پنجاب صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور محکمہ موسمیات نے خبردارکیا ہے کہ بالائی علاقوں میں بارش کے بعد دریائے ستلج میں پانی کی سطح اگلے 24 گھنٹوں کے دوران مزید بڑھ سکتی ہے۔
دریں اثنا، سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ امدادی ٹیموں نے صوبے کے سیلاب سے متاثرہ 22 اضلاع میں 9 جولائی سے 23 اگست تک 81,136 افراد کو نکالا اور 148,284 کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔
دریائی علاقوں میں سیلاب کی وجہ سے 16 افراد جان کی بازی ہار گئے اور 36 زخمی ہوئے۔1122
پی ڈی ایم اے نے سلیمانکی ہیڈ ورکس پر دریائے ستلج میں اونچے درجے کے سیلاب کی اطلاع دی، پانی کی بہاؤ کی شرح 152,000 کیوبک فٹ فی سیکنڈ (کیوسک) تک پہنچ گئی۔
اسلام ہیڈ ورکس پر بہاؤ کی شرح 84,826 کیوسک ہے، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے اگلے 24 گھنٹوں کے دوران اس مقام پر اونچے درجے کے سیلاب کی پیش گوئی کی ہے اور مقامی انتظامیہ کو بھی الرٹ جاری کر دیا ہے۔
تاہم گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کی سطح کم ہونا شروع ہوگئی ہے، اسپل وے سے پانی کا بہاؤ 118,000 کیوسک گزر رہا ہے۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے کہا ہے کہ پنجاب کے دیگر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول پر ہے ، تاہم خبردار کیا ہے کہ اگلے تین دنوں میں دریائے جہلم میں منگلا کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے۔
پی ڈی ایم اے نے منگلا میں آج اور کل (24 اور 25 اگست) سے درمیانے درجے سے اونچے درجے کے سیلاب کی بھی پیش گوئی کی ہے۔ پی ڈی ایم اے نے مزید خبردار کیا ہے کہ اگر بھارت نے مزید پانی چھوڑا تو دریائے ستلج میں پانی کا بہاؤ دوبارہ بڑھ سکتا ہے۔
Don’t forget to Subscribe our Youtube Channel & Press Bell Icon.
پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل عمران قریشی نے بتایا کہ قصور، اوکاڑہ، پاکپتن، وہاڑی، بہاولنگر، ملتان، لودھراں اور بہاولپور کے علاقے اونچے سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ متاثرہ اضلاع میں انتظامی مشینری ہائی الرٹ ہے اور سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی مدد کر رہی ہے۔
عمران قریشی نے اوکاڑہ کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا، جاری امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا اور انتظامی حکام سے ملاقات کی۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران متعدد متاثرہ اضلاع میں 769 اہلکار تعینات کیے گئے جن میں بہاولنگر، قصور، اوکاڑہ، پاکپتن، وہاڑی، ملتان اور لودھراں شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 113 دیہات سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں، جہاں 2000 سے زائد لوگوں کو طبی سہولیات فراہم کی گئی ہیں اور 44 ریلیف کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تقریباً 1,200 افراد کو ہنگامی ٹرانسپورٹ فراہم کی گئی جبکہ سیلاب میں پھنسے 2,616 افراد کو ہنگامی بنیادوں پر بچا لیا گیا۔
مزید یہ کہ 1500 کے قریب پکا ہوا کھانا تقسیم کیا گیا جبکہ 85000 ایکڑ سے زائد اراضی سیلاب سے متاثر ہوئی ہے۔
پنجاب کے ریلیف کمشنر نبیل جاوید نے کہا کہ متاثرہ اضلاع میں سیلاب سے متعلق امدادی مراکز اور انتظامات مکمل ہیں اور لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
ادھر لاہور کے کمشنر محمد علی رندھاوا نے بتایا کہ دریائے ستلج میں تلور پوسٹ پر پانی کا موجودہ بہاؤ 118,000 کیوسک ہے۔
انہوں نے ڈپٹی کمشنر قصور ارشد بھٹی کو ہدایت کی کہ وہ کوٹھی فتح محمد، عطار سنگھ والا، باقر کی، تاتارا کامل اور تلوار پوسٹ کے فلڈ ریلیف کیمپوں کا دورہ کریں۔
مسٹر رندھاوا نے کہا کہ سیلاب زدہ علاقوں سے 40,913 افراد اور 26,600 مویشیوں کے سروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امدادی سرگرمیوں کے تیسرے مرحلے میں 26 ہزار لوگوں کو خوراک فراہم کی گئی اور کوٹھی فتح محمد میڈیکل کیمپ میں 912 افراد کو طبی امداد دی گئی جبکہ 8490 جانوروں کا علاج کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر 7,531 افراد کو 11 میڈیکل کیمپس سے طبی امداد اور ادویات فراہم کی گئیں، جبکہ 1,100 افراد کا موبائل ہسپتالوں سے علاج کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ خالی کرائے گئے 15 دیہاتوں کی حفاظت کے لیے آٹھ پولیس چوکیاں قائم کی گئی ہیں اور دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔









