سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں اپنی قید کے حالات کو پاکستان کی تاریخ کی “سب سے سخت اور غیر انسانی سزا” قرار دیا ہے۔ اپنے قانونی نمائندوں کے ذریعے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں عمران خان نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کسی بھی رہنما کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا گیا جیسا وہ آج بھگت رہے ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ انہیں بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے، جن میں صاف پانی، کتب، اخبارات، ٹیلی ویژن اور اپنے بچوں سے رابطے کی سہولت شامل ہے۔ عمران خان نے مزید دعویٰ کیا کہ ان کی اہلیہ، بشریٰ بی بی، کو بھی اسی نوعیت کے غیر انسانی حالات میں قید رکھا جا رہا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی، جو مختلف مقدمات میں سزا کے بعد قید میں ہیں، نے اپنی صورتحال کا موازنہ سابق وزیراعظم نواز شریف سے کیا اور کہا کہ انہیں کرپشن کے مقدمات کے باوجود خصوصی رعایتیں دی جا رہی ہیں، جب کہ ان کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔
عمران خان نے حکومت کی جانب سے ان پر سیاسی سرگرمیوں میں پابندی عائد کرنے پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں صرف چند مخصوص افراد سے ملاقات کی اجازت ہے۔ پارٹی کے اندرونی اختلافات پر خبردار کرتے ہوئے انہوں نے پی ٹی آئی کے تمام کارکنوں سے کہا کہ وہ فوری طور پر آپسی اختلافات ختم کر کے 5 اگست کو ہونے والے احتجاج پر مکمل توجہ مرکوز کریں۔
انہوں نے واضح کیا کہ “پارٹی میں کسی بھی قسم کی گروہ بندی یا دھڑے بندی برداشت نہیں کی جائے گی، اور جو بھی اس میں ملوث پایا گیا، اسے پارٹی سے نکال دیا جائے گا۔”
عمران خان نے 8 فروری 2024 کے عام انتخابات کے بعد قائم ہونے والی حکومت کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے اسے “فارم 47 کی حکومت” قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ انتخابی نتائج میں دھاندلی کی گئی اور 26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ کی آزادی کو نقصان پہنچایا گیا۔
انہوں نے پارٹی قیادت پر زور دیا کہ وہ عوامی مینڈیٹ کا احترام کرے، اور کہا کہ اگرچہ پی ٹی آئی کے امیدوار آزاد حیثیت میں انتخابات میں شریک ہوئے، پھر بھی عوام نے انہی کو ووٹ دے کر حمایت کا اظہار کیا۔
عمران خان نے عدلیہ کی آزادی کو قومی بقا کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا،
“ہمیں عدلیہ کی آزادی کے لیے ایک بھرپور مہم کا آغاز کرنا ہوگا، کیونکہ کسی قوم کی ترقی تو درکنار، بقا بھی آزاد اور منصف عدلیہ کے بغیر ممکن نہیں۔”









