اسلام آباد – سول ملٹری قیادت کا آج نیشنل ایکشن پلان کی قومی اپیکس کمیٹی کے تحت اجلاس ہو رہا ہے جس میں دہشت گردی کی تازہ لہر کو مدنظر رکھا جائے گا اور بڑھتی ہوئی دہشت گردی کو کچلنے کے لیے حکمت عملی وضع کی جائے گی۔ اجلاس میں دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے آپریشن شروع کرنے کے فیصلے کا امکان ہے۔
نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ قومی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کریں گے جس میں بنیادی طور پر پاکستان بھر میں دہشت گردی کی تازہ لہر کے پس منظر پر بریفنگ دی جائے گی۔ اجلاس میں وزیر داخلہ ، آرمی چیف جنرل عاصم منیر سمیت کابینہ کے ارکان اور مختلف سکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان شرکت کریں گے۔ خفیہ ایجنسیوں کے اعلیٰ حکام مستونگ، ہن گو اور میانوالی میں ہونے والے حالیہ دہشت گردانہ حملوں کے بارے میں بریفنگ دیں گے۔
Don’t forget to Subscribe our Youtube Channel & Press Bell Icon.
اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں بلوچستان اور خیبر پختونخوا سمیت ملک کے مختلف حصوں میں مقیم غیر قانونی افغانیوں سمیت غیر قانونی غیر ملکیوں کے خلاف بھی فیصلہ متوقع ہے۔ غیر قانونی افغان شہریوں کی ایک بڑی تعداد پاکستان میں ٹی ٹی پی، داعش، آئی ایس کے پی اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ گزشتہ ماہ بلوچستان میں منشیات کے خلاف آپریشن کے دوران 500 افغان شہری بھی ایک نارکو لیبارٹری کے کمپاؤنڈ میں سکیورٹی کے فرائض سرانجام دیتے ہوئے پائے گئے۔
دریں اثنا، پاکستان کی درخواست پر افغان حکام نے مختلف افغان سرحدی علاقوں میں کریک ڈاؤن کرتے ہوئے ٹی ٹی پی کے 700 سے زائد جنگجوؤں کو گرفتار کر لیا ہے۔









