اسلام آباد ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ قانونی طریقہ کار کے بغیر کسی شخص کو حراست میں لینا اغواء کے مترادف ہے۔
عدالت نے پولیس کے اختیارات سے تجاوز سے متعلق کیس میں واضح حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ قانون کے تقاضے پورے کیے بغیر کی گئی گرفتاری ناقابل قبول اور غیر قانونی عمل ہے، جسے اغواء تصور کیا جائے گا۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ ڈی آئی جی کی رپورٹ کے مطابق اس غیر قانونی اقدام میں ملوث پولیس اہلکاروں کو شوکاز نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں، اور یہ طے شدہ اصول ہے کہ جب قانونی عمل کا غلط استعمال ہو اور انصاف کے تقاضوں سے انحراف کیا جائے تو ایسی کارروائی کالعدم قرار دی جاتی ہے۔
حکمنامے میں مزید کہا گیا کہ سپریم کورٹ پہلے ہی یہ اصول طے کر چکی ہے کہ اگر ایف آئی آر کی بنیاد غیر قانونی ہو تو اس پر قائم پوری کارروائی ختم کی جانی چاہیے، تاہم عدالت عظمیٰ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ فوجداری کارروائی کو کالعدم قرار دینے کا اختیار محدود ہے اور اسے صرف غیر معمولی حالات میں استعمال کیا جانا چاہیے۔













