Premium Content

Add

کتاب اور ہم

Print Friendly, PDF & Email

مصنف: ڈاکٹر محمد کلیم

کتابوں کے ساتھ ہمارا کوئی عجیب قسم کا تعلق ہے۔ اس لیے ہم نے ان کو طاق نسیاں پر رکھا ہوا ہے۔ جیسے ہی ہم بولنا شروع کرتے ہیں ہمارا واسطہ کتاب سے پڑتا ہے اس لیے کتاب کو دیکھ کر ہم کو نیند آنا شروع ہو جاتی ہے اور اکثر و بیشتر یہ سلسلہ تمام عمر چلتا ہے۔ اس لیے لوگ اپنے آپ کو کورس کی کتابوں تک محدود کر لیتے ہیں لیکن پھر ان کو کورس کی کتابیں بھی بوجھ لگنے لگتی ہیں اور وہ یہ بوجھ بھی سر سے اتار کر پھینک دیتے ہیں اور گائیڈ خرید لیتے ہیں۔

اکثر لوگوں کو گائیڈ بھی ضرورت سے زائد معلوم ہوتی ہے اس لیے وہ مختصر ترین نوٹس یا کیپسول نوٹس استعمال کرتے ہیں اور 33 فیصد نمبر لے کر شاندار طریقے سے امتحان پاس کرتے ہیں۔ کچھ لوگ ہمارے ہاں ایسے بھی ہوتے ہیں جو نہ صرف اپنی درسی کتابیں پڑھتے ہیں بلکہ ادب، تاریخ اور سیاسیات پر بھی کتابیں پڑھتے نظر آتے ہیں۔ اب اس میں مختلف نوعیت کے لوگ موجود ہیں جو درسی کتابوں کو بوجھ محسوس کرتے ہیں اور صرف کہانیاں، ناول، افسانے اور شاعری پڑھنے کو ترجیح دیتے ہیں اور کچھ لوگ جو کہ کتابی کیڑے بھی کہلاتے ہیں وہ صرف درسی کتابیں پڑھتے ہیں اور باقی کتابوں کو فالتو جانتے ہیں کیونکہ ان کو پڑھنے اور رٹا لگانے سے امتحان میں نمبر زیادہ نہیں آتے۔

ہمارے ہاں زیادہ تر لوگ پوری زندگی میں ایک کتاب بھی نہیں پڑھتے۔ اکثر لوگ جو قرآن مجید بھی پڑھتے ہیں اس کو سمجھ نہیں پاتے کیونکہ وہ قرآن مجید کو ترجمے کے ساتھ مطالعہ نہیں کرتے۔ یہاں کتاب پڑھنے سے ہماری مراد ہے کہ اس کو سمجھنا اور اس کے بارے میں سوچ بچار کرنا ہوتا ہے اس لیے ایسے تمام لوگ آسانی سے فتویٰ دیتے ہیں اور دوسروں کو کافر قرار دے دیتے ہیں کیونکہ انہیں اس طرح بتایا گیا ہوتا ہے۔ اگر کبھی کبھار وہ قرآن کو کھول بھی لیں تو ان کا مقصد ثواب حاصل کرنا ہوتا ہے (اس میں کوئی حرج نہیں ) لیکن سمجھنا نہیں ہوتا۔

میرا اور کتابوں کا بھی تعلق مختلف رہا ہے۔ کبھی کتاب کی میرے سے دوستی ہو جاتی ہے کبھی کبھی کتاب مجھے اپنی سب سے بڑی جانی دشمن نظر آتی ہے۔ بچپن میں مجھے درسی کتابوں سے نفرت ہوا کرتی تھی اس لیے سارا سارا سال میں ان کو کھول کر بھی نہ دیکھتا اور عمرو عیار کے ساتھ پرستان کی سیر کو نکل جاتا، اڑن قالین پر بیٹھ کر کوہ قاف کی سیر کرتا اور مشکل آنے پر عمرو کی زنبیل میں چھپ کر اپنی جان بچاتا۔ جب ساتویں جماعت کا طالب علم تھا تو ہمارے گھر کے سامنے لائبریری بنی جو ایک روپیہ کے حساب سے کرائے پر کتابیں دیا کرتے تھے۔

