بلاگ تلاش کریں۔

مشورہ

ایل پی جی کی قیمتیں سرکاری نرخ سے دوگنی سے بھی تجاوز کر گئیں، قلت میں شدت

[post-views]
[post-views]

اوگرا نے نومبر کے لیے مائع پیٹرولیم گیس کی سرکاری قیمت میں 14 روپے 73 پیسے فی کلوگرام اضافہ کر دیا، جبکہ کھلی منڈی میں قیمت 630 روپے تک پہنچ گئی۔ صنعت سے وابستہ تنظیموں نے رسد میں خلل کا انتباہ دیتے ہوئے مجوزہ پالیسی کے خلاف 16 نومبر سے ہڑتال کی دھمکی دے دی۔

اسلام آباد — پاکستان کی بعض کھلی منڈیوں میں مائع پیٹرولیم گیس سرکاری نرخ سے دوگنی سے بھی زیادہ قیمت پر فروخت ہو رہی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان تنازع سے جڑی رکاوٹوں کے باعث رسد میں کمی کے ساتھ سرکاری نرخوں اور صارفین سے وصول کی جانے والی حقیقی قیمتوں کے درمیان فرق بھی بڑھتا جا رہا ہے۔

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے نومبر کے لیے مائع پیٹرولیم گیس کی سرکاری قیمت میں تقریباً 15 روپے فی کلوگرام اضافہ کیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 294 روپے 08 پیسے فی کلوگرام مقرر کی گئی ہے۔ اکتوبر میں یہی قیمت 279 روپے 34 پیسے تھی۔

نئے نرخوں کے مطابق 11.8 کلوگرام گھریلو سلنڈر کی قیمت میں 173 روپے اضافہ ہوا ہے اور اب اس کی سرکاری قیمت 3,470 روپے ہو گئی ہے۔ تاہم کھلی منڈی میں قیمتیں اس سے کہیں زیادہ ہیں۔ اطلاعات کے مطابق مائع پیٹرولیم گیس 630 روپے فی کلوگرام تک فروخت ہو رہی ہے، جبکہ کمپنیوں کے زیرِ انتظام فروخت کے مراکز پر اس کی قیمت 400 روپے فی کلوگرام تک وصول کی جا رہی ہے۔

سرکاری اور بازاری نرخوں کے درمیان یہ فرق منڈی کی نگرانی، رسد کے نظام کی کمزوریوں اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے نافذ ضوابط کی مؤثریت کے حوالے سے سوالات پیدا کرتا ہے۔ اس صورتِ حال میں وہ گھرانے بھی بڑھتے ہوئے اخراجات کا سامنا کر رہے ہیں جو اپنی روزمرہ ضروریات کے لیے مائع پیٹرولیم گیس پر انحصار کرتے ہیں۔

عالمی نرخوں کے اثرات سے سرکاری قیمت میں اضافہ

اوگرا نے اپنے اعلامیے میں قیمتوں میں اضافے کی وجہ سعودی آرامکو کے معاہداتی نرخ اور ڈالر کی شرحِ تبادلہ میں تبدیلی کو قرار دیا ہے۔ مائع پیٹرولیم گیس کی پیداواری قیمت کے تعین کے لیے ان دونوں عوامل کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔

اتھارٹی کے مطابق سعودی آرامکو کے مقرر کردہ عالمی نرخ میں گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 6.47 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ڈالر کی اوسط شرحِ تبادلہ میں معمولی کمی، یعنی 0.12 فیصد، ریکارڈ کی گئی۔ ان دونوں عوامل کے مجموعی اثر سے صارفین کے لیے قیمت میں 14 روپے 73 پیسے فی کلوگرام اضافہ ہوا۔

تاہم سرکاری قیمت میں یہ اضافہ کھلی منڈی میں وصول کیے جانے والے نرخ اور مقررہ سرکاری قیمت کے درمیان پائے جانے والے بڑے فرق کی وضاحت نہیں کرتا۔ اس فرق نے رسد کی دستیابی، تقسیم کے طریقۂ کار اور غیر معمولی قیمتوں کو روکنے کے لیے متعلقہ اداروں کی صلاحیت پر نئی توجہ مرکوز کر دی ہے۔

درآمدات پر انحصار اور رسد کے خطرات

ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین عرفان کھوکھر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ سرحد بند ہونے کے بعد صورتِ حال سنگین ہو گئی ہے۔ ان کے اندازے کے مطابق پاکستان کی مائع پیٹرولیم گیس کی تقریباً 70 فیصد ضروریات ایران سے پوری ہوتی ہیں، جبکہ باقی 30 فیصد مقامی پیداوار سے حاصل ہوتی ہیں۔

انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ منڈی میں ناجائز منافع خوری اور مصنوعی قلت پیدا کرنے کے خلاف مؤثر اقدامات کرے اور رسد کی کمی دور کرنے کے لیے فوری کارروائی کرے۔

اگر یہ تخمینہ درست ہے تو ایک ہی ذریعے سے بڑی مقدار میں رسد حاصل کرنے پر انحصار پاکستان کے لیے توانائی کے تحفظ کا ایک اہم مسئلہ بن جاتا ہے۔ جب کسی ضروری شے کی فراہمی کسی ایسے سرحدی راستے یا محدود درآمدی ذرائع سے وابستہ ہو جو جغرافیائی و سیاسی کشیدگی سے متاثر ہو سکتے ہوں، تو بیرونی رکاوٹیں تیزی سے اندرونِ ملک قلت اور قیمتوں میں بے یقینی کا سبب بن جاتی ہیں۔

مجوزہ پالیسی پر صنعت کی ہڑتال کی دھمکی

حکومت کی مجوزہ مائع پیٹرولیم گیس پالیسی پر ایک الگ تنازع بھی سامنے آیا ہے۔ فروخت اور ترسیل سے وابستہ کمپنیوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر نئی پالیسی میں نجی شعبے کو شامل نہ کیا گیا تو وہ 16 نومبر سے اپنا کاروبار بند کر سکتی ہیں۔

پاکستان ایل پی جی مارکیٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین علی حیدر نے کہا ہے کہ اگر حکومت مجوزہ پالیسی پر عمل درآمد کرتی ہے تو صنعت سے وابستہ ادارے ہڑتال کریں گے۔ ان کے مطابق حکومت کو اس شعبے میں نجی شعبے کی شمولیت اور موجودہ آزاد منڈی کے نظام کو ختم کرنے کے بجائے اسے برقرار رکھنا چاہیے، کیونکہ نجی کمپنیاں گیس کی درآمد میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

حیدر کے مطابق پاکستان نے خلیجی ممالک سے تقریباً 225,000 ٹن مائع پیٹرولیم گیس درآمد کی، جبکہ ملک کی مجموعی کھپت یا رسد تقریباً 1.3 ملین ٹن رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان درآمدات کا بڑا حصہ نجی شعبے کی کمپنیوں نے فراہم کیا۔

انہوں نے رسد برقرار رکھنے میں سرکاری اداروں کے کردار پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کے مطابق پورٹ قاسم پر واقع پروگیس ٹرمینل سوئی سدرن گیس کمپنی کے کنٹرول میں ہے، جس نے تقریباً سات ماہ قبل مائع پیٹرولیم گیس درآمد کی تھی۔

ایسوسی ایشن نے وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک کو خط لکھ کر دعویٰ کیا ہے کہ وزیرِاعظم کو بھیجی گئی مجوزہ پالیسی نجی شعبے کے متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بغیر تیار کی گئی۔ ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ اس شعبے کو مکمل طور پر آزاد منڈی کے اصولوں کے تحت کام کرنے دیا جائے۔

ریاستی کردار اور محصولات کے استعمال پر اختلاف

پالیسی سے متعلق اختلاف کا ایک اہم پہلو 2016 کی مائع پیٹرولیم گیس پالیسی کے تحت عائد کردہ پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی بھی ہے۔ مارکیٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق اس پالیسی کے تحت مقامی طور پر پیدا ہونے والی گیس پر 4,669 روپے فی ٹن محصول عائد کیا گیا تھا، جس کا مقصد پاکستان اسٹیٹ آئل، پاکستان ریفائنری لمیٹڈ اور سوئی سدرن گیس کمپنی سمیت سرکاری اداروں کی جانب سے درآمد کی جانے والی گیس کو مالی معاونت فراہم کرنا تھا، بالخصوص سردیوں اور ہنگامی حالات میں۔

حیدر نے الزام عائد کیا کہ اس محصول کے ذریعے اربوں روپے جمع کیے جانے کے باوجود سرکاری کمپنیاں موجودہ قلت کے دوران ضرورت کے مطابق مائع پیٹرولیم گیس درآمد کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ تاہم یہ صنعت سے وابستہ نمائندوں کا الزام ہے، جس کی تصدیق کے لیے سرکاری درآمدات، خریداری اور محصول کی وصولی سے متعلق ریکارڈ کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

