غربت، معاشی عدم تحفظ اور پاکستان: ہمیں دولت کی تخلیق کا راستہ اختیار کرنا ہوگا

[post-views]
[post-views]

پاکستان میں غربت کی شرح چالیس فیصد کے قریب بتائی جاتی ہے۔ بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے اور معاشرے کا ایک بڑا طبقہ اپنی بنیادی معاشی ضروریات پوری کرنے کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں اگر کسی اجتماع میں ایک گاڑی، چند موٹر سائیکلیں اور نقد انعامات تقسیم کرنے کا اعلان کیا جائے تو ہزاروں افراد کا وہاں جمع ہو جانا کوئی حیرت کی بات نہیں۔ اس رجحان کو محض عوام کی کم علمی، غیر سنجیدگی یا شعور کی کمی قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے پیچھے موجود بنیادی معاشی حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے، اور وہ حقیقت غربت اور معاشی عدم تحفظ ہے۔

ہم اکثر ایسے اجتماعات میں لوگوں کے رویوں پر تنقید کرتے ہیں۔ کوئی مفت کھانے کے حصول کے لیے بے تاب دکھائی دیتا ہے، کوئی انعام جیتنے کے لیے غیر معمولی جوش کا مظاہرہ کرتا ہے، جبکہ بہت سے لوگ معمولی مالی فائدے کی امید میں گھنٹوں انتظار کرنے کو تیار ہوتے ہیں۔ لیکن ہم شاذ ہی یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ آخر وہ کون سے معاشی حالات ہیں جنہوں نے لوگوں کو اس مقام تک پہنچا دیا ہے؟ جس شخص کو اگلے کھانے، بچوں کی ضروریات، علاج، تعلیم اور روزگار کے بارے میں یقین نہ ہو، اس کے لیے ایک گاڑی، موٹر سائیکل یا نقد انعام محض تفریح نہیں بلکہ معاشی تحفظ حاصل کرنے کا ایک ممکنہ موقع بن جاتا ہے۔

یہ رویے دراصل غربت کے شعوری اور لاشعوری اثرات کی عکاسی کرتے ہیں۔ معاشی عدم تحفظ انسان کی ترجیحات، نفسیات، سماجی رویوں اور اجتماعی طرزِ عمل کو بدل دیتا ہے۔ جب معاشرے کا ایک بڑا حصہ روزمرہ ضروریات پوری کرنے کی فکر میں مبتلا ہو تو اس سے اجتماعی وقار، سماجی اعتماد اور شہری ذمہ داری کے اعلیٰ معیارات کی توقع کرنا بھی ایک پیچیدہ معاملہ بن جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کو حقارت کی نظر سے دیکھنے کے بجائے ان حالات کو سمجھنا چاہیے جنہوں نے انہیں اس مقام پر پہنچایا ہے۔

اصل سوال یہ نہیں کہ ہزاروں لوگ انعامات جیتنے کی امید میں کیوں جمع ہو جاتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ریاست نے ایسے معاشی حالات کیوں پیدا ہونے دیے ہیں جہاں ایک معمولی انعام بھی ہزاروں افراد کے لیے غیر معمولی کشش رکھتا ہے؟ یہ صورتِ حال ریاست اور معاشرے، دونوں کے لیے سنجیدہ غور و فکر کا تقاضا کرتی ہے۔

ریاست اور معاشرے کی بنیادی ذمہ داریوں میں سب سے اہم یہ ہے کہ معاشی خوش حالی، روزگار اور دولت کی تخلیق کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جائے۔ کوئی ملک محض انتظامی ڈھانچوں، قوانین، نعروں، سیاسی نظریات یا فلاحی اعلانات کے ذریعے خوش حال نہیں ہو سکتا۔ خوش حالی کے لیے ضروری ہے کہ معیشت میں دولت پیدا ہو، سرمایہ کاری بڑھے، کاروبار وسعت اختیار کریں، پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو، نئی صنعتیں قائم ہوں اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔

دولت کی تخلیق کسی بھی جدید ریاست کی معاشی ترقی کی بنیادی شرط ہے۔

دنیا کی وہ قومیں جنہوں نے گزشتہ چند دہائیوں میں نمایاں معاشی ترقی کی ہے، انہوں نے دولت کی تخلیق کو اپنی قومی ترجیح بنایا ہے۔ انہوں نے کاروبار، صنعت، زراعت، تجارت، ٹیکنالوجی، تحقیق، جدت اور انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری کو ترقی کا ذریعہ بنایا۔ اپنی معیشتوں کو نئی ٹیکنالوجی، جدید پیداواری نظام اور عالمی منڈیوں کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا۔ نتیجتاً ان کی پیداواری صلاحیت بڑھی، سرمایہ جمع ہوا، روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوا اور معاشی خوش حالی معاشرے کے وسیع تر طبقات تک پہنچی۔

پاکستان کو بھی اسی بنیادی معاشی راستے کو اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

ہمیں دولت کی تخلیق کو نظریاتی، سیاسی، ثقافتی اور سماجی تعصبات سے بالاتر ہو کر سمجھنا ہوگا۔ سرمایہ کاری، کاروبار، صنعت اور تجارت کو کسی محدود نظریاتی زاویے سے دیکھنے کے بجائے ان کی معاشی افادیت، پیداواری صلاحیت اور عوامی خوش حالی میں کردار کی بنیاد پر پرکھنا چاہیے۔ دولت پیدا کرنا بذاتِ خود کوئی منفی عمل نہیں۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ دولت کس طرح پیدا ہوتی ہے، اس عمل میں کتنے لوگ شریک ہوتے ہیں، اس کے ثمرات معاشرے میں کس حد تک تقسیم ہوتے ہیں اور ریاست اس عمل کو کس طرح منصفانہ اور پائیدار بناتی ہے۔

اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ دولت کی تخلیق کے نام پر اجارہ داری، استحصال، ماحولیاتی تباہی یا معاشی ناہمواری کو قبول کر لیا جائے۔ ایک جدید جمہوری ریاست کو معاشی آزادی، مسابقت، قانون کی حکمرانی، مساوی مواقع اور سماجی تحفظ کے درمیان توازن قائم کرنا ہوتا ہے۔ ریاست کی ذمہ داری دولت پیدا کرنے کے عمل میں رکاوٹیں کھڑی کرنا نہیں بلکہ اسے وسیع، شفاف، مسابقتی اور سب کی شمولیت پر مبنی بنانا ہے۔

دولت کی تخلیق محض سرمایہ کاری حاصل کرنے یا کاروبار شروع کرنے کا نام نہیں۔ اس کے لیے فکری، ادارہ جاتی اور تکنیکی سطح پر ایک جامع تبدیلی درکار ہے۔ اس تبدیلی کا آغاز معاشی آزادی، کاروبار دوست قوانین، جائیداد کے محفوظ حقوق، مؤثر عدالتی نظام، میرٹ پر مبنی اداروں، انسانی وسائل کی ترقی اور ریاستی اداروں کی اصلاح سے ہوتا ہے۔ اس کے بعد جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، خودکار نظام، تحقیق و ترقی، ڈیجیٹل معیشت اور بلند پیداواری صلاحیت کے ذریعے معیشت کو نئی بلندیوں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔

پاکستان کو اپنی معاشی پالیسی کا مرکز دولت کی تخلیق، سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت اور روزگار کو بنانا ہوگا۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ غربت کا مستقل حل محض خیرات، راشن، عارضی امداد یا انعامات کی تقسیم میں نہیں۔ اس کا حل ایسے معاشی مواقع پیدا کرنے میں ہے جن کے ذریعے لوگ اپنی محنت، صلاحیت اور کاروباری استعداد سے خوش حالی حاصل کر سکیں۔

لوگوں کے رویوں پر تنقید کرنے سے پہلے ہمیں ان حالات کا جائزہ لینا چاہیے جنہوں نے انہیں معاشی طور پر غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ کسی معاشرے میں ہزاروں لوگوں کا ایک گاڑی یا چند موٹر سائیکلیں حاصل کرنے کی امید میں جمع ہو جانا محض ایک سماجی منظر نہیں بلکہ اس معاشرے کی معاشی حالت کا آئینہ بھی ہو سکتا ہے۔

پاکستان کو غربت کی نفسیات سے نکل کر دولت کی تخلیق پر مبنی معیشت کی طرف بڑھنا ہوگا۔

یہ تبدیلی محض معاشی پالیسی بدلنے کا نام نہیں بلکہ اس کے لیے فکری اور نظریاتی تبدیلی بھی ضروری ہے۔ ہمیں ریاست، سیاست، معاشرے، تعلیم، ٹیکنالوجی اور کاروبار کے کردار پر نئے سرے سے غور کرنا ہوگا اور انہیں ایک بنیادی سوال کے گرد منظم کرنا ہوگا: ہم دولت کیسے پیدا کریں گے، پیداواری صلاحیت کیسے بڑھائیں گے اور اپنے شہریوں کے لیے معاشی تحفظ اور خوش حالی کیسے یقینی بنائیں گے؟

جو ریاست دولت پیدا کرنے میں ناکام رہتی ہے، وہاں غربت پھیلتی ہے۔ غربت کے پھیلاؤ سے معاشی عدم تحفظ جنم لیتا ہے، اور جہاں معاشی عدم تحفظ عام ہو جائے وہاں انسانی وقار، سماجی اعتماد اور اجتماعی شعور بھی متاثر ہوتے ہیں۔

پاکستان کو اب غربت بانٹنے کی حکمتِ عملی نہیں بلکہ دولت پیدا کرنے کا ایک قومی منصوبہ درکار ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]