Premium Content

Add

افسران کی اقسام (حصہ دوم)

Print Friendly, PDF & Email

تحریر: ڈاکٹر محمد کلیم

:لیڈیز افسر

آج تک نسوانی حسن مردوں کے دلوں پر راج کرتا آیا ہے۔ اردو غزل محبوبہ کے حسن کی کہانیوں سے بھری ہوتی ہے۔ عورت کا راج گھر میں بھی مسلم ہے۔ ہوم منسٹر کی اجازت کے بغیر کوئی پرندہ گھر میں پر بھی نہیں مار سکتا ہے۔ سیاست ہو کہ سول سروس اب ہر جگہ لیڈیز چھائی ہوئی ہیں۔ ہم بھی عورتوں کے حقوق کے علمبردار ہیں اور عورت کے سماجی اور معاشی حقوق کے قائل ہیں۔ لیکن جب لیڈیز افسر بن کر آتی ہیں تو بہت دلچسپ صورتحال پیدا ہوتی ہے۔ ہم اس کا آنکھوں دیکھا حال اور کانوں سنی کہانی سنانا چاہتے ہیں۔

لیڈیز افسر کی سب سے پہلی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ جب بھی اپنے دفتر تشریف لاتی ہیں اگر شادی شدہ ہوں تو اپنے خاوند کو ساتھ لاتی ہیں۔ اگر غیر شادی شدہ ہوں تو بھائی کا تحفہ ورثہ میں دفتر والوں کو ضرور ملتا ہے۔ اس طرح ملازمین کو بہت فائدہ ہوتا ہے۔ جیسا کہ آپ نے سنا ہو گا ایک کے ساتھ ایک فری۔ اس طرح دو افسر ایک وقت میں دفتر پر قابض ہو جاتے ہیں۔ ایسی صورت حال پیدا ہوتی ہے کہ ملازمین کو سمجھ نہیں آتی کہ اصل افسر کون ہے؟ مثل مشہور ہے دو ملاؤں میں مرغی حرام۔

دوسری خوبی جو لیڈیز آفیسرز میں دیکھنے میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ ان کے دفتر زیادہ تر خالی رہتے ہیں۔ اور وہ اپنی ماں یا بہن سے فون پر اپنے دکھ بیان کرنے میں وقت گزار دیتی ہیں۔ کسی بھی سائل کو دفتر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوتی۔ سائل دفتر کے چکر لگا لگا کر تھک جاتے ہیں لیکن افسر صاحبہ سے ملاقات نہیں ہو پاتی۔ اگر سائل کو موقع مل جائے تو بہت زیادہ کم وقت میں دفتر سے باہر نکال دیا جاتا ہے۔ لیڈیز افسر سے ملاقات کرنے کا طریقہ یہ ہے نظریں نیچے ہونی چاہیں اور مودبانہ انداز میں گفتگو کرنا ضروری ہے۔ ایک بات آج تک سمجھ نہیں آئی جب نظر بھر کر دیکھنے کی اجازت نہیں تو اتنا زیادہ میک اپ تھوپنے کی ضرورت کیا ہے؟

تیسری خوبی یہ ہے کہ لیڈیز آفیسرز زیادہ تر چھٹی پر رہتی ہیں، بیمار بہت جلد ہو جاتی ہیں اور صاحب اولاد ہوں تو ان کے بچے بھی اکثر بیمار رہتے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دوران سروس اکثر مرد جہان فانی سے کوچ کر جاتے ہیں اور لیڈیز آفیسرز اپنا وقت مدت پورا کر کے 20 سال تک پنشن بھی وصول کرتی ہیں۔ اگر آپ کے اردگرد کوئی لیڈیز آفیسرز کام کر رہی ہیں تو احتیاط ضروری ہے کیونکہ زیادہ تر ان کا کام آپ کو کرنا پڑے گا۔ ان کی شکایتیں بھی سننا پڑیں گی۔ اکثر وہ کہتی نظر آئیں گی ہم کام بہت کرتی ہیں۔

مزید پڑھیں: https://republicpolicy.com/afsrun-ki-aqsam/

:ریٹائرڈ افسران

ریٹائرمنٹ ایک ایسی لعنت ہے جس سے ہر آفیسر زندگی بھر بچنا چاہتا ہے لیکن اس سے بچنے کے لیے موت کا آنا وقت ریٹائرمنٹ سے پہلے ضروری ہے۔ مگر زندگی تو سب کو پیاری ہوتی ہے تو طوعاً کرہاً اس کو قبول کر لیا جاتا ہے۔ چند آفیسرز لیکن اپنا بندوبست پہلے کر لیتے ہیں وہ کنٹریکٹ پر پھر بھرتی ہو جاتے ہیں۔ آخر ان کو خدمت خلق کرنے کا شوق جو بہت ہوتا ہے۔ اکثر کنٹریکٹ ان کو ملتا ہے جو دوران سروس اپنے سیاسی سربراہ کو خوش کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ یہ اپنے تن من دھن کی بازی لگا دیتے ہیں کہ سیاستدان خوش ہو جائیں۔ ان کی زبان سے نہ کا لفظ حذف ہو جاتا ہے مگر صرف ان کے لیے۔ عوام کے لیے ہاں کا لفظ حذف کر لیتے ہیں۔ انہی راہوں پر چلتے چلتے وہ کامیابی کی سیڑھی چڑھتے جاتے ہیں۔

لیکن زیادہ تر آفیسرز ریٹائرمنٹ کے بعد گھر پر بیٹھ جاتے ہیں۔ اب تمام جونیئر آفیسرز ان کے بچوں کی طرح بن جاتے ہیں جنہیں ساری سروس کے دوران سخت سست اور نالائق گردانتے رہے تھے۔ اب پیارے اور دل کے قریب جگہ پاتے ہیں۔ اب ان کا بیشتر وقت دفتروں کے چکر لگانے اور پنشن کے کاغذ بنوانے میں گزرتا ہے۔ ریٹائرڈ افسر کو ہمارے ہاں کوئی منہ نہیں لگاتا وہ جہاں سے گزرتا ہے لوگ وہاں سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ فرماتے ہیں کیسا منحوس ہے ریٹائر منٹ کے بعد بھی دفتر کا پیچھا نہیں چھوڑا۔

کئی ریٹائرڈ آفیسرز کے دل میں خدمت خلق کا شوق جاگ اٹھتا ہے جو دوران سروس اپنی ذاتی مجبوریوں کے تحت دباکر رکھا تھا۔ اب وہ ایدھی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے انسانی حقوق و فلاح کی تنظیم بنا لیتے ہیں۔ جونیئر کو منت کر کے اس کے لیے چندہ اکٹھا کروایا جاتا ہے اور اپنی فلاح اور بہبود میں مزید اضافہ کیا جاتا ہے۔ دیکھنے میں آیا ہے یہ رجحان ایدھی صاحب کی وفات کے بعد بہت بڑھ گیا ہے کیونکہ ایدھی صاحب کے جانے کے بعد ان کی جگہ کو پر کیا جا رہا ہے۔

:گدھا

یہ مثل تو ہم سب نے سنی ہے کہ سرکاری ملازم میں لاکھوں میں ایک کام کرتا ہے۔ باقی تو گھر داماد ہوتے ہیں۔ اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا۔ یہ باتیں سننے کے باوجود کچھ لوگ اس راستے پر چل پڑتے ہیں۔ واللہ علم ان کو خود ساری دنیا اٹھانے کا شوق ہوتا ہے یا کسی مصلحت کے تحت وہ دلدل میں گرتے چلے جاتے ہیں۔ ایک مرتبہ سرکاری ملازم گدھا بن جائے تو پھر وہ جتنا مرضی کام کر لے اس کی کمر سے بوجھ کم نہیں ہوتا ہے۔ جونیئر سٹاف میں تو گدھے آپ کو کثرت سے مل جاتے ہیں۔

مگر افسران میں گدھا تلاش کرنے کے لیے خوردبین کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ گورنمنٹ ہر ممکن کوشش کرتی ہے کہ افسران میں کوئی گدھا نہ ہو مگر نظام کو چلانے کے لیے کچھ گدھوں کی ہر سطح پر ضرورت ہوتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ کچھ گدھے افسر بن جاتے ہیں۔ اور یہی گدھے ملک کو سنبھال کر کھڑے ہیں ورنہ جتنے افسران کا اس ملک پر بوجھ ہے یہ کب کا الٹ جانا تھا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

AD-1