نگراں حکومت نے پاکستان بھر میں گیس کے نرخوں میں اضافہ کر دیا۔
ذرائع کے مطابق، محفوظ صارفین کے لیے 100 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو اضافہ ہوگا، جب کہ غیر محفوظ صارفین کے لیے 300 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کا زیادہ اضافہ ہوگا۔
ذرائع کے مطابق اسی طرح گیس کے کمرشل صارفین کو بھی 900 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کی قیمتوں میں خاطر خواہ اضافے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
سی این جی سیکٹرکو بھی اس ایڈجسٹمنٹ سے چھوٹ نہیں ہے، ذرائع کے مطابق 170 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہے۔ مزید برآں، کھاد بنانے والی فیکٹریوں کو گیس کے نرخوں میں معمولی اضافہ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
کابینہ کا ای سی سی اجلاس اسلام آباد میں ہوا جس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مقامی سطح پر آٹو سیکٹر کی تیاری اور گاڑیوں کی اسمبلنگ کے لیے سیلز ٹیکس میں اضافے کی تجویز پیش کی۔
Don’t forget to subscribe our Youtube Channel & Press Bell Icon.
تفصیلی بحث کے بعد ای سی سی کابینہ نے مقامی طور پر تیار اور اسمبل شدہ گاڑیوں پر 25 فیصد سیلز ٹیکس کی شرح کے تعین کے عمل کی منظوری دی۔
اس منظور شدہ تجویز کے تحت 40 لاکھ روپے مالیت کی گاڑیوں یا 1400سی سی انجن والی گاڑیوں پر 25 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا جائے گا، اسی دوران آئندہ بجٹ میں بھی یہی ٹیکس عائد کیے جانے کی توقع ہے۔
چودہ سو سی سی گاڑیوں پر 25 فیصد سیلز ٹیکس کے نفاذ سے قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔













