Dr Bilawal Kamran
حماس کی جانب سے غزہ کی سول حکومت ایک تکنیکی اور غیر جماعتی انتظامی کمیٹی کے سپرد کرنے کی آمادگی کا اعلان بظاہر ایک سیاسی پسپائی معلوم ہوتا ہے، لیکن گہرے تجزیے سے یہ فیصلہ ایک اہم سفارتی حکمت عملی کے طور پر سامنے آتا ہے۔ تقریباً دو دہائیوں تک غزہ کا انتظام سنبھالنے کے بعد حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ کی حکمرانی غزہ کے انتظام کے لیے قائم قومی کمیٹی کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہے، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ بورڈ آف پیس کے تحت تشکیل دی گئی ایک تکنیکی انتظامی باڈی ہے۔ اس اقدام کا مقصد محض اقتدار کی منتقلی نہیں بلکہ عالمی برادری، خصوصاً امریکہ اور اسرائیل، کو اس امتحان میں ڈالنا ہے کہ آیا وہ واقعی غزہ میں پائیدار امن، سیاسی استحکام اور انسانی بحران کے خاتمے کے لیے سنجیدہ ہیں یا نہیں۔
حماس کے ترجمان کے مطابق اس فیصلے کا بنیادی مقصد اسرائیل کو یہ جواز فراہم نہ کرنا ہے کہ وہ غزہ پر اپنی فوجی کارروائیوں کو جاری رکھنے کے لیے حماس کی حکمرانی کو بہانہ بنائے۔ ان کے بقول اگر غزہ کی انتظامیہ ایک غیر سیاسی اور تکنیکی ادارے کے سپرد کر دی جاتی ہے تو اسرائیل کے پاس اس جنگ کو جاری رکھنے کے لیے کوئی اخلاقی یا سیاسی دلیل باقی نہیں رہتی۔ یہ مؤقف اس پس منظر میں مزید اہم ہو جاتا ہے کہ اکتوبر 2025 میں جنگ بندی کے باوجود غزہ میں مکمل امن قائم نہیں ہو سکا۔ مختلف بین الاقوامی اداروں اور ذرائع کے مطابق جنگ بندی کے بعد بھی اسرائیلی کارروائیوں میں ایک ہزار سے زائد فلسطینی، جن میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی ہے، جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ اس سے قبل اکتوبر 2023 میں شروع ہونے والی جنگ کے دوران ستر ہزار سے زیادہ فلسطینی شہید، تقریباً بیس لاکھ افراد بے گھر اور لاکھوں خاندان بنیادی ضروریات، خوراک، رہائش اور طبی سہولیات سے محروم ہو چکے ہیں۔
اسرائیل نے حماس کے اس اعلان کو سنجیدہ پیش رفت کے بجائے ایک سیاسی چال قرار دیا ہے۔ اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ جب تک حماس اپنے ہتھیار نہیں ڈالتی، اس وقت تک کسی بھی سیاسی انتظام کو قابلِ اعتماد نہیں سمجھا جا سکتا۔ یہی مؤقف مستقبل میں دوبارہ وسیع فوجی کارروائیوں کے لیے بنیاد بنایا جا سکتا ہے۔ تاہم یہاں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے کہ بین الاقوامی سیاست میں حسنِ نیت ثابت کرنے کی ذمہ داری ہمیشہ فلسطینیوں ہی پر کیوں عائد کی جاتی ہے؟ اگر جنگ بندی ایک دوطرفہ معاہدہ ہے تو پھر اس کی خلاف ورزی پر صرف ایک فریق کو ہی کیوں جوابدہ ٹھہرایا جاتا ہے؟ جنگ بندی کے باوجود عام شہریوں، خواتین اور بچوں کی مسلسل ہلاکتیں اس سوال کا جواب خود فراہم کرتی ہیں۔
مزید برآں مختلف تجزیاتی رپورٹس یہ ظاہر کرتی ہیں کہ جنگ بندی کے بعد بھی اسرائیل نے غزہ کے تقریباً ستر فیصد علاقے پر اپنا عملی کنٹرول برقرار رکھا ہوا ہے۔ ایسی صورت حال میں جنگ بندی کا تصور اپنی معنویت کھو دیتا ہے، کیونکہ اگر ایک فریق مسلسل عسکری برتری حاصل کرتا رہے اور دوسرا فریق مسلسل جانی و انسانی نقصان برداشت کرے تو اسے حقیقی امن نہیں بلکہ طاقت کے عدم توازن پر مبنی عارضی وقفہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ ایسی جنگ بندی نہ تنازع ختم کرتی ہے اور نہ ہی دیرپا استحکام کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔
