اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے یمن کے دارالحکومت صنعاء کے مرکزی ہوائی اڈے پر فضائی حملے کیے ہیں، یہ کارروائی اُس وقت کی گئی جب ایک روز قبل یمن کے حوثی باغیوں نے اسرائیل کی جانب دو میزائل فائر کیے تھے۔
حوثی تحریک سے منسلک خبر رساں ادارے کے مطابق بدھ کے روز ہوائی اڈے کی رَن وے اوریمن کی قومی ائیرلائن کے ایک طیارے پر چار فضائی حملے کیے گئے۔
اسرائیلی وزیر دفاع، اسرائیل کاٹس نے بدھ کو کہا کہ اسرائیلی فضائیہ نے ہوائی اڈے پر حوثی “دہشت گرد اہداف” کو نشانہ بنایا اور “آخری باقی بچا طیارہ تباہ کر دیا۔”
انہوں نے مزید کہا: “یہ ایک واضح پیغام ہے اور ہماری پالیسی کا تسلسل ہے: جو بھی اسرائیل پر حملہ کرے گا، وہ بھاری قیمت چکائے گا۔”
یہ تازہ حملہ اس وقت کیا گیا جب ایک روز قبل حوثی گروہ نے اسرائیل کی جانب دو بیلسٹک میزائل داغے، جنہیں اسرائیل کے دفاعی نظام نے فضا میں ہی ناکام بنا دیا تھا۔ بعد میں حوثیوں نے ان میزائل حملوں کی تصدیق کی۔
صنعاء ایئرپورٹ، جو یمن کا سب سے بڑا ہوائی اڈہ ہے، حالیہ مرمت اور پچھلے حملوں کے بعد رَن وے کی بحالی کے بعد گزشتہ ہفتے دوبارہ فعال ہوا تھا۔
یہ ایئرپورٹ اقوامِ متحدہ کے طیاروں اور یمنیہ ایئر ویز کے واحد باقی بچنے والے مسافر طیارے کے لیے استعمال ہو رہا تھا، کیونکہ اس سے پہلے ہونے والے حملے میں تین طیارے تباہ ہو چکے تھے۔