دونوں فریقوں کے مؤقف سے ایک بنیادی پالیسی سوال سامنے آتا ہے: پاکستان ایک اہم توانائی کے شعبے میں نجی شعبے کی شمولیت، ہنگامی حالات میں سرکاری اداروں کی ذمہ داری اور صارفین کے تحفظ کے درمیان توازن کیسے قائم کرے؟

حکمرانی کا وسیع تر چیلنج

مائع پیٹرولیم گیس کی موجودہ صورتِ حال یہ واضح کرتی ہے کہ کسی شے کی سرکاری قیمت مقرر کر دینا اور صارفین کو اسی قیمت پر اس کی دستیابی یقینی بنانا دو الگ امور ہیں۔ مؤثر نگرانی کے لیے محض وقتاً فوقتاً نرخوں میں ردوبدل کافی نہیں۔ اس کے لیے رسد سے متعلق شفاف معلومات، تقسیم کے نظام کی نگرانی، غیر قانونی طور پر زائد قیمت وصول کرنے والوں کے خلاف کارروائی اور ہنگامی حالات میں درآمدات کی واضح ذمہ داری بھی ضروری ہے۔

حکومت کو یہ بھی واضح کرنا ہوگا کہ مجوزہ پالیسی میں نجی شعبے سے وابستہ اداروں کے لیے کیا گنجائش رکھی گئی ہے اور سرکاری کمپنیوں کی ذمہ داریاں کیا ہوں گی۔ اس شعبے میں کسی بھی قسم کی تبدیلی قابلِ اعتماد اعداد و شمار، شفاف مشاورت اور ہنگامی حالات میں ریاست کی مداخلت کی صلاحیت کے واضح جائزے کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔

مائع پیٹرولیم گیس پر انحصار کرنے والے گھرانوں کے لیے فوری مسئلہ اس کی قیمت اور دستیابی ہے۔ پالیسی سازوں کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ رسد میں عارضی رکاوٹ کو ایک طویل منڈی اور حکمرانی کے بحران میں تبدیل ہونے سے کیسے روکا جائے۔

ماخذ: ڈان۔ منڈی میں قیمتوں، درآمدات پر انحصار کے تخمینوں اور سرکاری اداروں سے متعلق الزامات کو صنعت کے نمائندوں سے منسوب کیا گیا ہے۔ فراہم کردہ خبر میں ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق شامل نہیں۔


تصویری خبر: رسد کی قلت کے دوران مائع پیٹرولیم گیس کی قیمتوں میں اضافہ

سلائیڈ 1 — مائع پیٹرولیم گیس سرکاری نرخ سے دوگنی قیمت پر

سرکاری قیمت 294 روپے فی کلوگرام ہے، جبکہ اطلاعات کے مطابق کھلی منڈی میں نرخ 630 روپے تک پہنچ گئے ہیں۔

سلائیڈ 2 — نومبر کے لیے سرکاری قیمت میں اضافہ

اوگرا نے فی کلوگرام قیمت میں 14 روپے 73 پیسے اضافہ کیا۔ 11.8 کلوگرام گھریلو سلنڈر کی سرکاری قیمت اب 3,470 روپے ہے۔

سلائیڈ 3 — ایران کے ساتھ سرحدی بندش سے رسد کے خدشات

صنعتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ پاکستان مائع پیٹرولیم گیس کے لیے بڑی حد تک ایران سے حاصل ہونے والی رسد پر انحصار کرتا ہے، جس کے باعث سرحدی رکاوٹیں فراہمی کو متاثر کر سکتی ہیں۔

سلائیڈ 4 — نجی شعبے کی ہڑتال کی دھمکی

مائع پیٹرولیم گیس کی فروخت سے وابستہ کمپنیاں حکومتی مجوزہ پالیسی کے خلاف 16 نومبر سے کاروبار معطل کرنے کی دھمکی دے رہی ہیں۔

سلائیڈ 5 — آزاد منڈی کے نظام پر اختلاف

صنعت سے وابستہ نمائندے نجی شعبے کی شمولیت برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں اور موجودہ آزاد منڈی کے نظام کو ختم کرنے کی مخالفت کر رہے ہیں۔

سلائیڈ 6 — پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی پر سوالات

مارکیٹرز کا الزام ہے کہ اس محصول سے جمع ہونے والے اربوں روپے کے باوجود سرکاری ادارے ہنگامی حالات میں مناسب مقدار میں گیس درآمد نہیں کر سکے۔

سلائیڈ 7 — حکمرانی کا بنیادی سوال

کیا حکومت سستی اور مسلسل رسد یقینی بنا سکتی ہے، منڈی میں ناجائز منافع خوری روک سکتی ہے اور سرکاری و نجی اداروں کی ذمہ داریاں واضح کر سکتی ہے؟

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]