بین الاقوامی سطح پر بھی فلسطین اور اسرائیل کے تنازع کے بارے میں اختیار کیا جانے والا رویہ اسی عدم توازن کی عکاسی کرتا ہے۔ مغربی طاقتیں اکثر حماس اور دیگر فلسطینی گروہوں سے معاہدوں کی مکمل پابندی کا مطالبہ کرتی ہیں، لیکن اسرائیل کو اپنی فوجی کارروائیوں، آبادکاری کی پالیسی، محاصرے اور طاقت کے استعمال کے معاملے میں غیر معمولی سیاسی، سفارتی اور عسکری تحفظ حاصل رہتا ہے۔ جب بھی اسرائیل اپنی کارروائیوں کو “دفاعِ نفس” کے عنوان سے پیش کرتا ہے تو عالمی سطح پر اس کے اقدامات پر تنقید نسبتاً محدود رہتی ہے، حالانکہ ان کارروائیوں کے نتیجے میں بڑی تعداد میں عام شہری، بچے، خواتین، بزرگ اور بیمار افراد متاثر ہوتے ہیں۔ ایسا احتساب جو صرف ایک فریق پر لاگو ہو اور دوسرے کو استثنا حاصل ہو، انصاف کے بنیادی اصولوں سے ہم آہنگ نہیں سمجھا جا سکتا۔
غزہ کی موجودہ صورت حال کو انسانی بحران کی بدترین مثالوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور ماہرین نے وہاں رونما ہونے والے واقعات کو نسل کشی کے الزامات سے جوڑا ہے، جبکہ انسانی جانوں کا وسیع پیمانے پر ضیاع عالمی ضمیر کے لیے ایک سنجیدہ امتحان بن چکا ہے۔ اس بحران کے تسلسل میں مغربی ممالک، بالخصوص امریکہ کی سیاسی، عسکری اور سفارتی حمایت کو بھی اہم عنصر قرار دیا جاتا ہے۔ اگر عالمی طاقتیں واقعی غزہ میں پائیدار امن کی خواہاں ہیں اور حماس سے غیر مسلح ہونے کا مطالبہ کرتی ہیں تو انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ اسرائیل پر بھی مساوی طور پر یہ شرط عائد کی جائے کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں سمیت دیگر مقبوضہ عرب علاقوں سے انخلا کرے اور بین الاقوامی قوانین کی مکمل پابندی کرے۔ یک طرفہ شرائط کسی بھی امن عمل کو دیرپا نہیں بنا سکتیں۔
اسرائیلی قیادت کے حالیہ بیانات سے یہ تاثر بھی مضبوط ہوا ہے کہ وہ غزہ کے علاوہ لبنان اور شام کے بعض مقبوضہ علاقوں پر بھی اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کی خواہاں ہے۔ اگر قبضے کو مستقل سیاسی حقیقت کے طور پر قبول کر لیا جائے اور مذاکرات کو اس کے تابع بنا دیا جائے تو بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی قراردادیں اور ریاستوں کی خودمختاری کے اصول اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں۔ ایسی حکمت عملی نہ صرف خطے میں مزید عدم استحکام پیدا کر سکتی ہے بلکہ مستقبل میں نئے تنازعات اور عسکری کشیدگی کو بھی جنم دے سکتی ہے۔
بین الاقوامی برادری کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس بحران میں متوازن، غیر جانبدار اور اصولی کردار ادا کرے۔ امن اسی وقت پائیدار ہو سکتا ہے جب دونوں فریقوں پر یکساں ذمہ داریاں عائد کی جائیں، بین الاقوامی قوانین کا بلاامتیاز نفاذ کیا جائے اور انسانی حقوق کے تحفظ کو سیاسی مفادات پر ترجیح دی جائے۔ غزہ کے عوام پہلے ہی ناقابلِ بیان انسانی مصائب برداشت کر چکے ہیں۔ انہیں ایک اور تباہ کن جنگ کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا نہ صرف اخلاقی ناکامی ہوگی بلکہ عالمی امن کے تصور کو بھی شدید نقصان پہنچائے گا۔ ایسا امن عمل جو صرف ایک فریق سے قربانی کا مطالبہ کرے، درحقیقت امن نہیں بلکہ طاقت کے عدم توازن پر مبنی سیاسی تسلیم و رضا ہے، اور تاریخ ایسے کسی بھی نظام کا فیصلہ انصاف اور انسانی وقار کے پیمانوں پر کرے گی۔
ریپبلک پالیسی تھنک ٹینک کی شہرۂ آفاق اور سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتب، جن میں نمایاں کتاب دی بیوروکریٹک کو بھی شامل ہے، وینگارڈ بکس، لبرٹی بکس، ریڈنگز، کتاب سرائے، سنگِ میل، سعید بک بینک اسلام آباد، نیشنل بک فاؤنڈیشن اور پاکستان بھر کے دیگر معروف کتب فروشوں پر دستیاب ہیں۔ گھر بیٹھے کتابیں منگوانے کے لیے رابطہ کریں: 0300-9552542۔









