اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ یہ کارروائی ریاستی اداروں کے خلاف مبینہ طور پر گمراہ کن، بے بنیاد اور اشتعال انگیز الزامات عائد کرنے کے مقدمے میں عمل میں لائی گئی ہے، جسے عدالت نے سنگین نوعیت کا معاملہ قرار دیا۔
مقدمے کی سماعت سینئر سول جج عباس شاہ نے کی، جنہوں نے کیس کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے بعد وزیراعلیٰ کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔ عدالت نے متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی کہ سہیل آفریدی کو فوری طور پر گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے۔ اس موقع پر عدالت نے کیس کی مزید سماعت 10 فروری تک ملتوی کر دی تاکہ آئندہ پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق سہیل آفریدی کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے مقدمہ درج کر رکھا ہے۔ سماعت کے دوران سیاسی سطح پر بھی ردِعمل سامنے آیا، جہاں بیرسٹر گوہر نے مؤقف اختیار کیا کہ “جو ہمیں نقصان پہنچا رہے ہیں، ہم اُن سے مذاکرات کی بات نہیں کرتے”، جس سے معاملے کی سیاسی حساسیت مزید نمایاں ہو گئی۔










