اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے پیر کے روز ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور انہیں جلد از جلد پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔
دفتر خارجہ کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے خطے اور عالمی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ گفتگو میں مقبوضہ مشرقی یروشلم کی بگڑتی ہوئی صورتحال بھی زیر بحث آئی۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ کو پاکستان کے جلد دورے کی دعوت دی ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون اور اہم علاقائی امور پر مزید مشاورت کی جا سکے۔
یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران نے واضح کیا ہے کہ اس کے امریکہ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے، حالانکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران مذاکرات پر آمادہ ہے اور اسی وجہ سے انہوں نے ایران پر ممکنہ بڑے حملے کا منصوبہ مؤخر کیا۔
ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اس وقت اس کی بات چیت صرف عمان کے ساتھ جاری ہے، جس میں آبنائے ہرمز کے انتظام اور کنٹرول سے متعلق تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم بحری راستہ ہے۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ ایران نے مذاکرات کی درخواست کی تھی، تاہم اب وہ مختلف بیانات دے رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز پر امریکی بحریہ کا مکمل کنٹرول ہے اور کسی بھی پیش رفت کا انحصار ممکنہ معاہدے یا ایران کی مکمل رضامندی پر ہوگا۔









