس قیمت سے زیادہ نرخ پر درآمد کرنا پڑا جو نجی شعبے نے برآمدات سے حاصل کی تھی۔ عوام نے دو مرتبہ قیمت ادا کی، جبکہ برآمد کنندگان نے ایک مرتبہ فائدہ اٹھایا۔ یہ ناکامی حقیقی ہے اور اسے درست کرنا ضروری ہے۔ لیکن ناقص نگرانی کا علاج نگرانی کو بہتر بنانا ہے، اسے مکمل طور پر ختم کر دینا نہیں۔
اس سے بھی گہرا مسئلہ موجود ہے۔ پاکستان میں حقیقی آزاد منڈی نہیں بلکہ ایسی منڈی ہے جس پر بااثر اشرافیہ کا قبضہ ہے۔ طاقتور تجارتی تنظیمیں اپنے ارکان کے منافع کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کے لیے منظم ہیں اور اپنے سیاسی اثر و رسوخ سے حکومتی پالیسیوں کو اپنے حق میں موڑتی ہیں۔ حتیٰ کہ جلد خراب ہونے والی زرعی اجناس کی قیمتیں بھی کسان مقرر نہیں کرتے بلکہ آڑھتی طے کرتے ہیں، جو منڈی میں چھوٹے پیمانے کے طاقتور اجارہ داروں کی طرح کام کرتے ہیں۔ ایسی منڈی کو گندم، چینی اور یوریا پر مزید اختیار دینا معاشی آزادی نہیں، بلکہ ریاستی اختیار سے دست برداری ہے۔
ایڈم اسمتھ نے خود خبردار کیا تھا کہ ایک ہی کاروبار سے تعلق رکھنے والے لوگ شاذ ہی کسی اجتماع میں ملتے ہیں جس کا اختتام عوام کے خلاف کسی سازباز پر نہ ہو۔ عالمی بینک کو آزاد منڈی کے نظریے کے اس اہم مفکر کی تنبیہ یاد رکھنی چاہیے۔ منڈیاں اسی وقت مؤثر انداز میں کام کرتی ہیں جب ان میں حقیقی مسابقت موجود ہو۔ جہاں کارٹیل اور اجارہ دار گروہ غالب ہوں، وہاں ضابطوں کا خاتمہ محض ریاست سے اختیار چھین کر نجی شعبے کے طاقتور ترین عناصر کے حوالے کر دیتا ہے۔
سرمایہ کاری کی راہ میں ضابطہ جاتی رکاوٹیں ختم کرنے کا عالمی بینک کا مطالبہ ان اقدامات کو بھی نظر انداز کرتا ہے جو پاکستان پہلے ہی کر چکا ہے۔ ۲۰۲۳ء کے وسط میں اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل قائم کی گئی تھی۔ اس کا ڈھانچہ اعلیٰ ترین حکومتی سطح کے ساتھ اہم معاشی شعبوں تک پھیلا ہوا ہے۔ اس ادارے کا مقصد سرمایہ کاری میں سہولت فراہم کرنا، بیوروکریسی کی رکاوٹیں دور کرنا اور سلامتی سے متعلق خدشات کا حل نکالنا ہے۔ اب تک اس کی کامیابی محدود رہی ہے، اور اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے۔ لیکن یہ ادارہ موجود ہے اور معاشی ترقی میں تیزی آنے کے ساتھ اس کا کردار مزید اہم ہو سکتا ہے۔ کوئی قرض دینے والا ادارہ اگر ایسے انتظام کو نظر انداز کرتا ہے تو وہ پاکستان کے موجودہ حالات کو سمجھنے کے بجائے پرانے نسخے دہرا رہا ہے۔
کثیرالجہتی مالیاتی اداروں کو بھی ان اصولوں پر عمل کرنا چاہیے جن کی وہ دوسروں کو تلقین کرتے ہیں۔ وہ قرض لینے والے ممالک سے حکمرانی کے نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہیں، تو انہیں اپنے اداروں میں بھی اصلاحات کرنی چاہییں۔ واشنگٹن کنسینسس کے دور کی سوچ کے مطابق تربیت پانے والے عملے کو بدلتے ہوئے عالمی نظام کو سمجھنے کے لیے نئی تربیت دی جائے۔ بصورتِ دیگر انہیں قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی پیشکش کی جائے تاکہ ان کی جگہ ایسے افراد کام کر سکیں جو آج کی دنیا کے حقائق کو سمجھتے ہوں۔ ان لوگوں کی تیار کردہ شرائط، جو عالمی تبدیلیوں کا ادراک ہی نہیں رکھتے، ناکامی کے سوا کچھ نہیں دیں گی۔
پاکستان کو بھی اپنا رویہ بدلنا ہوگا۔ ہمارے مذاکرات کار محض ایسے کلرک نہیں ہو سکتے جو میز پر رکھی گئی ہر شرط قبول کرکے وطن واپس آ جائیں۔ انہیں عالمی طاقت کے بدلتے ہوئے توازن، پرانے تصورات کی کمزور ہوتی بنیادوں اور ان تبدیلیوں سے ۲۴ کروڑ آبادی والے ملک کو حاصل ہونے والی مذاکراتی گنجائش کو سمجھنا ہوگا۔ انہیں حالات کا رخ پہچاننے اور مذاکرات کی میز پر اپنا مؤقف واضح طور پر پیش کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیے۔
اس لیے بنیادی سوال بہت سادہ ہے۔ اصلاحات کس کے لیے کی جا رہی ہیں؟ اگر ان کا مقصد صرف قرض دینے والے ادارے کو مطمئن کرنا ہے تو پاکستان کو ایسی شرائط قبول نہیں کرنی چاہییں۔ لیکن اگر مقصد شہری کی روٹی، اس کے لیے چینی کی قیمت اور اس کے کھیت کے لیے کھاد کی دستیابی ہے تو پھر ہمیں پوری سمجھ بوجھ اور کھلی آنکھوں کے ساتھ مذاکرات کرنے چاہییں۔ دنیا بدل چکی ہے۔ اس کے ساتھ ہمارے مذاکرات کا انداز بھی بدلنا چاہیے۔
ریپبلک پالیسی تھنک ٹینک کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتب، جن میں اہم تصنیف ’’دی بیوروکریٹک کو‘‘ بھی شامل ہے، پاکستان بھر میں وینگارڈ بکس، لبرٹی بکس، ریڈنگز، کتاب سرائے، سنگِ میل، سعید بک بینک اسلام آباد، نیشنل بک فاؤنڈیشن اور دیگر معروف کتب فروش اداروں سے دستیاب ہیں۔ گھر بیٹھے کتب منگوانے کے لیے رابطہ کریں: 0341-4222501 (واٹس ایپ)۔









