گل پلازا میں آگ لگنے کے واقعے کے بعد ہونے والے خصوصی اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ جاں بحق افراد کے ورثاء میں امدادی رقم کی تقسیم کل سے شروع ہو جائے گی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گل پلازا میں آگ ایک بڑا سانحہ ہے، فائر فائٹرز اور امدادی اہلکار تین مختلف مقامات سے عمارت کے اندر داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔
کراچی میں گل پلازا کے سانحے میں اب تک 15 افراد جاں بحق اور 65 لاپتہ ہو چکے ہیں، جبکہ مراد علی شاہ نے بتایا کہ تلاش جاری ہے اور کوشش ہے کہ لاپتہ افراد کا سراغ لگایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اس واقعے کی تحقیقات کے لیے کمشنر کراچی کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی جائے گی، لاہور کی فرانزک لیب سے مدد لی جائے گی اور کسی بھی غلطی پر ذمہ داروں کو سزا دی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے مزید بتایا کہ 2024 میں کراچی کی 145 عمارتوں کا فائر آڈٹ کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ گل پلازا کی آگ 33 گھنٹے بعد مکمل طور پر بجھائی گئی، جس کے بعد جلی ہوئی عمارت سے مزید 5 لاشیں نکالی گئی ہیں۔ اس حادثے میں اب تک 15 افراد جاں بحق اور 22 زخمی ہیں، جو زیرِ علاج ہیں۔
چیف فائر افسر کے مطابق عمارت میں کولنگ کا عمل جاری ہے، کھڑکیوں کو کاٹنے کے لیے کٹر اور دیواریں توڑنے کے لیے ہتھوڑے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
پلازا کی تیسری منزل پر کسی شخص کے پھنسے ہونے کے امکان کے پیش نظر امدادی آپریشن میں اتوار کی رات فائر فائٹرز کو عمارت کے اندر داخل ہونے میں کامیابی حاصل ہوئی۔












