صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ بل پر دستخط کرنے کی تردید کر دی ہے۔
صدر عارف علوی نے اپنے ٹوئٹر پوسٹ میں کہا کہ”میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے آفیشل سیکرٹ ترمیمی بل 2023 اور پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 پر دستخط نہیں کیے کیونکہ میں ان قوانین سے متفق نہیں تھا۔ میں نے اپنے عملے سے کہا کہ وہ بغیر دستخط شدہ بلوں کو مقررہ وقت کے اندر واپس کر دیں تاکہ انہیں غیر موثر بنایا جا سکے۔ میں نے ان سے کئی بار تصدیق کی کہ آیا وہ واپس جا چکے ہیں اور مجھے یقین دلایا گیا کہ وہ جا چکے ہیں۔ تاہم مجھے آج پتہ چلا کہ میرا عملہ میری مرضی اور حکم کے خلاف گیا۔ اللہ سب جانتا ہے، وہ انشاء اللہ معاف کر دے گا۔ لیکن میں ان لوگوں سے معافی مانگتا ہوں جو اس سے متاثر ہوں گے“۔
دوسری جانب نگراں وزارت قانون نے اپنے بیان میں کہا کہ صدر مملکت ”اپنے اعمال کی ذمہ داری خود لیں“۔
Don’t forget to Subscribe our Youtube Channel & Press Bell Icon.
تاہم اس سلسلے میں ابھی تک ایوان صدر نے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
صدر مملکت کے بارے میں کہا گیا کہ انہوں نے آفیشل سیکرٹ (ترمیمی) بل 2023 اور پاکستان آرمی (ترمیمی) بل 2023 کو ہفتے کے روز منظور کر لیا تھا، صدر کے ریمارکس کی روشنی میں ان کی موجودہ قانونی حیثیت غیر واضح ہو گئی ہے۔
دونوں بلوں کو سینیٹ اور قومی اسمبلی نے منظور کیا تھا اور چند ہفتے قبل حزب اختلاف کے تنقید کے باوجود صدر کو منظوری کے لیے بھیج دیا گیا تھا۔
صدر علوی کے بیان کے چند گھنٹے بعد، سینیٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ ایک گزٹ نوٹیفکیشن منظر عام پر آیا، جس میں کہا گیا کہ دونوں بلوں کو ”صدر کی طرف سے منظور کر لیا گیا“۔
میں اللّٰہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے آفیشل سیکرٹس ترمیمی بل 2023 اور پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 پر دستخط نہیں کیے کیونکہ میں ان قوانین سے متفق نہیں تھا۔ میں نے اپنے عملے سے کہا کہ وہ بغیر دستخط شدہ بلوں کو مقررہ وقت کے اندر واپس کر دیں تاکہ انہیں غیر موثر بنایا جا سکے۔…
— Dr. Arif Alvi (@ArifAlvi) August 20, 2023