مجھے عمران سیریز بہت پسند تھی۔ میں ساری ساری رات جاگ کر عمران سیریز پڑھتا تاکہ ایک ہی رات میں ناول ختم ہو جائے اور کرایہ زیادہ نہ دینا پڑے۔ اس سال میں نے اتنی عمران سیریز پڑھی کہ ساتویں کے سالانہ امتحان میں فیل ہوتے بال بال بچا حالانکہ میں نے تمام پیپروں میں علی عمران اکیس۔ 2 کے کارنامے لکھے تھے لیکن استادوں نے شاید پرچہ پڑھے بغیر ہی نمبر لگا دیے تھے تو میں پاس ہو گیا ورنہ فیل ہونا لازمی تھا۔ مطالعہ کی ایسی گندی عادت پڑی کہ میٹرک تک آتے آتے میں نے سارا رومانی ادب یا دوسرے الفاظ میں خواتین ڈائجسٹ پڑھ مارے تھے کیونکہ میٹرک میں فیل ہونے کا قوی امکان تھا اس لیے کچھ عرصہ کے لیے مطالعہ کو چھوڑ کر درسی کتابیں پڑھنی شروع کیں تاکہ کچھ ایسا ویسا نہ ہو لیکن دو تین مہینے کے وقفے کے بعد دوبارہ ادب کی آغوش میں پناہ لی۔

اس بار منٹو، غلام عباس، احمد ندیم قاسمی پر ہاتھ صاف کیے، انگلش ادب پڑھا، تاریخ کا مطالعہ کیا اور کرتا چلا گیا۔ اس دوران کئی دوست ملے جو میرے مطالعہ کی وجہ سے دوست بنے اور ہم سے کتابوں کے بارے میں پوچھتے رہتے۔ اکثر لوگ ایسے بھی ملے جو ہم سے کتابوں کی سمریاں / خلاصے سنا کرتے اور بعد میں لوگوں کو یہی سمریاں / خلاصے سنا کر دعویٰ کرتے کہ انہوں نے یہ کتابیں پڑھی ہوئی ہیں۔ شاید ان دوستوں کا تعلق بھی خلاصہ گروپ سے تھا جو پورا سبق نہیں پڑھتے بلکہ خلاصے پر انحصار کرتے ہیں۔

ایک مرتبہ ایک اچھے خاصے پڑھے لکھے (جن کے پاس بھاری بھر کم ڈگریاں ) تھیں مجھ پر اپنی تعلیمی اسناد کا رعب اور علم کا دبدبہ ڈال رہے تھے کہ فلاں کتاب میں انہوں نے یہ پڑھا۔ بدقسمتی سے میں نے وہ کتاب پڑھی ہوئی تھی جب میں نے تفصیل میں بات شروع کی تھی تو ان کو ایک ضروری کام یاد آ گیا اور وہ چل دیے۔ کئی لوگوں کو کتابیں جمع کرنے کا بھی شوق ہوتا ہے اور وہ کتابیں پڑھتے نہیں بلکہ اپنے ڈرائنگ روم میں سجاتے ہیں ہمارے دیرینہ دوست جام صاحب بھی اسی مرض میں مبتلا ہیں اور اپنا ڈرائنگ روم نادر اور نایاب کتابوں سے بھر رکھا ہے۔

مگر مجال ہے کہ کبھی کسی کتاب کو ہاتھ لگایا ہو یا کسی کو پڑھنے کے لیے دی ہو۔ ان کا خیال ہے کہ کتاب میں کوئی مذاق نہیں، کتاب ”اپنی اپنی“۔ میں لاکھ کوشش کے باوجود اپنا سٹڈی روم نہیں بنا سکا۔ جب کوشش کرتا ہوں اس پر گھر کا کوئی اور فرد قبضہ کر لیتا ہے اور ویسے بھی میں کافی سست واقع ہوا ہوں۔ کبھی بھی بیٹھ کر مجھ سے مطالعہ نہیں ہوتا اس لیے میں اپنے بستر پر لیٹ کر آرام سے کتاب کا مطالعہ کرتا ہوں اور اکثر مطالعہ کرتے کرتے خواب خرگوش کے مزے بھی لیتا رہتا ہوں۔

اس لیے میری کتابیں میرے سرہانے پر پڑی رہتی ہیں۔ جو کہ اکثر صفائی کے وقت وہاں سے غائب کر کے بک ریک میں پہنچ جاتی ہیں اور پھر ما بدولت ان کو نکال کر سرہانے منتقل کرتا ہے اور یہ سلسلہ ”آنا جانا“ چلتا رہتا ہے۔ ویسے تو ہمارے ہاں 99.99 % لوگ مطالعہ سے نفرت کرتے ہیں اور کتاب پڑھنے یا علم پسند انسان کو بزدل سمجھتے اور گردانتے ہیں لیکن جو لوگ 0.01 % ہیں وہ کتاب لیتے ہیں اور مطالعہ کرتے ہیں ان میں سے اکثر لوگ اس کشمکش کا شکار رہتے ہیں کہ وہ کون سی کتاب کا مطالعہ کریں۔

بازار میں کئی کتابیں دستیاب ہیں اور ہر دن کوئی نئی کتاب کا اضافہ ہو رہا ہے۔ میرا خیال ہے کہ ہر انسان کا کوئی نہ کوئی خاص مضمون ہوتا ہے یا کسی موضوع میں اس کو دلچسپی ہوتی ہے۔ بس وہیں سے آغاز کرنا چاہیے اور پھر ایک کتاب سے دوسری کتاب کا پتہ ملتا جاتا ہے۔ جیسے انسان دوست ہوتے ہیں اور ایک دوست سے دوسرے دوست بنتے جاتے ہیں اس طرح کتابیں بھی دوست ہوتی ہیں اور خود نئی کتابوں سے تعارف کراتی جاتی ہیں۔ ایک اعتراض اکثر سننے کو ملتا ہے کہ اتنی کتابیں پڑھ کر ملے گا کیا؟ کیونکہ ہم جاگیردار معاشرے میں رہتے ہیں جہاں ہر شے کا مقصد پیسے کمانا ہوتا ہے یا پھر اپنا رتبہ بڑھنا۔ چونکہ کتابیں ان دونوں میں سے کوئی کام نہیں کرتی اس لیے ان کو ہمارے ہاں بے کار ترین شے سمجھا جاتا ہے۔ لیکن میں نے کتاب کے جو فائدے سمجھے ہیں وہ درج ذیل ہیں:۔

آپ کو مختلف نظریات جاننے کا موقع ملتا ہے۔
نظریہ بنتا کیسے ہے اس کی سمجھ آ جاتی ہے۔
حقائق میں اور رائے میں کیا فرق ہوتا ہے۔
برداشت عمل اور حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔
علم سے حکمت کی طرف انسان کا سفر شروع ہوتا ہے۔
فروعی مسائل سے چھٹکارا حاصل ہوتا ہے۔

تاریخ، مستقبل اور حال کو آپس میں جوڑ سکتے ہیں اور آپ کو سمجھ آتی ہے کہ کیسے ایک واقعہ دوسرے کی طرف لے کر جاتا ہے، اس کی ابتدا کیسے ہوتی ہے۔

آپ اپنی رائے بناتے ہیں لیکن دوسروں کو ان کی رائے رکھنے کی اجازت دیتے ہیں۔

نوٹ: مجھے معلوم ہے آپ نے کتاب نہیں پڑھنی لیکن ایک کوشش کرنے میں کیا حرج ہے اور ہاں یہاں کتاب سے مراد نہ صرف کتاب ہے بلکہ آڈیو اور ای۔ کتاب بھی شامل ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

AD-1